اندھیرے سے باہر نکل آئیے

302

جاویر الرحمن ترابی
خوامخواہ ڈھول پیٹا جارہا ہے‘ ہمیں کچھ تو بتائیے کہ امریکا نے کس شرط پر کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ہے۔ اس میں ہمارے لیے کیا بھلائی ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں یہ ثالثی بھی اگر اس کے نتیجے میں کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہوجائیں تو کیا برا ہے‘ لیکن اصل میں ہوا کیا؟ بالکل وہی ہوا‘ گرگئے ناﺅں سجدے میں جب وقت قیام آیا‘ امریکی صدر نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے وقت کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا اور کہا کہ ایران دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دینے والا نمبر ون ملک ہے ایران کو دوسرے ممالک کو دھمکیاں دینا بند کرنا ہوںگی۔ سعودی آئل تنصیبات پر حملے کے نتیجے میں تہران پر پابندیاں لگائیں، جب تک ایران اپنا رویہ نہیں بدلتا یہ پابندیاں نہیں اٹھائی جائیںگی اسی طرح وہ چین پر بھی برسے ہمیں خوشخبری دی گئی تھی‘ بلکہ کہا گیا کہ ایک اور ورلڈ کپ جیت لیا ہے‘ وطن واپسی پر ائرپورٹ پروزیر اعظم عمران خان کو تحریک انصاف کی جانب سے پھولوں کے ہار پہنائے گئے لیکن یہ کیا ہوا؟ گزشتہ دورہ امریکا کے دوران اور بعدازاں کئی فورموں پر صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی اور متعدد بار اس مسئلہ کے حل پر زور دیا وزیر اعظم کے رواں دورے کے موقع پر بھی ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر بات کرتے رہے یوں پوری دنیا کی نظریں بالعموم اور کشمیریوں و پاکستانیوں کی بالخصوص صدر ٹرمپ کے خطاب پر تھیں مگر انہیں مایوسی ہوئی وہ اپنے خطاب میں ایران اور چین پر ہی برستے رہے اور مسئلہ کشمیر پر سرے سے مکمل خاموش رہے ثالثی کی پیشکش کہیں کھوگئی؟
امریکا پر یقین؟ ہرگز نہیں کیا جا سکتا وہ کہتا کچھ کرتا کچھ اور ہے 1971ءمیں کیا ہوا تھا‘ یہ سب یاد ہے۔ ہم نے اس کے بحری بیڑا بھجوانے کے اعلان پر اعتبار کیا جو کبھی نہ پہنچ سکا وزیراعظم عمران خان نے نیویارک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جو ملاقات کی امریکی صدر نے پاک امریکا کی تجارت پر بات کی وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ افغان مسئلہ پر بات کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ مسئلہ ہمارے لیے بہت اہم ہے صدر ٹرمپ نے ثالثی کا راگ چھیڑ دیا اور کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو ثالثی کے لیے تیار ہوں اگلے ہی روز ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم مودی نے بہت جارحانہ زبان استعمال کی بلاشبہ پاکستان کواس وقت بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔
کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جسے ختم ہونا چاہیے‘ مقبوضہ کشمیر کی حالت جوں کی توں رہی تو حالات مزید خراب ہوںگے۔ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ سے جاری بھارتی فوجوں کے مظالم اور کرفیو کے تسلسل کے باعث کشمیری عوام کے بڑھتے ہوئے روٹی روزگار کے اور سماجی مسائل سے آج پوری دنیا آگاہ ہوچکی ہے۔ مودی سرکار پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی بڑھائے رکھنے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو مکمل ادراک ہے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی بھارتی مظالم کیخلاف تسلسل کے ساتھ آواز اٹھائی جارہی ہے مگر مودی سرکار نے عالمی قیادتوں اور اداروں کے اس دباﺅ کے باوجود نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے بارے میں اپنے عزائم اور منصوبہ بندی سے رجوع نہیں کیا بلکہ پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور آرمی چیف بپن راوت نے اسی تناظر میں گیدڑ بھبکی لگائی ہے کہ ہم اس بار بالاکوٹ سے بھی آگے جا سکتے ہیں بھارت ایسی گیدڑ بھبکیاں یقینا اپنی طاقت کے زعم میں اور کھلم کھلا امریکی سرپرستی حاصل ہونے پر لگاتا ہے جس نے اپنی ایسی ہی جنونیت کے باعث کے دو ایٹمی ممالک کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے جس کے باعث علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ بھارت نے اپنے 5‘ اگست کے اقدام کے تحت اس مسئلہ کو مزید گمبھیر بنادیا ہے محسوس یہی ہوتا ہے کہ عالمی قیادتیں بالخصوص امریکی صدر ٹرمپ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرے کا باعث بننے والے اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں نہ ان کی جانب سے عملیت پسندی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے بلکہ انہوں نے دہری پالیسی اختیار کررکھی ہے جس کے تحت وہ بھارت سے تعلقات میں بھی کوئی رخنہ پیدا نہیں ہونے دینا چاہتے اور پاکستان اور کشمیری عوام کے لیے بھی رسمی طور پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ہیوسٹن اسٹیڈیم میں بھارتی وزیراعظم مودی کے لیے استقبالیہ میں مودی کے جلو میں اور ان کی باہوں میں باہیں ڈال کر شرکت کی‘ جہاں انہوں نے مسئلہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور کرفیو کیخلاف کسی قسم کی بات کرنے اور ثالثی کی پیشکش دہرانے کے بجائے اس معاملہ میں مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی ٹرمپ کا مکمل جھکاﺅ بھارت کی طرف نظر آرہا ہے عالمی قیادتوں کو اس سنگین ایشو پر جامع اور ٹھوس حکمت عملی طے کرنی چاہیے‘ پاکستان مزید کسی دھوکے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