سید مودودی ؒ کا قلمی خاکہ

71
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

مجیب الرحمن شامی
کے قلم سے (ستمبر 1992)

چٹا سفید رنگ، سفید بال، پروقار چال، درمیانہ قد، مسکراتی آنکھیں، ہنستا چہرہ، کشادہ پیشانی،
اقبال کی نشانی،
دھیمے لہجے میں بولنے والا، ہر لفظ کو تولنے والا،
دور تک دیکھنے کی عادت، حقائق کی تہ میں اترنے کی علامت،
زبان کھولتا تو پھول جھڑتے تھے،
زندگی کے اصول جھڑتے تھے،
غصہ تھا نہ اشتعال،
اس کے نزدیک یہ تھا نشان زوال،
اپنے راستے میں مگن،
اپنے مقصد کی لگن،
نہ کسی کو جھڑکی،
نہ کسی پر پھبتی،
نہ کسی کو گالی،
نہ مانگے ہوئے الفاظ کی جگالی،
اپنی جگہ ایک پہاڑ،
نہ شخصی لڑائی نہ شخصی معرکہ،
نہ شخصی جیت نہ شخصی ہار،
نہ انا کا پجاری،
نہ خودی سے عاری،
سو نہیں، ہزار نہیں، لاکھوں پجاری،
نہ سادہ لوحی نہ عیاری،
مومنانہ فراست کی ضرب کاری۔۔۔۔
میں نے اس شخص کو ہر سو قریب سے دیکھا، گھنٹوں اس کی صحبت میں بیٹھا، اس سے سوالات کیے، اس سے جوابات لیے۔ اس کو اپنے دل کی سنائی، اس سے روشنی پائی، وہ جب موجود تھا تو کوئی اس جیسا نہیں تھا لاکھوں میں نہیں، کروڑوں میں نہیں، اربوں میں نہیں،
پوری دنیا میں ایک وہ اب موجود نہیں ہے تو کوئی اس جیسا نہیں ہے۔
اس جیسا کوئی دوسرا، خدا جانے کب تک نہ ملے، کتنی صدیاں انتظار کرنا پڑے۔
میں نے اس شخص کو دیکھا کہ مخالف کا نام بھی احترام سے لیتا ہے، گالیاں دینے والوں کو بھی صاحب کہہ کر پکارتا ہے، ان کا ذکر آپ جناب سے کرتا ہے، اس نے الزامات کے زخم کھائے تو بہت، لگائے نہیں۔ دشنام کے تیر کھائے تو بہت، چلائے نہیں۔
وہ اپنے مخالفین کا لہجہ، ان کا راستہ اپنانے پر تیار نہ ہوا۔ اس کا کہنا تھا اگر میں نے ان کی نقل شروع کر دی، تو گویا ان کو رہبر مان لیا، ان کا پیرو بن گیا‘ ان کو راہنما مان لیا۔ میں اپنا راستہ کیوں چھوڑوں؟؟ اپنا طریقہ کیوں بدلوں؟؟ گالی کا جواب گالی سے کیوں دوں؟ محمد عربیؐ کی سنت کیوں ترک کروں؟؟ کہ جنہوں نے گالیاں سن کر دعائیں دیں۔۔۔۔
میں نے اس شخص کو دیکھا کہ جب اسے غصہ آتا تھا، وہ زبان کو دانتوں میں دبا لیتا تھا، چھپا لیتا تھا، قلم کو ہاتھ سے رکھ دیتا تھا، اسے جیپ میں ڈال لیتا تھا۔ اس کا کہنا تھا، غصے میں نہ میں کچھ کہتا ہوں، نہ لکھتا ہوں، غصہ آتا ہے تو انسان کے اندر کا انسان رخصت ہو جاتا ہے، اس کو واپس لائو، غصے کو مار بھگائو، اس کے غلام نہ بنو، اس کو غلام بنائو، اس کو چاروں شانے چت گرائو۔
میں نے اس شخص کو دیکھا کہ اللہ کے راستے کی طرف بلا رہا ہے، پکار رہا ہے کہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار کر لو، اقتدار کے ایوان سے لے کر اپنے ذاتی مکان تک اس کا حکم مانو، بندوں کی بندگی سے انکار کردو، اس کا عمل اس کے الفاظ کی گواہی دے رہا ہے، وہ جو کہتا ہے کرنے کی کوشش کرتا ہے، جو کرتا ہے کہنے کی کوشش کرتا ہے، وہ پیغمبر نہیں تھا، اسے اپنے ربّ کی براہ راست ہدایت حاصل نہیں ہو سکتی تھی، غلطیاں اس سے بھی ہوتی تھیں، ٹھوکر وہ بھی کھا لیتا تھا، اس کی رائے غلط ہو سکتی تھی، اس سے اختلاف کیا جا سکتا تھا۔
لیکن وہ اپنے آپ کو چھپا کر نہیں رکھتا تھا، وہ ایک کھلی کتاب تھا، خواب گاہ سے لے کر موچی دروازے تک، وہ ایک تھا، ایک رہنے، ایک بننے میں مشغول رہا۔ اس کے ہاں کچھ بھی ’’پرائیویٹ‘‘ نہیں تھا۔ اس سے ہر طرح کا سوال کیا جا سکتا تھا، ہر بات کا جواب طلب کیا جا سکتا تھا۔
میں نے اس شخص کو دیکھاکہ وہ کسی سے ڈرتا نہیں ہے، اسے (قادیانیوں کے خلاف لکھنے پر) پھانسی کی سزا سنا دی گئی، کال کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا، لیکن اس نے رحم کی درخواست نہیں کی۔ وہ رحم کھانا تو جانتا تھا، دوسروں پر رحم کھاتا بھی تھا لیکن رحم کی بھیک مانگنا اس کی سرشت میں نہیں تھا، اس نے کبھی دست سوال دراز نہیں کیا۔ اس نے زندگی کی بھیک مانگنے سے انکار کر دیا، اس سے زندگی چھیننے کی خواہش رکھنے والے اس کی آنکھوں کے سامنے زندہ درگور ہو گئے۔ لیکن اس سے زندگی اب تک چھینی نہیں جا سکی۔ وہ ہمارے درمیان نہیں ہے، لیکن ہمارے درمیان ہے۔ وہ ہمارے سامنے نہیں ہے، لیکن ہمارے سامنے ہے۔ اس کی ایک ایک ادا، اس کی ایک ایک بات یادآرہی ہے، زندگی کا احساس دلا رہی ہے۔
یہ شخص کہ جس کا نام ابو الاعلیٰ تھا اور جسے دنیا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کہہ کر پکارتی ہے، آج سے تیرہ برس پہلے اسی ستمبر کے مہینے میں اس دنیا سے رخصت ہوا، لیکن رخصت کہاں ہوا ہے؟؟ اس کے الفاظ زندہ ہیں، اس کی تحریر زندہ ہے، اس کا پیغام زندہ ہے۔ وہ شخص میرے سامنے ہے، وہ میری آنکھوں سے ہٹے تو کوئی دوسرا ان میں سمائے۔ وہ ان سے دور ہوتا نہیں ہے، یہاں کوئی اور بستا نہیں ہے، سماتا نہیں ہے۔ میں اس کے سامنے ہوں یا نہیں ہوں، وہ بہرحال میرے سامنے ہے۔