ٹرمپ کا کشمیر کو متنازع خطہ ماننا ہی پاکستان کی جیت ہے،فردوس عاشق اعوان

41

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر کو متنازعخطہ ماننا ہی پاکستان کی جیت ہے۔منگل کو پیمرا آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ عمران خان نے کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو مذاکرات کی میز پر شکست دے دی، وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کامیاب ہوئی،پاک امریکا رہنماؤں کی ملاقات نے بھارتی میڈیا کو چاروں شانے چت کردیا اور پیر کو ہونے والی مثبت ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا زہر اگل رہا ہے، مثبت ملاقات کے بعد بھارتی میڈیا کے بے بنیاد الزامات مسترد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم ہی مبار کباد کی مستحق ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے پاکستانی قوم کو ”محنت کش قوم”کہا جسے پہلے انتہا پسندی سے جوڑا جاتا رہا۔انہوں نے کہا کہ گرفتار بھارتی پائلٹ کی واپسی کا جو واقعہ ہوا وہ تاریخی ہے، جس سے پاکستان کا مضبوط بیانیہ سامنے آیا اور عمران خان کو امن کے داعی کے طور پر بھی دیکھا جارہا تھا۔بھارتی پائلٹ کو واپس کرکے نئی دہلی کو امن قائم کرنے کا ایک اور موقع دیا گیا تھا اور انہیں بتایا تھا کہ امن کی خواہش ضرور ہے جسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات سے پاکستان کا اصل تشخص بحال ہوا اور صرف پاکستانی بیانیے نہیں بلکہ پورے پاکستان اور قوم کی جیت ہوئی ہے،وزیراعظم عمران خان کے نیانیے کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، افغان جنگ میں پاکستان کے کردار کو امریکا نے سراہا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک سے کھلواڑ کرنے والوں سے عوام کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ 25جولائی کو اپوزیشن اپنے اقدام پر ماتم کریگی۔عوام یوم سیاہ سے لاتعلق رہیں گے۔ مہنگائی کنٹرول کرنا صوبائی حکومتوں کا کام ہے۔سندھ کے عوام کو سیاسی وراثتی نظام سے آزاد کرانا ہمارا عزم ہے۔کراچی میں امن کی صورتحال بہتر ہونے سے بیرونی سرمایہ کار آئینگے۔کراچی ہمارا چہرہ ہے جسے دیکھ کر دنیا فیصلے کرتی ہے۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانا وفاق پر حملہ ہے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے اے پی این ایس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت آزادی صحافت کو اپنا نصب العین سمجھتی ہے اور اخباری صنعت کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اے پی این ایس ہائوس کا دورہ کیا اور اے پی این ایس ارکان سے ملاقات کی،جہاں انہیں اخباری صنعت کو درپیش شدید مالی بحران کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا،اے پی این ایس کے صدر حمید ہارون اور سیکرٹری جنرل سرمد علی نے صورت حال کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے ذمے طویل عرصے سے واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی ،معاشی ابتری کے باعث نجی شعبے کے اشتہارات میں معتدبہ کمی اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث اخباری درآمدات کی لاگت میں اضافے کے باعث اخباری صنعت شدید مشکلات اور مالی بحران سے دوچار ہے،انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ وفاقی حکومت اخباری صنعت کی مدد کے لیے بیل آئوٹ پیکج کا اعلان کرے،واجبات کی ادائیگی جلد از جلد کی جائے اور اے پی این ایس رکن مطبوعات کے لیے اشتہارات کے حجم میں اضافہ کیا جائے، اے پی این ایس عہدیداران نے نشاندہی کی کہ گزشتہ18برس میں سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں محض 50فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ افراط زر میں 200فیصد سے زائد اضافہ ہوا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں افراط زر اور C.P.Iکے مطابق اضافہ کیا جائے اجلاس میں موجود ارکان نے معاون خصوصی کو بتایا کہ سرکاری اشتہارات کے اجراء میں علاقائی کوٹے پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا اور سندھ کے اخبارات خصوصاً علاقائی زبانوں کے اخبارات کو وفاقی حکومت کے اشتہارات جاری نہیں کیے جارہے ۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اے پی این ایس کو مطلع کیا کہ وفاقی حکومت واجبات کی ادائیگی کو اولین ترجیح سمجھتی ہے اور توثیق شدہ واجبات کی قابل ذکر رقم کی ادائیگی کردی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ رقم کی ادائیگی بھی اگلے ماہ کردی جائے گی۔انہوں نے سرکاری اشتہارات کے نرخوں میں اضافے کے مطالبہ سے اصولی طور پر اتفاق کیا تاکہ اخبارات کی مالی صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی وزارت اطلاعات اور اے پی این ایس کے عہدیداران کا اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں اشتہاری پالیسی اور دیگر معاملات پر مشاورت کی جائے گی ۔