فضائی کمپنیوں نے مسافروں کو لوٹنے کیلیے نت نئے قوانین بنالیے

112

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ملک میں کوئی روک ٹوک نہ ہونے کی بناپر پاکستان سے آپریٹ ہونے والی فضائی کمپنیاں نہ صرف معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام ہیں بلکہ مسافروں کو لوٹنے کے لیے بھی نت نئے قوانین بنالییہیں۔ اب فضائی کمپنیاں مسافروں کو سفر کی سہولت کے عوض کمانے کے بجائے سفر نہ کرنے کی صورت میں ان کے ٹکٹ کی رقم ہضم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ اس وقت صرف 3 فضائی کمپنیاں پی آئی اے، ائر بلیو اور سیرین ائر اندرون ملک فضائی سفر کی سہولیات مہیا کر رہی ہیں۔ پی آئی اے پرواز کا وقت گزرنے کے بعد 2 سال تک ریفنڈ کی سہولت دیتی ہے اور ریفنڈ کی صورت میں 16 ڈالر کی کٹوتی کرتی ہے جبکہ پرواز کو تبدیل کرانے کی صورت میں 16 ڈالر کے علاوہ کلاس کی تبدیلی کے نام پر بھی بھاری چارجز وصول کرتی ہے۔ سیرین ائر اور ائر بلیو نے تو مسافروں کے تمام حقوق ہی سلب کرلیے ہیں۔ سیرین ائر کا ٹکٹ پرواز کے وقت کے بعد 29 دن اور ائر بلیو کا ٹکٹ 30 دن بعد ضائع تصور کیا جاتا ہے اور دونوں کمپنیاں ایک روپیہ بھی مسافر کو واپس نہیں کرتی ہیں۔ پرواز سے 48 گھنٹے قبل منسوخی کی صورت میں سیرین ائر یکطرفہ ٹکٹ پر ڈھائی ہزار روپے اور دو طرفہ ٹکٹ پر5 ہزار روپے منسوخی کے چارجز کے نام پر کاٹ لیتی ہے۔ 48 گھنٹے قبل پرواز میں تبدیلی کے جرم میں سیرین ائر 1500 روپے کے علاوہ کلاس کی تبدیلی کے نام پر مزید کئی ہزار روپے مسافروں سے وصول کرتی ہے۔ ائر بلیو پرواز سے48 گھنٹے قبل پرواز میں منسوخی کے3 ہزار روپے اور 48 گھنٹے کے اندر 5 ہزار روپے کا تاوان وصول کرتی ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں اندرون ملک سفر کے لیے انتہائی قلیل نشستوں کی دستیابی کی وجہ سے تینوں فضائی کمپنیاں اندرون ملک کے کرایے حد سے زیادہ وصول کر رہی ہیں۔ چھٹیوں اور عید وغیرہ میں یہ فضائی کمپنیاں کراچی اسلام آباد یکطرفہ کرایہ 35 ہزار روپے سے زاید بھی وصول کرتی رہی ہیں۔ ملک میں شہری ہوابازی کو ریگولیٹ کرنے والا ادارہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی میں تمام بالائی اسامیوں پر عارضی تعیناتی کے سبب ملک میں شہری ہوا بازی کا مستقبل مخدوش ہوگیا ہے۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے غیر فعال ہونے کی بنا پر فضائی کمپنیوں کے معیار کے یہ عالم ہے کہ ایمرجنسی لینڈنگ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی حالیہ مشق میں پی آئی اے کے طیارے سے لگایا گیا ایمرجنسی شوٹ پھٹ گیا تھا مگر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کے خلاف کارروائی کرنا تو دور کی بات ، اس کی تحقیقات بھی نہیں کیں۔ اس وقت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا چارج ایوی ایشن ڈویژن کے سیکرٹری شاہ رخ نصرت کے پاس ہے اور اس چارج کی مدت بھی گزر چکی ہے۔ اسی طرح دیگر تمام ڈائریکٹر بھی قائم مقام ہیں یا ان کے پاس اضافی چارج ہے جس کی بنا پر ملک میں شہری ہوابازی کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور مسافر سول ایوی ایشن اتھارٹی کی عدم فعالیت کی بنا پر اپنے حقوق سے محروم ہیں۔