قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

100

اور جو میرے ’’ذِکر‘‘ (درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اْس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے‘‘۔ وہ کہے گا ’’پروردگار، دْنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اْٹھایا؟‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تْو نے بھْلا دیا تھا اْسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے‘‘۔ اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو (دْنیا میں) بدلہ دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے۔ پھر کیا اِن لوگوں کو (تاریخ کے اس سبق سے) کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (برباد شدہ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ در حقیقت اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اْن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں۔ (سورۃ طہ: 124تا128)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ صحابہ حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دلوں میں بعض اوقات اتنے برے خیالات آتے ہیں جنہیں ہم بیان نہیں کر سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی اس طرح کے خیالات آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے ایمان خالص کی دلیل ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح: مطلب یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں برے خیالات کا آنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمہارے پاس ایمان کا خزانہ ہے شیطان اس طرح وسوسہ اندازی کرکے اس خزانے کو لوٹ لینا چاہتا ہے تو یہ پریشان ہوئے کی کوئی بات نہیں ہے تمہیں اپنا کام کرنا ہے اور شیطان کو اپنا کام کرنا ہے تم شیطانی وس واس سے بچتے رہو یہ کافی ہے۔ (مشکوٰۃ)