لاڑکانہ، ذہنی معذور بیمار شخص علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل

65

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) سماجی کارکن کی جانب سے گزشتہ چار روز کے دوران ذہنی معذور اور لاوارث دو مریضوں کو جسم میں کیڑے پڑ جانے کے باعث علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کیا جاچکا۔ سماجی کارکن احمر اکبر کی جانب سے جمعرات کی شب خالد نامی میانوالی کے رہائشی ذہنی طور پر معذور شخص کو پائوں میں کیڑے پڑ جانے کے باعث چانڈکا سول اسپتال کے شعبہ حادثات منتقل کیا اور مریض کے پائوں کی پٹی کروا کر آرتھو پیڈک وارڈ میں شفٹ کیا، تاہم اگلے روز صبح مریض کو بیڈ سے بیدخل کیا گیا اور لاوارث مریض اسپتال کے فرش پر پڑا رہا، ویڈیو وائرل ہونے پر ڈی جی رینجرز سندھ نے واقع کا نوٹس لیا اور مریض کو رینجرز اسپتال سکھر منتقل کیا، جہاں مریض کا علاج جاری ہے۔ خالد کے بائیو اپسی سمیت تمام ٹیٹس دوبارہ کروائے گئے ہیں، جسے منہ کے ذریعے کم جبکہ نلکی کے ذریعے کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حتی الامکان کوشش کی جائے گی کہ خالد کا پیر بچایا جاسکے، جس کے لیے ان کا علاج کیا جارہا ہے۔ تاہم مریض کے ورثا کا ابھی تک پتا نہیں لگایا جاسکا ہے۔ دوسری جانب ایک اور لاوارث شخص کو شعبہ حادثات لایا گیا، جس کے متعلق تھانہ الٰہی بخش سیال پولیس کا کہنا تھا کہ مریض کو ایمبولینس پھینک کر گئی اور مریض کے منہ اور بازو میں کیڑے پڑے ہوئے تھے۔ سماجی رہنما احمر اکبر پھل نے الزام عائد کیا کہ مریض کو ٹنڈو مستی تھانے کی حدود سے اٹھا کر خیرپور میرس اسپتال منتقل کیا گیا تھا وہاں مریض کی پٹی بھی کی گئی تاہم تعفن پھیلنے کی وجہ سے مریض کو مبینہ طور ایمبولینس لاڑکانہ کی حدود میں پھینک کر چلی گئی تھی مریض کا نام شہزاد ولد محمد علی بتایا جاتا ہے تاحال ورثا کی شناخت نہیں ہوئی تاہم چانڈکا سول اسپتال میں مریض کا علاج جاری ہے۔