پارلیمانی روایات کی بدترین پامالی

115

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت بہت جلدی میں ہے۔ خدشہ کس بات کا ہے؟ ابھی تو آزادی مارچ کے دھرنے کو 126 دن نہیں ہوئے۔ اس جلدی اور بوکھلاہٹ کا اظہار گزشتہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں نظر آیا جب بہت عجلت میں 10 آرڈیننسوں سمیت 11 قوانین منظور کر لیے گئے۔ یہ پورا کام صرف آدھے گھنٹے میں ہو گیا۔ ایک صاحب بل پڑھتے تھے اور ڈپٹی اسپیکر جناب قاسم سوری منظوری دیے جا رہے تھے۔ نہ کسی بل پر بحث مباحثہ اور نہ ہی انہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیجا گیا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی، جن کو اپنے پڑوسیوں پر حملہ کروانے کے جرم میں معطل بھی کیا، وہ آردیننسوں کو قانون کی شکل دینے کے لیے بل پر بل پیش کرتے رہے اور ڈپٹی چیئرمین قاسم سوری منظوری دیتے رہے۔ اپوزیشن شور مچاتی رہ گئی۔ پارلیمانی روایات بری طرح پامال کی گئیں اور تحریک انصاف کی حکومت نے ایک ایسی تاریخ رقم کر دی جو اس کے دامن کے داغوں میں نہایت بدنما اضافہ ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کوئی فیکٹری تو نہیں لگائی البتہ آرڈیننس فیکٹری ضروری بنا دی جس کا دفتر صدر مملکت کے قصر میں ہے۔ صدر عارف علوی تحریک انصاف میں شامل ہونے کے باوجود اچھی شہرت کے حامل تھے لیکن کان نمک میں جا کر خود بھی نمک ہو گئے ہیں۔ انہیں آرڈیننسوں پر دستخط کرنے میں کوئی عار نہیں ہوتی کہ انہیں صدر کے منصب پر قائم رہنا ہے۔ حیرت تو عمران خان کے ترجمانوں پر ہوتی ہے جو حکومت کے ہر غلط کام کی تائید میں بلا تکلف سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں اپنی ملازمت عزیز ہے، غلط اور صحیح سے کیا سروکار۔ غلط کام کی تائید نہ کی تو وزارت کے عیش و آرام گئے۔ ایسے میں غیرت کا کیا دخل۔ حزب اختلاف نے احتجاج کیا، ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ہی لپیٹ دیا اور حزب اختلاف منہ دیکھتی رہ گئی۔ قائم مقام اسپیکر قاسم سوری خود بھی دھاندلی کے الزام کی زد میں رہے ہیں اور ایوان میں خواجہ آصف اس پہلو کو نمایاں کرتے رہے۔ اب اپوزیشن نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کا حشر بھی سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک جیسا نہ ہو کہ پراسرار طور پر مطلوبہ ارکان کم پڑ گئے۔ حزب اختلاف کو یاد رکھنا چاہیے کہ صرف وزیراعظم ہی سلیکٹڈ نہیں ہیں، ان کے ساتھ پوری ٹیم ہے۔ عمرانی حکومت نے مہنگائی اور معیشت کی تباہی کے بعد ایک اور ریکارڈ قائم کیا اور مختصر وقت میں قانون سازی کر دکھائی۔ ن لیگ کے رہنما محمد زبیر اور خرم دستگیر نے اعلان کیا ہے کہ آئینی انحراف پر صدر مملکت کا مواخذہ کریں گے۔ لیکن ان کا کام تو صرف دستخط کرنا ہے، اس کے قانون پہلوئوں سے انہیں کیا غرض۔ بقول سینیٹر سراج الحق، نااہل حکمرانوں میں طرز حکمرانی بدلنے کی صلاحیت ہی نہیں لیکن جمہوری پارلیمانی روایات کو بدلنے کی صلاحیت تو کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مشترکہ حزب اختلاف کہتی ہے کہ حکومت نے قانون سازی کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے اور گزشتہ جمعرات کو جو کچھ ہوا وہ قومی اسمبلی کی توہین ہے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کی قانون سازی کے ’’اہم‘‘ موقع پر بھی قومی اسمبلی میں نہیں آئے۔ ان کی پوری توجہ کرتارپور راہداری اور سکھوں کی مہمان نوازی پر ہے۔وہ سابق اسمبلیوں کو جعلی اور ارکان اسمبلی کو چور، ڈاکو کہتے رہے اور اس سے فیض یاب بھی ہوتے رہے۔ اب کوئی انہیں بتائے کہ موجودہ اسمبلی میں بہت معمولی سی سہی لیکن ان کی اکثریت ہے اور وہ خود وزیراعظم ہیں۔ کرتارپور شوق سے جائیں لیکن قومی اسمبلی میں آ کر مخالفین کا سامنا بھی کریں۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں تو نہیں آئے لیکن اجلاس سے پہلے اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت ضرور کی جس میں اعلان کیا کہ سندھ حکومت ناکام ہو گئی ہے۔ یہ بات درست ہے لیکن پنجاب، خیبر پختونخوا اور خود وفاقی حکومت کے بارے میں بھی تو کچھ فرمائیں۔