چناب نگر کو کھلا شہر قرار دینا بھٹو کا کارنامہ تھا، علما کرام

31

ٹنڈو آدم (پ ر) دنیاکی کوئی طاقت ختم نبوت قانون میں تبدیلی نہیں لاسکتی، پاکستان میں مذہبی قوت مظبوط ہے، اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے جانیں نچھاور کریں گے، چناب نگر کو کھلا شہر قرار دینا بھٹو کا کارنامہ ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے امیر ممتاز عالم دین علامہ احمد میاں حمادی، علامہ محمد راشد مدنی، تنظیم تحفظ ناموس خاتم الانبیا پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی محمد طاہر مکی نے 10 اکتوبر سے چنابنگر میں ہونے والی سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے جانے والے مجاہدین ختم نبوت کے بہت بڑے قافلے سے دفتر ختم نبوت اور ٹنڈو آدم جنکشن پر خطاب کے دوران کہا ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ مسلمانوں کے لیے موت اور زندگی کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر نہ ماضی میں کوئی سمجھوتا ہوا اور نہ اب ہوسکے گا۔ عمران خان ماضی کی حکومتوں کے آگے قوت کے اعتبار سے کچھ زیادہ ہیں، مسلمانوں نے ماضی میں بھی اس مسئلے پر جانیں دی ہیں اور اب بھی تیار ہیں۔ مفتی محمد طاہر مکی نے کہا کہ چنابنگر کو کھلا شہر قرار دینا مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ تھا، ہم یہاں اب کھل کر خود کو مسلمان کہہ سکتے ہیں اور اُس وقت سے آج تک مسلسل 38ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس بھی کررہے ہیں، جس میں بلاشبہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا کردار بھی ہے۔ 1974ء سے قبل چنابنگر میں جانیوالے مسلمان کی لاش کا مطالبہ کرنا بھی جرم تھا، لیکن آج پورے ملک میں دینی قوتیں مضبوط ہیں، کوئی مائی کا لال ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی یا قادیانیوں کو کافر قرار دیے جانیوالے قانون کو ختم نہیں کرسکتا۔ مفتی طاہر مکی نے کہا کہ ہماری یہ چنابنگر میں ہونے والی ختم نبوت کانفرنس اتحاد امت کا مظہر ہوتی ہے، تمام مسلک کے مسلمان و قائدین اس کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں۔ آخر میں علامہ احمد میاں حمادی جوکہ کئی سال سے علالت کی وجہ سے اس کانفرنس میں نہیں جاسکتے نے خصوصی دعائوں کیساتھ قافلے کو روانہ کیا۔