حیسکو گاڑی کھاتہ کے عملے نے زندگی اجیرن بنادی، مسمات بلقیس

49

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) حیسکو کے مظالم سے تنگ گاڑی کھاتہ کی رہائشی مسمات بلقیس بانو اور ان کے بھائی محمد ادریس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے انصاف نہیں ملا تو میں حیسکو کے مظالم سے تنگ آکر پریس کلب کے سامنے خودسوزی کرنے پر مجبور ہوں گی۔ وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو گاڑی کھاتہ کے لائن مین خالد میمن اور ایل ایس معشوق علی نے ہماری زندگی اجیرن بنادی ہے اور بجلی کا بل ادا کرنے کے باوجود میٹر لگوانے کے لیے ہمیں آفس کے چکر لگوا رہے ہیں جبکہ حیسکو گاڑی کھاتہ کے عملے نے ائر کنڈیشنڈ کے لیے فی گھر چار ہزار روپے اور نان اے سی گھر کے لیے دو ہزار روپے کنڈا کنکشن لگانے کے مقرر کر رکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حیسکو گاڑی کھاتہ کے لائن مین خالد میمن اور ایل ایس معشوق علی نے ہمیں 37 ہزار روپے کا ناجائز بل بھیج دیا، جس کے بعد ہم نے 10 ہزار روپے کی قسط کراکر بل جمع کرانے کے بعد گزشتہ پانچ روز سے حیسکو گاڑی کھاتہ کے دفتر کے چکر لگا رہے ہیں لیکن ہمیں میٹر لگا کر نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بھی اپنے بھائی محمد ادریس کے ساتھ حیسکو گاڑی کھاتہ کے آفس گئی تو وہاں موجود لائن مین خالد میمن اور ایل ایس معشوق علی سمیت دیگر عملے نے میٹر لگانے سے صاف انکار کردیا اور جب ہم نے احتجاج کیا تو مذکورہ حیسکو افسران اور عملے نے میر ے بھائی ادریس کو میرے سامنے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے آفس سے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ مزید یہ کہ میرے بھائی کیخلاف ہی سٹی تھانہ پر کیس درج کرا دیا۔ انہوں نے واپڈا حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر ہمیں تشدد کا نشانہ بنانے والے حیسکو اہلکاروں کیخلاف کارروائی کرکے جھوٹا کیس ختم کرایا جائے اور میری فریاد پر حیسکو کے مذکورہ افسران خالد میمن اور معشوق علی کیخلاف تشدد کرنے اور چوری کی بجلی استعمال کرنے کے لیے دبائو ڈالنے پر کیس درج کرکے ہمیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