پاکستان کی سفارتی کامیابی

128

پاکستان کی سفارتی محاذ پر بڑی کامیابی، بھارت کو منہ کی کھانی پڑی، سلامتی کونسل کے 15 ارکان کی متفقہ رضا مندی سے پچاس سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب جموں و کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تبادلہ خیال ہوا ہے۔ اقوام متحدہ میں آخری بار 1965 میں جموں و کشمیر پر خصوصی گفتگو ہوئی تھی، اور 1965 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے انسانیت سوز وحشیانہ مظالم کے باوجود اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کی آواز سنی نہیں جا رہی تھی۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پاکستان کی تحریک پر ہندوستان کی مخالفت اور روکنے کی کوشش کی کے باوجود کشمیر کے معاملات پر اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کی متفقہ رضا مندی سے سماعت ہوئی اور یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
سلامتی کونسل نے کشمیرکے مسئلے پرغور کے لیے بھارت کے اس موقف اور پروپیگنڈے کو بھی مسترد کردیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا ایک داخلی معاملہ ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس نے تنازعے کی بین الاقوامی حیثیت کی ایک بار پھر تصدیق کر دی ہے۔ اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے اس بات کی بھی تصدیق ہوگئی ہے کہ جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی جن قرار دادوں میں رائے شماری کا مطالبہ کیا جاتا رہا وہ تمام قرار دادیں زندہ اور تنازع کشمیرکے حل میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ سلامتی کونسل میں ہونے والی بحث سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں او آئی سی، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور سب سے اہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی تقویت دی ہے۔ تنازع کے پرامن حل کے لیے سلامتی کونسل میں اتفاق رائے پاکستان کے موقف کی واضح توثیق اور فتح ہے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جسے سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے نہ کہ یک طرفہ جبر کے ذریعے دبایا جائے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کی کارروائی جموں و کشمیر کے بھارت کے غیر قانونی منسلک ہونے کا جواب دینے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوشش میں صرف پہلا قدم ہے۔ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم رہے گا اور اس وقت تک سفارتی محاذ پر بھارت کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کرتا رہے گا۔ جب تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازع کا منصفانہ حل نہ ہوجائے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کے تنازع پر اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کی مخالفت کے باوجود، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہونا پاکستان کی سفارتی فتح ہے، جس سے بھارت نے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر سلامتی کونسل کے اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کی تھی تاہم وہاں کے معاشرے کا ایک بڑا حصہ نریندر مودی کی کشمیریوں کی نسل کشی کی صورت میں جارحانہ سوچ کو پہچان چکا ہے۔
بھارت نے سلامتی کونسل کے اراکین سے رابطہ کرکے بتایا کہ کشمیر تنازع پر سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، یہ ان کا داخلی مسئلہ ہے لیکن یہ نکتہ تسلیم نہیں ہوا بلکہ یہ بات تسلیم کی گئی کہ پاکستان، مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے حق میں ہے، سب جانتے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں مواصلاتی بندش سے اسے جیل میں تبدیل کردیا ہے، بھارت نے کشمیر کی حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کردیا ہے جبکہ پاکستان اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یہ تنازع حل نہ کراسکی تو دنیا پاکستان اور بھارت کی جنگ سے ہونے والے اثرات کا سامنا کرے گی۔ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں کئی دہائیوں بعد اٹھایا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے درست کہا کہ پوری مسلمان برادری اسلامی تعاون تنظیم کی جانب دیکھ رہی ہے کہ وہ آگے بڑھے اور معصوم کشمیری عوام کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کشمیر کے مسئلے پر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کی کارروائی پر غور کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی تشکیل کردہ 8 رکنی کمیٹی کا اہم ان کیمرہ اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہوا وزارتِ خارجہ میں جاری اجلاس میں 50 سال بعد مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں ہونے والی بحث اور اس حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی ہے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تالا بندی اور کشمیریوں کی حالتِ زار بھی اس اجلاس میں زیر بحث آئی اجلاس میں بھارت کی جانب سے جارحیت اور جوہری خطرات پر بھی غور کیا گیا جبکہ بھارتی فورسز کی کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزیوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اجلاس میں اٹارنی جنرل انور منصور، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزیر اعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان، پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے سربراہ سید فخر امام، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، مشاہد حسین سید، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین، بھی شریک ہوئے اجلاس میں کنٹرول لائن (ایل او سی) پر بھارتی اشتعال انگیزی سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یک طرفہ غیر قانونی اقدام اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی بات چیت کی گئی اور فیصلہ یہی ہوا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ اقوام عالم کے سامنے اپنا مقدمہ زور دار طریقے سے رکھا جائے گا۔