مشیر تجارت پر تاجروں کا عدم اعتماد

188

وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان نے وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کے مفاد کے منافی مغربی مفادات کے لیے کام کررہے ہیں ۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران عبدالرزاق داؤد کے پاس پانچ قلمدان ہونے پربھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک 80 سالہ شخص کو مشیر تجارت کے عہدے پر متمکن کردیا گیا ہے اوروہ سب کاموں میں بے جا مداخلت کررہے ہیں ۔ ان کی پالیسیوں کے سبب اسٹیل ، کپاس ، آٹو سیکٹر سمیت ہر شعبے میں ترقی معکوس کا عمل جاری ہے ۔ اس موقع پر موجود کاروباری دنیا کے ایک اور رہنما ایس ایم منیر کا کہنا تھا کہ ٹیکس اہداف پورے نہیں ہورہے ہیں اور بلند شرح سود کے باعث کاروبار مشکل ہوگیا ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ہماری سنتے ضرور ہیں مگر ان کے مشیر بھی ان کی بات پر کان نہیں دھرتے ۔ پاکستان بزنس کونسل کو بنے ہوئے دس ماہ سے زاید کا عرصہ گزرچکا ہے مگر کونسل کے ذریعے بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ عبدالرزاق داؤد کو وفاقی حکومت میں قلمدان دیا گیا ہے ۔ انہیں جنرل پرویز مشرف نے بھی وزیر تجارت مقرر کیا تھا مگر ان کے مالی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد انہیں برطرف کردیا گیا تھا ۔ عبدالرزاق داؤد کی کمپنی ڈیسکون پر اسٹیل کی مصنوعات کی درآمد پر رعایتی ٹیرف کے ذریعے پاکستان اسٹیل مل کوبھاری نقصان پہنچانے کا الزام تھا ۔ ان پر دو آئل فیلڈز اپنی کمپنی کو غیر قانونی طریقے سے دینے پر ملک کو 200 ملین ڈالر کا نقصان پہنچانے کا بھی الزام تھا جس کی تحقیقات نیب کررہا تھا ۔ اس وقت بھی عبدالرزاق داؤد پر پاکستان اسٹیل مل کی بحالی میں رکاوٹ ڈالنے اور پاکستان اسٹیل مل میں ایک پروفیشنل بورڈ تشکیل نہ دینے کے الزامات ہیں جس کے باعث اب تک ملک کو 11 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے ۔ عبدالرزاق داؤد پر انسانی اسمگلنگ کے بھی الزام رہے ہیں ۔وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان ملک کے تاجروں اور صنعتکاروں کی نمائندہ تنظیم ہے اور اس کی جانب سے اس قسم کے ریمارکس غیر معمولی ہیں ۔عمومی طور پر یہ تنظیم اس طرح کے تلخ تبصروں سے گریز کرتی ہے ۔ تاجروں اور صنعتکاروں کی جانب سے اس طرح کے واضح مطالبے سے سمجھا جاسکتا ہے کہ معاملات کس حد تک گمبھیر ہوچکے ہیں ۔ ہم پہلے بھی اس جانب توجہ دلاچکے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان دساورسے درآمد شدہ اپنی ٹیم سے چھٹکارا حاصل کریں اور محب وطن اور اہل افراد کو اپنی ٹیم میں جگہ دیں ۔ اگر گاڑی کا ڈرائیور ہی نہ چاہے تو گاڑی کبھی بھی ترقی کے راستے پر نہیں چل سکتی۔ عمران خان کی ٹیم کی کارکردگی اس امر کا ثبوت ہے کہ ملک کی گاڑی آگے کے بجائے پیچھے جارہی ہے۔