وہ شخص اب یہاں نہیں ملے گا

48
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

وہ شخص اب یہاں نہیں ملے گا
طویل راہوں سے آنے والو!…
بڑے تحیّر سے دیکھتے ہو؟
قریب آؤ، بتاؤ، سمجھاؤ،
کس سے کیا چیز چاہتے ہو؟
پتا یہ تم کس کا پوچھتے ہو؟
وہ کون ہے جس کو ڈھونڈتے ہو؟
وہ شخص اب یہاں نہیں ملے گا

وہ اک شجر تھا مثل طوبیٰ
تم اس کی چھاؤں میں بیٹھتے تھے
دلوں کے دکھ درد کولتے تھے
سوال پیچیدہ پوچھتے تھے
پھر اس حکیمِ حلیم سے سن کے
حرفِ اخلاص جھومتے تھے
وہ شخص اب یہاں نہیں ملے گا
وہ شخص اب اک سحر کی صورت
جہاں میں پھیلا ہوا ملے گا
رہِ خدا کے سپاہیوں کی
دعاؤں میں وہ رچا ملے گا
ستیزہ گاہوں میں جاں لڑاؤ
وہاں وہ خود تم سے آ ملے گا
وہ شخص اب یہاں نہیں ملے گا
وہ تیز دھارا ہے روشنی کا
کہیں نہیں ہے مقام اس کا
وہ ان کے جذبات میں ہے شامل
جو لے کے نکلیں پیام اس کا
اقامتِ دینِ حق کی خاطر
جو کرتے پھرتے ہیں کام اس کا
وہ شخص اب یہاں نہیں ملے گا