عراق کویت جنگ کے ری پلے کی سازش

290

ہفتے کے روز سعودی آرامکو کی عبقیق آئل تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے جس کے بعد سعودی تیل کی پیداوار عارضی طور پر بند کردی گئی۔ ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ لیکن ان حملوں کے فوراً بعد امریکا نے جس طرح تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ علاقے میں امریکی افواج کی موجودگی، یمن کی جنگ، شام کے حالات، عراق میں امریکی کنٹرول کے بعد اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ حملہ خود امریکیوں نے کیا ہو یا اپنے کسی پٹھو سے کرایا ہو کیونکہ امریکیوں نے اس پر فوری ردعمل یہی دیا ہے کہ یہ حملہ ایران نے کرایا ہے۔ عراق کویت جنگ سے قبل بھی امریکیوں نے صدام حسین کی افواج کو کویت کے خلاف مشتعل کرکے اسے کویت میں داخل کرا دیا تھا جس کے بعد وہ کویت سے عراق کا قبضہ چھڑانے کے لیے خود میدان میں اتر آیا اور اس کے بعد سے خطے میں موجود ہے۔ سعودی حکام بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک خطے میں امریکی مفادات ہیں یہاں امن نہیں ہوسکتا۔ ایران کے مفادات اور سیاسی مقاصد اپنی جگہ لیکن یہ لازم نہیں ہے کہ ایران ہی کی جانب سے حملہ ہوا ہو۔ اس حملے کے پس پشت اگر ایران ہے بھی تو ایران سعودی عرب جنگ کا سارا فائدہ امریکا ہی کو ہوگا۔ بعض تجزیہ نگار اس طرح تجزیہ کررہے ہیں کہ امریکا نئے محاذ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ امریکا کی جنگ نہیں ہے جن شیطانی قوتوں نے ساری دنیا کو جنگ کا میدان بنا رکھا ہے یہ جنگ بھی ان کے مفاد میں ہے۔ نامعلوم کون سی قوت یا کون سا دبائو ہے کہ سعودی حکام روز بروز امریکی اثرات قبول کرتے جارہے ہیں۔ آزاد خیالی یا روشن خیالی کا بھوت وہاں بھی اسی طرح ناچ رہا ہے جیسا جنرل پرویز کے دور میں پاکستان میں ناچ رہا تھا۔ آج 19 برس بعد صدر اور وزیراعطم پاکستان اس امریکی جنگ کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمران بھی غور کریں کہ وہاں 18 برس بعد کوئی یہ کہنے والا بھی ہوگا؟ کیونکہ صدام، قذافی، زین العابدین بن علی اور دوسرے عرب حکمران اور ان کے تو وارث بھی یہ کہنے کے لیے موجود نہیں ہیں کہ امریکی جنگ میں حصہ لے کر غلط کیا تھا۔