ٹنڈوالہٰیار، جرائم کی سرپرستی کرنے والے اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

50

ٹنڈوالہٰیار (نمائندہ جسارت) سندھ سمیت ٹنڈوالہٰیار میں پولیس کی سرپرستی میں کھلے عام فروخت ہونے والی مین پوری سمیت نشہ آور اشیا کی فروخت کی میڈیا میں خبریں شائع ہونے اور سندھ ہائی کورٹ میں شہری کی جانب سے داخل کی جانے والی پٹیشن پر جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے سخت احکامات جاری کردیے، منشیات فروشوں سمیت پولیس کی کالی بھیڑوں کیخلاف بھی بھرپور کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ عدالت نے دس یوم میں آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی۔ ٹنڈوالہٰیار میں سمیت پورے سندھ میں انسانی جانوں کی موت کا سبب بننے والی مین پوری سمیت نشہ آور اشیا کی فروخت میں ملوث پولیس اہلکاروں سمیت مین پوری فروخت کرنے والے افراد کیخلاف کسی بھی وقت کریک ڈائون کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ واضح رہے کہ مین پوری کی کھلے عام فروخت میں ملوث پولیس اہلکاروں سمیت قلم کا سایہ دینے والے افراد کیخلاف بھی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔ ضلع بھر میں لاکھوں روپے کی بھتے کے ذریعے فروخت ہونے والی مین پوری نے کتنے ہی خاندانوں کے افراد کو بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ٹنڈوالہٰیار سمیت سندھ بھر میں مین پوری کی فروخت نے ملک و قوم کے معماروں کو بیمار معمار بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ماضی میں مین پوری کی فروخت میں گرفتار ہونے والوں کے کوئی واضح قانون نہ ہونے کے سبب مین پوری فروخت کرنے والے کم جرمانہ ادا کرکے دوبارہ سے یہ کاروبار کرنے میں مصروف ہوجاتے تھے اور مٹھائی کی رقم میں اضافہ کردیا جاتا تھا، اس وقت مین پوری کی فروخت میں گرفتار ہونے والوں کیخلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شہریوں نے عدالت کے فیصلے کو سراہا جبکہ سٹیزن جرنلزم نیٹ ورک کی جانب سے ضلع میں مین پوری سمیت منشیات کی فروخت کیخلاف 6 اکتوبر کو پیدل مارچ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس سلسلے میں مذکورہ پلیٹ فارم کے رہنمائوں کی جانب سے ضلع بھر کے سیاسی، سماجی، مذہبی پارٹیوں کے رہنمائوں سمیت بیورو کریٹ افسران کو بھی اس ناسور کے خاتمے کے لیے بھرپور شرکت کرنے کے لیے دعوت نامے جاری کر دیے گئے ہیں۔