بین الصوبائی اداروں پر وفاقی لیبر قوانین کا اطلاق ہوگا ؟

117

رانا محمود علی خان
روزنامہ جسارت کے صفحہ محنت پر5اگست کو ایک سیمینار کی رپورٹ شائع ہوئی ہے یہ سمینار پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ہیومن ریسورس مینجمنٹ نے ویبکوپ اور FESکی معاونت سے منعقد کیا لیکن اس اہم موضوع پر ویبکوپ کی جانب سے احسان اﷲ خان شریک ہوئے اور انہوں نے اختتامی خطاب بھی کیا۔ میرا پہلا اعتراض یہ ہے کہ احسان اﷲ خان ازخود اس چیز کے کیسے مجاز ہیں کہ وہ بغیر کسی مشاورت اور ویبکوپ کے بنیادی ممبران کو نظر انداز کر کے ازخود وہاں صدارت کے لیے چلے جائیں اور اپنے خیالات کا بھی اظہار کریں۔ احسان اﷲ خان صاحب کی یہ ذاتی خیالات ہو سکتے ہیں ویبکوپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محتر م شاہد انور باجوہ نے جن خیالات کا اظہار کیا اصل میں انہوں نے عکاسی کی ہے کہ وہ اب بھی ایمپلائر کے نمائندے ہیں اور ہر وہ غلط حوالہ دیں گے جو ایمپلائر کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ میں معذرت کے ساتھ تحریر کر رہا ہوں کے سندھ ہائی کورٹ کے جج بننے سے پہلے بھی وہ ایمپلائر کے مشہور ایڈوائزر رہ چکے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ یہ کام کر رہے ہیں اور معذرت کے ساتھ بحیثیت جج انہوں نے کئی ایسے فیصلہ کیے ہیں جولاکھوں محنت کشوں کے مفادات کے خلاف تھے۔ بہرحال بحیثیت جج شاہد انور باجوہ کو یہ پورا حق حاصل تھا کہ وہ جو بہتر سمجھیں فیصلہ کریں۔ اس مذاکرہ میں کچھ مزدور رہنما اور ان کے ہمدرد بھی موجود تھے لیکن انہوں نے اس پر کوئی اختلاف نہیں کیا میں جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں اس کی مجاز تھیں کہ وہ تمام لیبر قوانین تشکیل دیں اور یہ کام چاروں صوبوں نے کیا بھی ہے۔ صرف انڈسٹریل رلیشن ایکٹ ایسا قانون ہے جو 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے جاری کیا اب اس کو بنیاد بنا کر ایمپلائر اور ان کے وکلاء چاروں صوبوں کے وہ قوانین جو انہوں نے تشکیل دیے ہیں وہ تسلیم کرنے سے نہ صرف انکار کر رہے ہیں بلکہ مختلف عدالتوں میں اس نکتہ نگاہ کو پیش کر کے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ میں نے دوماہ پہلے اپنے مضمون میں جو صفحہ محنت میں شائع ہوا ہے اس کی نشان دہی کر دی تھی اور اب یہ مسئلہ اب ایمپلائر کی طرف سے اٹھایا جا رہا ہے کہ بین الصوبائی اداروں پر صوبائی لیبر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ویسٹ پاکستان انڈسٹریل رلیشن ایکٹ 1968اگر ڈھرکی کی FFCفرٹیلائزر پر اس کا اطلاق ہو اور سندھ ایمپلائیمنٹ اسٹینڈنگ آرڈر2015 کا اس پر اطلاق نہ ہو تو یہ مجھے بتایا جائے کہ اسٹینڈنگ آرڈر1968کے تحت اس کی خلاف ورزی کرنے پر انسپکٹر کس عدالت میں کیس داخل کرے گا جب کہ اسٹینڈنگ آرڈر کی خلاف ورزی پر حکومت سندھ کی جانب سے مقرر کردہ انسپکٹر ہی فیکٹری کا انسپکشن کرنے اور اسٹینڈنگ آرڈر کی خلاف ورزی پر لیبر کورٹ میں کیس داخل کرنے کا مجاز ہے۔ جب کہ وفاق کی سطح پر نہ تو کوئی لیبر انسپکٹر مقرر ہیں اور نہ ہی اس قانون کے تحت وفاق کی کوئی لیبر کورٹ چاروں صوبوں میں موجود ہے اسی طرح سے اتھارٹی انڈر پیمنٹ آف ویجیز ایکٹ، فیکٹری ایکٹ کی خلاف ورزی پر پرانے قوانین پر کس اتھارٹی میں کیس داخل کیے جائیں گے۔ جب کہ صوبوں کی سطح پر جو قوانین مرتب کیے گئے ہیں وہ صوبوں کی بنیاد پر مجاز اتھارٹی مقرر کی ہے اور ان قوانین کے تحت وہ مقامی عدالتوں میں جو صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہے داخل کرتے ہیں۔ میرا سوال بہت واضح ہے کہ میں اس جواب کا منتظر ہوں کہ وفاقی بین الصوبائی اداروں پر وفاقی لیبر قوانین کا اطلاق ہوگا تو اس کی خلاف ورزی کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ ، لیبر انسپکٹرز او ر یونینزصوبوں میں مقرر کردہ عدالتوں کے بجائے وفاق کی کس عدالت میں جائیں عدالت کے نام پر ان کی رائے یہ ہو سکتی ہے کہ وہ NIRCہے میں یہ بہت واضح طور پر پہلے بھی تحریر کر چکا ہوں کہ NIRC، لیبر کورٹ اور اتھارٹی انڈر پیمنٹ آف ویجیز کا بدل نہیں ہے نہ ہی ان کے پاس ایسی افرادی قوت ہے۔ وہ تو انڈسٹریل رلیشن ایکٹ2012کے اختیارات کو پورا کرنے کے لیے ہی نہ کافی ہیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ وضاحت ضروری تھی اور اس کی بروقت ہی مخالفت کرنی چاہیے تھے۔ بہرحال میں نے اس کو فرض سمجھا کہ ایمپلائر اور ان کے وکلاء کی رائے کو اسی مرحلے پر رد کر دیا جائے۔ میں اس مذاکرہ میں موجود ہوتا تو اس کا اسی وقت جواب دیتا اور اگر کسی اور جگہ اس قسم کا مذاکرہ منعقد کیا جائے تو میری خواہش ہے کہ مجھے اس میں مدعوکیا جائے میں اس پر تفصیلی بروقت جواب دینے کی پوزیشن میں بھی ہوں ۔