ملکی حالات بہتر ہونے کے سبب سیاح پاکستان اور سندھ کا رخ کررہے ہیں، سید سردار علی شاہ

52

کراچی(اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیرسیاحت وثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے لینڈ ٹرانسفر پر پابندی لگائی ہوئی ہے اسی وجہ سے سیاحتی مقامات پر پرائیوٹ پارٹنرشپ پر کام کرنے میں مشکلات ہیں، سندھ حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے مسلسل کام کررہی ہے،

سندھ میں بہت سارے سیاحت کے مقامات ہیں،بدقسمتی سے کچھ عرصے سے حالات ٹھیک نہیں رہے جس کے باعث سیاحت کی ترقی رک گئی تھی لیکن اب حالات بہتر ہونے کے سبب سیاح پاکستان اور سندھ کا رخ کررہے ہیں،رواں سال 10 لاکھ ٹورسٹ نگرپارکر گئے ہیں،

گورکھ ہل کی ایک الگ اتھارٹی ہے اس کا الگ چیئرمین ہے اور وہاں کے حالات بہتر ہوئے ہیں۔انہوں نے منگل کو کراچی ایکسپو سینٹر میں ٹریول مارٹ کی افتتا حی تقریب میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم مسلسل تیسرے سال ٹریول ایکسپوکے انعقادپر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہیں،حالات بہترہونے سے پاکستان اور سندھ سمیت دیگر صوبوں میں سیاحت بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کا پرانا ورطیرہ رہا ہے کہ ” ویچوں ویچوں کھائے جا تے شور وی مچائے جا”۔انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے حوالے سے کہا کہ مولانا کو دھرنے اور احتجاج کا حق ہے،

کراچی ایکسپو سینٹر میں ٹورازم ایکسپو کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ اگر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا احتجاج پر امن ہے تو وفاقی حکومت کو اس میں روڑے نہیں اٹکانے چاہئیں،

کراچی کے حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں،چھوٹے موٹے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں، جب سے تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی ہے،اپوزیشن کے خلاف مسلسل کریک ڈاو ¿ن جاری ہے،پی ٹی آئی نے بھی اسلام آباد میں 126روز دھرنا دیا تھا جہاں پی ٹی وی پر حملہ بھی کیا گیا اور ریاستی رٹ کو چیلنج بھی کیا گیا،اگر جے یو آئی ف پر امن احتجاج کرنا چاہتی ہے تو یہ ان کا جمہوری حق ہے اور وفاقی حکومت کو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیئے،انہوں نے کہا کہ لوگ مہنگائی سے مررہے ہیں اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی،

کراچی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہر میں حالات ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں،شہر میں گٹکے کے خلاف کریک ڈاو ¿ن جاری ہے اور اس وباء کو ختم کرکے دم لیا جائیگا،صوبے میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تاریخی مقامات کی بھرمار ہے جو کہ ملکی سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،

صوبائی حکومت سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے کام کررہی ہے اور اس ضمن میں گورکھ ہل اور تھر کی مثال سامنے ہے،ایک وزیر کے پاس کئی وزارتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئین میں پابندی ہے کہ حکومت11فیصد سے زائد وزرا مقرر نہیں کرسکتی اور یہی وجہ ہے کہ ایک وزیر کے پاس کئی وزارتیں موجود ہیں،ا وزیر سیاحت گلگت بلتستان فداخان فدا نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے بہت کام کررہی ہے،گلگت بلتستان میں ٹریول مارٹ کروارہے ہیں،ہمیں دنیا کو پیغام دیناہے کہ اب پاکستان کے حالات بہتر ہیں،

پاکستان میں سیاحت کیلئے بیشمار مقامات ہیں،میڈیا کو پاکستان کے سافٹ امیج کو بہتر دکھانے کیلئے کام کرے،گلگت بلتستان میں 10سے 12نئے سیاحتی مقام بنائے،ٹورازم پالیسی بنائی اسکے ساتھ ساتھ ٹورازم ایکٹ بنایا گیا ہے۔