سانحہ بلدیہ ایک المیہ

137

قاسم جمال
سانحہ بلدیہ کے المیے کو سات سال کا طویل عرصہ بیت گیا۔ لواحقین انصاف کے لیے سر ٹکرا رہے لیکن انصاف ناپید ہوچکا ہے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں سانحہ بلدیہ کو بدترین سفاکی درندگی اور حیوانیت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ ایم کیو ایم کے درندوں نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کی تاریخ کو رقم کیا اور غریب نہتے 259 مظلوم محنت کشوں کو زندہ جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ سانحہ بلدیہ کے ملزمان اور ان کے سرپرست سب عیاںہیں اور ایک ایک مجرم کا نام عیاں ہے۔ مگر ملک میں انصاف ناپید ہوچکا ہے۔ جے آٹی ٹی پر جے آئی ٹی بنا کر کیس کو خراب کیا جا رہا ہے۔ سانحہ بلدیہ علی انٹر پرائز کے لواحقین سات سال سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ جرمن کمپنی سے لواحقین کی امداد کے لیے آنے والی رقم سندھ حکومت اور این جی اووز نے مل کر ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لواحقین کی پنشن بھی بند کر دی گئی ہے۔ سال میں ایک مرتبہ سانحہ کی یاد میں تقاریر اور مظاہرے کر کے چپ سادھ کی جاتی ہے اور 259سوختہ لاشوں کا نوحہ پڑھنے کو کوئی تیار نہیں چور کو چور اور قاتل کو قاتل کہنا بھی گوارہ نہیں۔ عمران خان جب اقتدار میں نہیں تھے تو وہ بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس بدترین ظلم کے خلاف بولتے تھے مگر اقتدار میں آتے ہی ان کی بھی سٹی گم ہوگئی ہے اور وہ بھی ایم کیو ایم کے شکنجے میںایسے پھنسے کہ اپنی چال ہی بھول بیٹھے۔ لیکن اقتدار میں بیٹھے طاقت والو سے بڑا بھی کوئی طاقت والا ہے اور جب وہ چاہے گا تو پھر سات سمندر پار بیٹھے سورمائوں کو بھی تختہ دار پر لٹکا ڈالے گا۔ سانحہ بلدیہ کے لواحقین اپنے پیاروں کے وحشیانہ قتل عام پر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ ان کی آنکھیں اپنے پیاروں کی یاد میں آنسو بہا بہا کر اندھی ہوگئی ہیں۔ لیکن ہمارے حکمراں اور انصاف کی کرسیوں پر براجمان قوتیں شاید اندھی گونگی اور بہری ہو چکی ہیں۔ جنہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ سانحہ بلدیہ میں ملوث ہر کردار صاف اور شفاف آئینے کی طرح سب کو نظر آرہا ہے لیکن ملزمان کو بچانے کے لیے جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ حکمران اللہ کے قہر سے ڈریں اور ظالموں قاتلوں کی سرپرستی چھوڑ دیں۔ سانحہ بلدیہ کے مجرم ایک دن اللہ کے کٹہرے میں ضرور حاضر ہوںگے۔ انسانوں کا بنایا ہوا قانون کمزور ہوسکتا ہے، انصاف کی کرسی پر بیٹھے شخص کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ جھوٹی گواہی سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا جا سکتا۔ 259افراد نہیں بلکہ 259خاندانوں کا قتل عام ہوا ہے۔ انصاف کی تلاش میں یہ غریب مجبور لاچار مظلوم دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ پاکستان کا عدالتی نظام طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک لواحقین کو انصاف فراہم نہیں کرسکا ہے۔ اللہ کے بعد پاکستان کی عدلیہ ہی وہ روشنی اور امید کی کرن ہے جو قاتلوں کو نشان عبرت بنا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے تا کہ کوئی بے گناہ بھی اس سے متاثر نہ ہوسکے۔ جماعت اسلامی اور اس کی پبلک ایڈ کمیٹی قابل مبارک باد ہیں کہ وہ اول روز سے اس کیس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ انہوں نے متاثرین کی دلجوئی بھی کی۔ انہیں راشن ودیگر اشیائے صرف کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ عثمان فاروق ایڈوکیٹ مستقل اور باقاعدگی کے ساتھ
