مدارس، علماء، اور مسلم عوام پر ریاستی جارحیت

138

سید جاوید انور

(کشمیر پر بھارتی جارحیت کا موضوع میڈیا میں اس وقت سر فہرست ہے۔ لیکن اس پر تجزیہ کرنے سے پہلے ہم پاکستان کی صورت حال پر نظرڈال لیں۔)
مدارس اور علماء اور مسلم عوام آج کے ’’نئے پاکستان‘‘ میں بالخصوص نشانے پر ہیں۔ علماء کے قتل اور ان پر قاتلانہ حملوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ مولوی سمیع الحق کا قتل اور مولانا تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مولوی سمیع الحق مدارس کے حوالے سے سب سے بڑا نام تھے اور مولانا تقی عثمانی علماء کے صف سے سب سے بڑا نام ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد نجی شعبہ میں اسلامی نظام تعلیم اور اس کے لیے قائم کردہ مدارس اور اسکول پر جارحیت کا آغاز سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو (ف: 1979) کے دور سے شروع ہوا۔ اس وقت تک نجی طور پر اور اسلامی جماعتوں کے قائم شدہ مدارس اور اسکول تھوڑے بہت نظریاتی برگ و بار لانا شروع کر چکے تھے۔ چنانچہ ریاست کے لیے یہ ناقابل برداشت تھے۔ بھٹو نے ایسے تمام اسکولوں کو قومیا لیا اور برباد کر دیا۔ سب سے زیادہ نقصان جماعت اسلامی کو ہوا کہ ان کے اسکولوں کی تعداد غالباً زیادہ تھی اور یہ کہ بھٹو کا اصل ہدف بھی جماعت اسلامی تھی۔ کیوںکہ یہ جماعت، اسلامی نظام کے ذریعہ زندگی کے تمام شعبہ حیات خصوصاً حکومت اور ریاست کو اسلام کے مطابق ڈھالنا چاہتی تھی اور اقامت دین کی داعی تھی۔ اور اسی کام کے لیے افراد کار تیار کرنا چاہتی تھی۔ مسجد سے منسلک مدارس اس وقت تک سیاست دانوں، حکومتوں، ریاستی اداروں اور ان کی پشت پر بیٹھے سامراج کے لیے بے ضر رتھے۔ کیوںکہ ان کا کردار مسجد سے مدرسہ تک، عقیقہ سے جنازہ تک اور فاتحہ سے درود تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ بھٹو نے مسجد سے جڑے مدارس کو نہیں چھیڑا تھا۔
افغانستان میں سویت یونین کی ننگی جارحیت اور قبضے (1979) کے بعد تحاریک اسلامی کے نوجوان افغان جہاد میں شامل ہوئے۔ سویت یونین کے انخلا (1989) کے بعد جب امریکا نے یہ طے کر لیا کہ فاتح اور پراعتماد مجاہدین کو اقتدار نہیں دینا ہے کیوںکہ وہ اسلام کے عالمی اثرات کے محرک بن سکتے ہیں تو مدارس کے طلبہ کو اس لیے کھڑا کیا گیا کہ سامراج کے نزدیک وہ بے ضرر تھے۔ ان کا تصور اسلام محدود اور مقامی تھا۔ طالبان کو اقتدار تک لانے میں امریکا، سعودی عرب، اور پاکستان کی مثلث (triangle) کام آیا۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے طالبان برسر اقتدار آگئے (1996)۔ اس حکومت کو سفارتی طور پر صرف پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قبول کیا۔ ان کے وسائل کی تنگی کو دور کرنے کے لیے دینی گروہ اور عالمی تحاریک اسلامی متوجہ ہوئیں اور طالبان نے ریاست کو چلانے کے لیے اسی طرز کا چندے کا نظام قائم کیا جس طرح مدارس کو چلانے کے لیے قائم کیا جاتا تھا۔ امریکا اور مغرب یہ سمجھتا تھا کہ وہ طالبان کو ذاتی معاملات میں شریعت کی آزادی دے کر اجتماعی معاملات میں مغرب کے عقیدئہ آزادی، جمہوریت، اور ترقی پر قائل اور قائم کر دے گا۔ اور وسط ایشیا تک کے امریکی معاشی مفادات کا تحفظ فراہم کرے گا۔ لیکن یہ ’’مولوی‘‘ ان کے لیے اور زیادہ مشکل لوہے کے چنے ثابت ہوئے۔ انہیں معلوم ہوا کہ ان کا عقیدئہ آزادی کے بجائے عبدیت، جمہوریت کے بجائے شریعت اور ترقی کے بجائے آخرت ہے۔ نہ ان کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ان کے ذریعے امریکی مفادات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ چنانچہ ایک بار پھر طالبان کو ہٹانے کے لیے پاکستانی فوجی مقتدرہ ہی کو استعمال کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔
افغانستان میں طالبان اور عراق میں صدام حسین کو ہٹانے کے لیے نائن الیون کا پردۂ دود (smokescreen) تیار ہوا۔ ادھر پاکستانی فوج کے پرویز مشرف کو امریکا نیچے سے اوپر لانے کے لیے بہت پہلے سے کوشاں تھا۔ اس نے اپنے اس خاص شخص کو بے نظیر بھٹو کے بہت قریب کر دیا تھا۔ جب کہ شروع میں وہ انہیں نا پسند کرتی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن کی لابنگ کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو نے انہیں دو ستارہ میجر جنرل بنایا۔ ان کے ذریعے 1993 میں پرویز مشرف نے واشنگٹن ڈی سی کے پاکستانی سفارت خانے میں بے نظیر بھٹو کی ملاقات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے افسران اور اسرائیلی وزیر اعظم اسحٰق رابن کے ایک نمائندہ سے کرائی تھی۔ 1993 سے 1995 تک مشرف نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ امریکا کا متعدد دورہ کیا (انسائکلو پیڈیا وکی پیڈیا)۔
اس کے بعد امریکی لابی کے دبائو میں نواز شریف کے ذریعے ہی وہ چار ستاروں والے جنرل بن گئے اور نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں تین رینک نیچے سے اٹھا کر اکتوبر 1998 میں چیف آف آرمی اسٹاف بنایا۔ انہیں مزید اوپر لانے کے لیے، 1999 مارچ تا مئی کارگل، کشمیر کا ’’عبوری فاتح‘‘ بنایا گیا۔ اکتوبر 1999 ہی میں فوجی بغاوت اور آئین کو معطل کر کے دو تہائی اکثریت رکھنے والی جمہوری پارلیمانی حکومت (نواز شریف کی مسلم لیگ ن) کا خاتمہ کیا گیا، اور جنرل پرویز مشرف، پاکستان کو کارپوریشن رجسٹرڈ‘‘ کر کے اس کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔ نائن الیون 2001 سے صرف دو سال قبل پاکستان میں امریکا کے خاص الخاص پرویز مشرف پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک ہو چکے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کو اسلام، علماء اور مدارس سے نفرت تھی۔ پہلی تصویر ان کی ایک کتے کے ساتھ آئی اور انہوں نے اپنا آئیڈیل ہیرو ترکی کا سیکولر قوم پرست کمال اتاترک کو قرار دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ نام ارادتاً پورے شعور کے ساتھ لیا تھا کیوںکہ اتاترک کی پہچان بھی یہی تھی کہ وہ اسلام، اس کے شعائر اور اس کی تمام روایات کا سخت دشمن تھا۔ جنرل مشرف نے اپنے اس منصب کو اسی مقصد کے لیے بھرپور طور پر نبھایا۔ ملک کو سیکولرائزیشن کی طرف تیزی سے لے کر جانے لگا۔ پاکستان کے روایتی معاشرے کو لبرلزم کی تیز دوڑ دوڑائی گئی اور آج کے پاکستانی معاشرہ پر اس کے بھرپور اثرات ہیں۔ اس سے قبل یہ کام ایم کیو ایم کراچی کی سطح پر کر چکی تھی۔ یہی وہ معاشرہ اور ’’نیا پاکستان‘‘ ہے جس کا بھرپور فائدہ عمران خان کو ملا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں عمران خاں کو ان کے حریف کا کردار دیا گیا تھا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنے ہاتھ میں رکھنا سامراج کے آزمودہ اور کامیاب سیاسی طریقے ہیں۔ عمران خان ہی جنرل پرویز مشرف کے اصل جانشین ہیں۔ دونوں امریکا میں بہت مقبول ہیں۔ امریکا کے اس انتہائی پسندیدہ شخص یعنی جنرل مشرف جس کو کارگل کے پہاڑوں پر چڑھا کر پہلے ہی ہیرو بنایا جا چکا تھا۔ نائن الیون کا حادثہ کرا کر جب مدارس کے طلبہ طالبان کی حکومت پر بمباری کا امریکی اور اتحادی فیصلہ ہو گیا تو جنرل مشرف نے پاکستان کے تمام زمینی، فضائی اور آبی نقل و حرکت کے ذرائع وسائل امریکا کے حوالے کر دیے۔ طالبان کابل چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے گئے۔ پاکستان اس جنگ میں چند سال قبل تک جب تک امریکی امداد جاری تھی، امریکا کا حلیف بن کر ان کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔
پاکستان میں طالبان افغانستان کی حمایت میں خصوصاً شمال مغرب سے جو قوت اٹھی، اس کو بذریعہ طاقت روکنا اب پاکستانی مقتدرہ کا اولین ہدف بن گیا۔ پاکستان سے سیکڑوں ٹرکوں کے ذریعہ روزانہ افغانستان میں جو فوجی سپلائی لائن جاری تھی اس کو پاکستان کی طالبان حمایتی قوت اپنے علاقوں سے جب روکتی تھی تو پاکستان کی فوج پوری قوت سے انہیں کچلتی تھی۔ امریکا ڈرون سے ان کے علاقے میں برسوں بمباری کرتا رہا جسے پاکستانی مقتدرہ کی مرضی اور حمایت حاصل تھی۔ پاکستان کی وزارت خزانہ 2010-11 میں یہ رپورٹ پیش کرتی ہے کہ 2001 سے اب تک پاکستانی ریاست کا 67.93 بلین ڈالر اس امریکی جنگ میںکھپ چکا ہے۔ جنرل مشرف نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر (In line of fire) میں لکھا ہے کہ اس نے تین ہزار سے زائد عام لوگوں کو پکڑ کر سی آئی اے کو بیچا۔ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو اسلام آباد سے پکڑ کر امریکا کے حوالے انہی دنوں کیا گیا۔ اب بھی ہزاروں لاپتا لوگوں کے وارثین چیخ رہے ہیں، رو رہے ہیں، پکار رہے ہیں، لیکن پاکستان کا بے حس مقتدرہ اور میڈیا اس آواز کو مکمل دبا چکا ہے۔ 1947 میں آزادی کے بعد پہلی بار افواج پاکستان خیبر ایجنسی میں داخل ہوئی۔ جس کا واحد مقصد امریکا اور اس کے زیرِ کمان اتحادیوں کے خلاف اٹھنے والے جذبہ جہاد کو کچلنا تھا۔ 16 جولائی 2004 سے اب تک 30,590 پٹھان قتل کیے جا چکے ہیں۔ (وکی پیڈیا en.wikipedia.org)۔ ظاہر ہے کہ ان کی عظیم اکثریت سویلین آبادی کی تھی۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان پر کیے جانے والے ہر حملے میں پاکستان فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔ علاقائی کمانڈر نیک محمد کے ساتھ اپریل 2004 میں حکومت پاکستان نے امن معاہدہ کیا جو جون 2004 میں امریکا کے میزائیل حملہ سے کمانڈر نیک محمد کی شہادت پر ختم ہو گیا۔ دوسری بار سرگودھا میں نیک محمد کے جانشیں بیت اللہ محسود کے ساتھ امن معاہدہ ہوا، لیکن اس کی بھی خلاف ورزی ہوئی، اور تیسرا امن معاہدہ میران شاہ میں ہوا۔ یہ آخری دونوں معاہدوں کے باوجود مشرف حکومت کے دور میں پاکستان فوج نے یک طرفہ اگست 2007 سے ان کا قتل عام شروع کر دیا۔ پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے۔
وہ پٹھان جو متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی مدد کے لیے آخری امید ہوتے تھے، وہ پٹھان جنہوں نے کشمیر میں جہاد کے ذریعے اس کا ایک حصہ آزاد کر کے پاکستان کو دیا تھا وہی پٹھان امریکی و پاکستانی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار بنے۔ 30اکتوبر 2006 کو باجوڑ میں ایک مدرسے پر امریکا نے فضائی حملہ کیا۔ جس میں 80 بچے شہید ہوئے۔ باجوڑ ایجنسی سے رکن قوم اسمبلی جماعت اسلامی کے صاحب زادہ ہارون الرشید نے احتجاجاً استعفا دے دیا۔ ان کے سوا کسی اور سیاسی جماعت اور حکومت کے کسی ادارے کے کان پر جون نہیں رینگی۔ 2 نومبر 2007 کو ایک ڈرون حملے میں جنوبی وزیرستان کے ایک مدرسے کے پانچ طلبہ شہید ہوئے۔ 13 جنوری 2010 کو پاسالکوٹ گاؤں کے ایک مدرسے پر حملہ ہوا 15 افراد شہید ہوئے۔ ان علاقوں میں کل 430 مصدقہ ڈرون حملہ ہوئے، جن میں متعدد مدارس شامل ہیں، ان ڈرون حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد (سرکاری اعداد و شمار) 4,026 ہے۔ جن میں مردوں اور عورتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ اور بچے شامل ہیں۔
(جاری ہے)