چیف الیکشن کمشنر کا جرأت آمیز فیصلہ

147

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس سردار رضا نے حکومت کے نامزد کردہ دو اراکین سے حلف لینے سے انکار کردیا ہے ۔ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے الیکشن کمیشن کے دو اراکین رواں برس جنوری میں ریٹائر ہوگئے تھے جس کے بعد آئینی طور پر حکومت کو 45 روز کے اندر اندر تقرری کردینی چاہیے تھی مگر حکومت اپنی اس ذمہ داری کو بھی پورا نہیں کرسکی اور یوں محض حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان اس وقت مکمل نہیں ہے بلکہ آئینی طور پر غیر فعال بھی ہے ۔ اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ الیکشن کمیشن جو اصولی طور پر ایک غیر جانب دار ادارہ ہونا چاہیے ، حکومت اس میں اپنے ایسے اراکین کا تقرر چاہتی تھی جو دیگر سیاسی پارٹیوں کی نظروںمیں غیر جانبدار نہیں تھے ۔ اب بھی حکومت نے جن دو افراد کا تقرری کیا ہے ، ان پر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے ہی اعتراض کردیا اور ان سے حلف لینے سے انکار کردیا ۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی سمیت اسے سرکاری بنچوں نے افسوسناک قرار دیا ہے جبکہ حزب اختلاف میں شامل ساری ہی سیاسی پارٹیوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔ کسی بھی ملک کے استحکام اور ترقی کی ضامن کوئی سیاسی پارٹی یا شخصیت نہیں ہوتی بلکہ ادارے ہوتے ہیں جو اس ملک میں ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہیں ۔ ان اداروں میں عدلیہ ، بیوروکریٹ، ٹیکنوکریٹ ، الیکشن کمیشن شامل ہیں ۔ یہ الیکشن کمیشن ہی کا اہم ادارہ ہے جو دھاندلی سے پاک انتخابات کے انعقاد کو یقینی بناتا ہے تاکہ رائے دہندگان کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جاسکے ۔ انتخابات میں دھاندلی ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ملک میں حکومت کے قیام کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہوتا رہا ہے اور ہر مرتبہ جب بھی حکومت کا قیام عمل میں آتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ پہلی اینٹ ہی غلط رکھی گئی ہے ۔ موجودہ حکومت پر پھبتی ہی سیلیکٹڈ کی کسی جاتی ہے جس پر وزیر اعظم عمران نیازی شدید برافروختہ ہوتے ہیں ۔میرٹ پر حکومت نہ آنے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب بگاڑ ہر جگہ شروع ہوجائے گا ۔ جو بھی دھاندلی سے برسراقتدار آتا ہے ، اسے اپنی کمزوری کا بخوبی علم ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ میرٹ کو پس پشت ڈالتے ہوئے ہر جگہ ایسے افراد کا تقرر کرنا چاہتا ہے جو اس کے ہر فیصلے کو خواہ وہ غلط ہو یا صحیح ، نافذ کرسکیں ۔ چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار رضا نے ایسے میں حکومت کے فیصلے سے اختلاف کرکے عوام میں الیکشن کمیشن کی ساکھ کی بحالی کی طر ف بڑا قدم اٹھایا ہے ۔ انتخابات چاہے بلدیاتی سطح پر ہوں یا قومی سطح پر ، پاکستان میں ہمیشہ ان پر سوالیہ نشان رہے ہیں ۔ اگر یہی ایک ادارہ درست طریقے سے کام کرنے لگ جائے تو پھر ملک میں استحکام اور ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔الیکشن کمیشن کے معاملے میں مداخلت کرنا صدر کا اختیار ہی نہیں ہے۔ 2002ء اور 2006ء میں صدر پرویز مشرف نے بھی مداخلت کی تھی اور چیف الیکشن کمشنر نے حلف لینے سے انکار کردیا تھا جس پر پرویز مشرف نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے لیاتھا۔ ایم کیو ایم سے وابستہ وزیر قانون کا دعویٰ ہے کہ جب صدر نے نوٹیفکیشن جاری کردیا تو الیکشن کمشنر حلف لینے سے انکار نہیں کرسکتا۔ یہ الیکشن کمیشن ہی کی چھلنی ہے جس سے ملک پر قابض الیکٹبلز سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے ۔ ویسے تو اراکین اسمبلی ، عدلیہ ، صدر، گورنر ، وزرائے اعلیٰ سمیت سارے ہی اہم افرادجن میں ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی شامل ہیں ، اپنی ذمہ داریوں کی بہ احسن ادائیگی کا حلف اٹھاتے ہیں ۔ تاہم یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ ان میں سے چند ہی ہوتے ہیں جنہیں اپنا حلف یاد بھی رہتا ہو ۔ پاکستان میں تو محاورہ مشہور ہے کہ قانون بنانے اور نافذ کرنے والے ہی سب سے بڑے قانون شکن ہوتے ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عمران نیازی چیف الیکشن کمشنر کے اعتراض کو خوشدلی سے قبول کرتے ہوئے اہل افراد کی قانون کے مطابق نامزدگی کریں گے اور اپنی ٹیم بشمول وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی اوروزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو اس پر نامناسب تبصرے نہ کرنے کی بھی ہدایت کریں گے ۔ اسی طرح ہم حزب اختلاف سے بھی امید رکھتے ہیںکہ ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ وہ ان صوبوںمیں بھی کریں گے ، جن صوبوں میں ان کی حکومتیں ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات کی آمد آمد ہے جو صوبائی الیکشن کمشنر کی زیر نگرانی ہوتے ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کے مقابلے میں دھاندلی کی زیادہ شکایات آتی ہیں ۔ اس وقت سندھ کا پورا بلدیاتی نظام تباہی کا شکار ہے ۔ بلدیات کے زیر انتظام ادارے چاہے اسکول و کالج ہوں یا ڈسپنسریاں اور اسپتال ، تباہی کا شکار ہیں ۔ صفائی ستھرائی کا نظام تو دور سے ہی دیکھا جاسکتا ہے ۔ کیا ہی بہتر ہو کہ حزب اختلاف کی بڑی پارٹی پیپلز پارٹی بھی سندھ میں اسی اصول پر عمل پیرا ہو جس کی وہ وفاق میں تحریک انصاف کو تلقین کررہی ہے ۔