روداد سفر اور جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماع عام ۱۹۵۷ء(باب دہم)

80

مدینہ منورہ میں روضہ رسول پر حاضری کے بعد اس سفر کا آغاز کیا جس میں انہوں نے احد سے خیبر تک تمام اہم مقامات دیکھے اور ان کے بارے میں تحقیقی کام کیا۔ حضور کریمؐ کے دور مبارک میں بننے والی مساجد (مسجد قبا‘ مسجد الجمعہ‘ مسجد قبلتین‘ مسجد ذوباب‘ مسجد فتح‘ مسجد المصلی) دیکھیں‘ تاریخی اہمیت کا ہر کنواں دیکھا ان میں بیئر رومہ بھی تھا‘جسے نبی اکرمؐ کی خواہش پر سیدنا عثمانؓ نے ایک یہودی سے بتیس ہزار درہم میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا تھا۔
۲۱؍ دسمبر کو مدائن صالح پہنچے۔ وہاں پہنچنے تک اسی راستے سے گزرے جہاں سے رسول اللہؐ اور صحابہ کرام غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ مدائن صالح سے خیبر اور پھر تبوک پہنچے۔
۳۰؍ دسمبر کو اردن پہنچے۔ پہلے عقبہ گئے اور پھر معان‘ وادیٔ موسیٰ دیکھی۔ جہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنے آخری دور میں آکر ٹھیرے تھے اور یہیں سیدنا ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا تھا۔ بطرا اور اللّسان دیکھتے ہوئے موتہ پہنچے‘ جہاں رومیوں اور صحابہ کرامؓ کے درمیان جنگ ہوتی تھی۔ یہاں شہادت پانے والے صحابہؓ کی قبریں موجود تھیں‘ جن میں سیدنا جعفر طیارؓ‘ سیدنا عبداللہ بن رواحہؓ اور زید بن حارثہؓ شامل ہیں۔
یکم؍ جنوری ۱۹۶۰ء کو عمان پہنچے۔ دریائے اردن پار کرکے سید مودودی اور ان کے رفقاء فلسطین پہنچے۔ اریحاکا قدیم شہر دیکھا‘ پھر بیت المقدس پہنچے۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں مسجد اقصیٰ میں ادا کیں۔ ۵؍ جنوری۱۹۶۰ء کو بیت لُلحم اور الخلیل کے مقامات دیکھے۔ اس کے بعد ایک دن بیت المقدس کے آثار دیکھنے میں صرف کیا۔ ۱۰؍جنوری کو اصحاب کہف سے موسوم غار دیکھا۔ اسی روز اردن اور شام کی سرحد پر واقع ارید کا مقام دیکھا۔ اگلے روز سیدنا معاذ بن جبلؓ‘ سیدنا ابوعبیدہ بن جراحؓ اور سیدنا ضرار بن ازورؓ کے مزار دیکھے۔ پھر اردن کی ایک سرحدی پہاڑی پر کھڑے ہوکر دریائے یرموک کے اس پار جنگ یرموک کا تاریخی میدان دیکھا‘ جہاں سیدنا خالد بن ولیدؓ اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراحؓ کی قیادت میں چالیس ہزار مسلمانوں نے دو لاکھ رومیوں کے لشکر کو شکستِ فاش دی تھی۔
سفر کا اگلا مرحلہ دمشق اور قاہرہ سے منسوب تھا۔ ۲۱؍ جنوری کو نہر سوئز پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں داخل ہوئے۔ یہاں کئی تاریخی مقامات دیکھے۔ سفر میں اونٹوں پر اور پیدل بھی مسافت طے کی۔ یہ سفر ۵؍ فروری ۱۹۶۰ء کو کراچی واپس پہنچنے پر اختتام پزیر ہوا‘ جو تین ماہ جاری رہا۔
بنیادی جمہوریتوں کا نظام
