فوٹو گرافی کے لیے ماں نے زیور بیچ کر بیٹے کو کیمرہ خرید کر دیا

299

صنعاء:یمن میں جنگ کی کئی سال پر پھیلی تباہ کاریوں کے درمیان عبدالرحمان الاسدی جیسے باہمت نوجوان بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت اور محنت سے نہ صرف اپنی زندگی بدل ڈالی بلکہ انہوں نے اپنے ملک اور قوم کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق عبدالرحمان الاسدی بھی جنگ سے متاثر ہوا اور اسے آخر کار اپنا گھر بار تک چھوڑنا پڑا۔ جنگ کے دنوں میں وہ اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے صنعا کی گلیوں میں انجیر بیچا کرتا تھا مگر وہی اسدی آج ایک بہترین فوٹو گرافر،فلم ساز اور آرٹسٹ بن کرملک کی خدمت کررہا ہے۔

الاسدی نے کہا کہ مجھے فوٹو گرافی کے فن کا بہت شوق تھا، لیکن اس میں بہت سی رکاوٹیں تھیں جو مجھے فوٹو گرافی میں پروفیشنل ہونے سے روکتی تھیں۔

ان میں سے شاید سب سے نمایاں یہ تھی۔ میرے پاس کیمرہ خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ جب میری والدہ نے فوٹو گرافی کا میرا زبردست شوق دیکھا تو انہوں نے اپنے تمام زیورات فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اورانہوں نیمجھے پہلا کیمرہ تحفے میں دے کر حیران کردیا۔