لواحقین کی پٹیشن پر حاضر ہوکر اپنا نکتہ نظر بڑی خوبی اور دلیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اور اس کیس کو زندہ رکھنے میں جماعت اسلامی کا بہت بڑا کردار ہے۔ ایم کیو ایم کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے سامنے جب شہر کراچی میں کوئی سر اٹھانے کو بھی تیار نہیں تھا۔ ایسے حالات میں جماعت اسلامی اور ان کے کارکنان نے سرون پر کفن باندھ کر کلمہ حق بلند کیا اور سانحہ بلدیہ کے متاثرین کا کھل کر ساتھ دیا۔ جماعت اسلامی کے لیبر ونگ نیشنل لیبر فیڈریشن نے پورے ملک میں سانحہ بلدیہ کے خلاف یوم سیاہ اور یوم سوگ منایا اور کراچی سے لیکر خیبر تک ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے۔ بلاشبہ یہ سب ایک جہاد سے کم نہیں ہے۔ ایم کیو ایم جو آج کل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن ماضی میں تو یہ ایک مافیا کی شکل اختیار کی ہوئی تھی اور اس کی مرضی کے بغیر شہر میں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔ لیکن ہر فرعون کے لیے اللہ نے ہر دور میں ایک موسیٰ بھی پیدا کیا ہوتا ہے۔ سانحہ بلدیہ پاکستان کے حکمرانوں پر ایک قرض ہے کہ وہ مظلوم لواحقین کو انصاف فراہم کریں۔ بیرون ملک میں فرار قاتلوں کو انٹرپول کے ذریعے گرفتارکر کے ملک میں لایاجائے۔ جرمن کمپنی سے لواحقین کی امداد کے لیے آنے والا پیسہ لواحقین کے اکاونٹ میں منتقل کیا جائے تاکہ اس پیسے سے متاثرین کے لواحقین کوئی کاروبار کرلیں یا پھر اپنا سر چھپانے کے لیے کوئی مکان خرید لیں یا اپنے بچوں کی شادی بیاہ کے اخراجات پورے کرسکیں۔ ابھی جن لواحقین کو امدادی رقم مل رہی ہے۔ کل خدانخواستہ وہ حیات نہ رہے تو وہ پیسہ کہاں جائے گا۔ دس پندرہ سال کے بعد کیا صورت حال ہوگی۔ متاثرین کے حقیقی
لواحقین تک وہ پیسہ پہنچایا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ جرمن کمپنی کو لواحقین کی جانب سے خطوط ارسال کیے جائیں اور تمام صورتحال سے انہیں آگاہ کر کے وہ رقم برابری کی بنیاد پر تمام لواحقین میں تقسیم کر دی جائے۔ حکومت سندھ کو بھی کوئی حق نہیںپہنچتا کہ وہ غریب لواحقین کے پیسے دبائے۔ سات سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود لواحقین کو اب تک کوئی کلیم بھی نہیں ملا اور بیرون ملک سے جو امداد آئی اس پر بھی قبضہ جما لیا گیا ہے جو ظلم کی انتہا ہے۔ محنت کشوں کی تنظیموں، ٹریڈ یونینز رہنمائوں اور فیڈریشنوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ ان مظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑے۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان مظلوموں کے ساتھ انصاف کرے گا۔ سانحہ بلدیہ کے سفاک قاتل اور ان کے پشتیبان اور سرپرست جلد نشان عبرت بنے گے۔ اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے۔
259 زندہ انسانوں کو جلانے والوں نے تو پوری انسانیت کو شرمسار کردیا ہے اور نازیوں کے ظلم کو بھی شرما دیا ہے۔ یہ سفاک قاتل انسان یا کسی بھی قومیت اور نسل کے فرد کہلانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنا رحم و کرم فرما۔ پاکستان کو اسلام دشمن اور وطن دشمن قوتوں سے نجات عطا فرما۔ سانحہ بلدیہ کے مرتکب افراد اور ان کے سرپرستوں کو نشان عبرت بنا اور پاکستان کی عدلیہ اور حکومت کو وہ قوت اور طاقت عطا فرما کہ وہ بے خوف وخطر حق اور سچ کا ساتھ دیں۔ ریاست مدینہ کے دعویداروں سات سال کا طویل عرصہ گزر جانے پر پاکستان کا عدالتی نظام آج ہم سب کو منہ چڑا رہا ہے۔ 259خاندان قیامت کے دن آپ کا گریبان پکڑیں گے۔ اللہ نے آپ کو طاقت اور قوت اس لیے دی تھی کہ آپ مظلوموں کا ساتھ دیں گے ان کی داد رسی کریں گے انہیں انصاف فراہم کریں گے ان کے زخموں پر مرحم رکھیں گے۔