ملک بھر میں یونین کونسلوں کی سطح پر دسمبر ۱۹۵۹ء کے آخری ہفتے سے لے کر جنوری ۱۹۶۰ء تک بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات ہوئے‘ جس میں براہ راست ووٹوں سے کل اسی ہزار نمائندے منتخب کیے گئے۔ جن میں سے چالیس ہزار مغربی پاکستان سے اور چالیس ہزار مشرقی پاکستان سے چنے گئے۔ ۷؍ جنوری ۱۹۶۰ء کو کابینہ میں صدر مملکت کے حق میں عوام سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے قرارداد منظور کی گئی۔ اجلاس کی صدارت آباد کاری کے وزیر لیفٹیننٹ جنرل محمد اعظم خان نے کی۔ ایوب خان نے اپنی انتخابی مہم شروع کردی‘ تاکہ عوام سے اعتماد کا ووٹ لے سکیں۔ ۲۱؍ جنوری ۱۹۶۰ء کو ڈھاکا پہنچے او رمشرقی پاکستان کے سترہ ضلعوں کا دورہ کیا۔ انتخابی جلسے کیے حالاںکہ وہ واحد صدارتی امیدوار تھے۔ اس کے بعد انہوں نے مغربی پاکستان کے دورے کیے۔
۱۴؍فروری ۱۹۶۰ء کو ملک بھر کے اسی ہزار ارکان بنیادی جمہوریت نے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالے اور ننانوے فی صد ووٹروں نے ایوب خان کے’’ حق‘‘ میں رائے دی۔ ۱۷؍ فروری ۱۹۶۰ء کو ایوب خان نے ’’منتخب‘‘ صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ اسی دن انہوں نے ملک کا نیا دستو ربنانے کے لیے گیارہ افراد پر مشتمل ایک آئینی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا‘جس کے صدر سپریم کورٹ کے جج جسٹس شہاب الدین تھے۔
۲۴؍ فروری ۱۹۶۰ء کو صدر’’فیلڈ مارشل‘‘ ایوب خان کی صدار ت میں کابینہ کے ایک اجلاس میں راولپنڈی کے نزدیک زیر تعمیر نئے وفاقی دارالحکومت کا نام اسلام آباد تجویز کیا گیا۔
۱۱؍ اپریل ۱۹۶۰ء کو نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا‘ جو اس سے پہلے پی آئی ڈی سی کے چیئرمین تھے۔ بعد میں جنرل محمد اعظم خاں کو مشرقی پاکستان کا گورنر بنادیا گیا۔ ۲۶؍ اپریل ۱۹۶۰ء کو پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس جاری کیا گیا‘ جس کے تحت پریس پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں۔
آئین کمیشن اور علماء کا اجلاس
حکومت کے نامزد کردہ غیر نمائندہ اور دستوری امور سے غیر متعلق زیادہ تر تاجروں اور زرعی ماہرین پر مشتمل آئین کمیشن نے چالیس سوالات پر مشتمل انگریزی زبان میں ایک سوالنامہ شائع کیا تھا۔ جس کا مقصد سابق آئین‘ انتظامیہ اور مقننہ کے اختیارات و فرائض‘ صدر کے اختیارات اور طریقہ انتخاب کے بارے میں عوام کی رائے جاننا تھا۔ مولانا مودودی کے ایما پر ملک کے ۱۹ علمائے کرام نے لاہور میں ۵‘ ۶؍مئی ۱۹۶۰ء کو ایک اجلا س منعقد کیا‘ جس میں ایوب خان کے آمرانہ اور استبدادی ہتھکنڈوں کے خلاف کلمہ حق بلند کیا گیا‘ اور بلاخوف واکراہ آئین کمیشن کے سوالنامے کا مشترکہ جواب دیا گیا‘ اور صدارتی نظام کے خلاف اور پارلیمانی نظام کے حق میں کھل کر رائے دی گئی۔
(جاری ہے)