قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

95

(کہا گیا) ’’بھاگو نہیں، جاؤ اپنے انہی گھروں میں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کر رہے تھے، شاید کہ تم سے پوچھا جائے‘‘۔ کہنے لگے ’’ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطا وار تھے‘‘۔ اور وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کر دیا، زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا۔ ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کر لیتے۔ مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مِٹ جاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے اْن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔ (سورۃ سورۃ النباء: 13تا18)

سیدنا صہیبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کے معاملہ پر تعجب ہے کہ اس کا سارا کام خیر ہی خیر ہے یہ (سعادت) مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے اگر اسے دکھ پہنچتا ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ سراپا شکر بن جاتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے یعنی وہ ہر حال میں خیر ہی خیر سمیٹتا ہے۔ (مسلم)
سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا : دکھ تکلیف کے پہنچنے پر تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے۔ اگر بہت ہی ناگزیر صورت حال پیش آجائے تو اسے یہ کہنا چاہیے اے اللہ مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہو مجھے وفات دے جب کے موت میرے لیے بہتر ہو۔ (بخاری)