کل پاکستان اجتماع عام جماعت اسلامی پاکستان(باب یازدہم)

56

’’اس عرصے میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے ۱۹۵۹ء میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام قائم کیا۔ یکم؍ فروری ۱۹۶۰ء کو بنیادی جمہوریتوں کے ۸۰ ہزار نمائندے منتخب کیے گئے اور ان سے ووٹ لے کرچیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘ صدر بن گئے۔ دستور سازی کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا گیا اور کمیشن نے۷؍ اپریل ۱۹۶۱ء کو اپنی رپورٹ پیش کی‘ لیکن صدر ایوب نے اپنے نامزد کردہ کمیشن کی رپورٹ کوبھی قبول نہ کیا اور مارچ ۱۹۶۲ء کو خود ایک دستور بناکر نافذ کردیا۔ نئے دستور کے نفاذ کے بعد بھی مارشل لا نافذ رہا‘ سیاسی پارٹیاں بھی ممنوع رہیں۔ مارشل لا کے سائے میں انتخابات کرائے گئے۔ جون ۱۹۶۲ء میں قومی اسمبلی وجود میں آئی اور اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کا قانون پاس ہوتے ہی ۱۶؍ جولائی کو سیاسی پارٹیاں بحال ہوگئیں۔ ۶؍ اگست کو جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا اور اس نے ایک قرارداد کے ذریعے ۱۹۶۲ء کے آئین کو صریحاً غیر اسلامی اور غیر جمہوری قرار دیا‘ اور اسے جمہوری بنانے کے لیے اس میں ترمیمات کی تجویز پیش کی۔ سب سے پہلے دو تبدیلیاں ایک بنیادی حقوق کی بحالی اور دوسرے بالغ رائے دہی کے ذریعے براہ راست انتخابات کے مطالبے پیش کیے گئے۔ جماعت اس اجتماع میں ان ہی دونوں بنیادی تبدیلیوں کے لیے سیاسی جدوجہد کے آغاز کا فیصلہ کررہی ہے اوریکم؍ نومبر ۱۹۶۳ء سے اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔ کیونکہ یہ دو مطالبات پاکستانی عوام کے متفقہ مطالبات ہیں‘‘۔
بحالی جمہوریت کی مہم
نومبر۱۹۶۳ء میں جماعت اسلامی نے ملک میں بحالی جمہوریت کی مہم چلائی اور عوام کے متفق مطالبات یعنی بنیادی حقوق بحال کرنے اور بالغ رائے دہی کے اصول پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کے مطالبات کے لیے آواز بلند کی۔ اس مہم میں لاکھوں پاکستانی باشندوں سے محضر ناموں پر دستخط کرائے گئے‘ جس سے نو میل(۱۴ کلومیٹر) لمبامحضر نامہ تیار ہوگیا۔
۱۵؍ دسمبر کو قیم جماعت اسلامی میاں طفیل محمد اور چودھری غلام محمد کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کرکے گرفتار کرلیا گیا‘ بعد میں ایک ایک لاکھ کی ضمانت پر رہا کیا گیا۔پھر کوئی ثبوت نہ ملنے پر مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۶۳ء کو مذکورہ محضر نامہ جو نو میل لمبا تھا‘ دو تین ٹرکوں پر لاد کر ڈھاکا میں پارلیمنٹ تک لایا گیا‘ جہاں اسلامی جمہوری محاذ کے لیڈر اور رکن قومی اسمبلی میاں عبدالباری اور دوسرے ارکان اسمبلی کے ذریعے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۶۳ء کو پاکستان مسلم لیگ کنونشن کا ایک اجلاس ڈھاکا میں ہوا‘ جس میں صدر ایوب خان کو پارٹی کا سربراہ منتخب کرلیا گیا۔
جماعت اسلامی پر پابندی
دسمبر کے آخر میں وزارت داخلہ نے سرکاری دفاتر میں جماعت اسلامی کے خلاف ایک خفیہ مراسلہ بھیجا‘ جس میں سرکاری ملازمین کو جماعت اسلامی سے دور رہنے اور اس کے جلسوں میں شریک نہ ہونے کی ہدایت کی گئی۔
۳؍ جنوری ۱۹۶۴ء کو پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کے تحت ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ چھ ماہ کے لیے بند کردیا گیا۔ ۶؍ جنوری۱۹۶۴ء کو جماعت اسلامی خلاف قانون قرار دے دی گئی۔ مولانا مودودیؒ، میاں طفیل محمد‘ ارکان شوریٰ اور عاملہ سمیت گرفتار کرلیے گئے۔ جماعت کے کل گرفتار شدہ رہنمائوں کی تعداد پینتالیس تھی۔ ۷؍ جنوری کو حکومت نے جماعت اسلامی کے خلاف جو فرد جرم شائع کی‘ اس میں جماعت اسلامی پر غیر ملکی آقائوں سے ہدایات لینے اور ممالک غیر میں پاکستان دشمن ذرائع سے کثیر مالی امداد حاصل کرنے کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ اس کے علاوہ حکومت نے جماعت اسلامی کے تمام اثاثے‘ حتیٰ کہ شعبہ خدمت خلق کی میت گاڑیاں تک اپنے قبضے میں لے لیں۔ دفاتر پر قبضہ کرلیا گیا ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا (یہ ساری اشیا بعد میں سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی کی اپیل منظور ہونے اور جماعت پر سے پابندی ہٹنے اور گرفتار شدگان کی رہائی کے بعد بھی کبھی واپس نہیں کی گئیں‘ جو اخلاقی اور مالی بدمعاملگی کی بدترین مثال ہے)۔ ملک بھر کے اخبارات و جرائد نے جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دینے اور اس کے رہنمائوں کو گرفتار کرنے کے خلاف حکومت پر کڑی تنقید کی۔ حکومت کے اس ناجائز اور غیر قانونی اقدام کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوا۔ ملک کے طول و عرض میں مظاہرے‘ مساجد اور پبلک مقامات پر بڑے بڑے اجتماع ہوئے‘ جن میں جماعت اسلامی پر پابندی اور اس کے رہنمائوں پر پابندی کی مذمت کی گئی اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
(جاری ہے)