سپہ سالار کی خدمت میں چند گزارشات

302

گزشتہ دِنوں (28جون 2019ء) سپہ سالار جنرل قمر جاوید باوجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ’’قومی معیشت‘‘ پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بہت اہم گفتگو کی۔ آپ نے کہا ’’معاشی خود مختاری کے بغیر دوسری خود مختاری ممکن نہیں، مشکل فیصلے نہ کرنے سے مسائل بڑھے۔ مشکل حکومتی فیصلے کامیاب بنانا سب کی ذمے داری ہے، معاشی استحکام کے بغیر خود مختاری کا تصور بے معنی ہے، ملک مشکل حالات سے دوچار ہے مگر یہ وقت ایک قوم بننے کا ہے، مشکل حالات میں قومی اتحاد کے بغیر کوئی فرد واحد کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، خطے کی ترقی کے لیے علاقائی رابطوں کو فروغ دینا ہوگا، آج کے دور میں ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں، قومی اُمور پر کھل کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔
پاک فوج کے سپہ سالار نے موجودہ ’’قومی بحران‘‘ کا جو تجزیہ کیا ہے وہ تمام حوالوں سے اہم اور توجہ طلب ہے تاہم جیسا کہ سپہ سالار نے خود کہا ہے کہ قومی اہمیت کے حامل امور پر کھل کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے تو اِس ’’اجازت‘‘ کے بعد ہم بھی سپہ سالار کے خطاب اور تجزیے پر چند گزارشات سامنے رکھنا چاہیں گے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ مشکل فیصلے کیوں کیے جارہے ہیں، آسان فیصلے کیوں نہیں اور مزید یہ کہ کیا ماضی کے اندر ہمارے حکمرانوں نے کہ جن میں سیاستدان اور جرنیل دونوں شامل ہیں مشکل فیصلے نہیں کیے، کیا یہ نہیں کہا گیا کہ مشکل فیصلے مجبوری ہیں، قوم ساتھ دے جلد بحران سے نکل جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ نتیجے میں کیا ہوا، کیا کسی بھی مشکل فیصلے کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آیا۔ اکتوبر 2001ء میں برادر اسلامی اور پڑوسی ملک افغانستان پر امریکا و ناٹو افواج کو حملہ کرنے میں مدد دینے کے لیے پاکستان کی سرزمین سے بندرگاہ، ہوائی اڈے، لاجسٹک اور انٹیلی جنس سپورٹ دینے کا جو مشکل فیصلہ جنرل مشرف اور ان کے رفقا نے کیا تھا اُس کا نتیجہ کیا نکلا۔ کیا پاکستان کو کوئی فائدہ پہنچا، مقبوضہ کشمیر آزاد ہوا، ایٹمی پروگرام محفوظ ہوا اور پاکستان مضبوط ہوا یا یہ کہ پاکستان کو مذکورہ ’’مشکل فیصلے‘‘ کے نتیجے میں 85ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینی پڑی، اپنے وسائل سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا جس سے ہماری معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا، دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو پاکستان کے داخلی امن اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا موقع مل گیا۔ کوئی ہے کہ جو ایک قومی کمیشن یا عدالتی کمیشن بنائے جو جنرل مشرف اور اُن کے رفقا کے مذکورہ ’’مشکل فیصلے‘‘ کا جائزہ لے اور قوم کو اس فیصلے کے نقصانات و مضمرات سے آگاہ کرے۔
آپ نے کہا کہ ’’معاشی خود مختاری کے بغیر دوسری خود مختاری ممکن نہیں‘‘۔ محترم جنرل صاحب ہمارا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو پاکستان ہی وجود میں نہ آتا۔ نظریاتی بالادستی معاشی خود مختاری سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے تاہم ملک کی ترقی اور قوم کی خوشحالی کے لیے معاشی خود مختاری کی ضرورت اور اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا مگر کیا ’’معاشی خودمختاری‘‘ حاصل ہونے والے عوام ہی نے اپنی آزادی اور خود مختاری کا تحفظ کیا، اگر ایسا ہے تو پھر آج افغانستان سے مقبوضہ کشمیر اور فلسطین تک کی صورتِ حال کا تجزیہ کس طرح سے کیا جائے گا۔ جب کہ یہ تینوں خطے معاشی خود مختاری تو کیا انسانی بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں مگر بھارت، اسرائیل، ناٹو اور امریکا جو دنیا بھر میں معاشی طاقت تصور کیا جاتے ہیں اُن کے ناک میں دم کر رکھا ہے، یہاں معاشی خود مختاری کی حامل قوتیں معاشی ترقی سے محروم اقوام پر کیوں قابو نہ پاسکیں؟۔ تاہم اگر مذکورہ تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم اس بات سے اتفاق بھی کرلیں کہ معاشی خود مختاری کے بغیر دوسری کوئی خود مختاری ممکن نہیں تو تب بھی یہ سوال ضرور اُٹھے گا کہ کیا عالمی مالیاتی اداروں سے سود پر قرض لینے سے معاشی خود مختاری ممکن ہے یا یہ کہ اس طرح سے غلامی کا طوق اُٹھا کر ازخود اپنی گردن میں ڈال لینے کے مترادف ہے۔ حقیقت ہے کہ معاشی خود مختاری ’’IMF‘‘ سے سود پر قرض اُٹھانے سے نہیں بلکہ خود انحصاری اور اپنے مسائل پر بھروسا کرنے سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ ماضی میں جن حکومتوں نے بھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے لیے اُن کا انجام کیا ہوا، کیا آج کا معاشی بحران محض کرپشن یا منی لانڈرنگ کی وجہ سے سامنے آیا، یا یہ کہ اربوں ڈالر کا سودی قرض ہماری معیشت کو چاٹ گیا، جنرل صاحب آپ نے یہ تو سنا ہی ہوگا کہ جتنی چادر ہے اتنے پائوں پھیلائے جائیں تو اِس حوالے سے گزارش ہے کہ خسارے کا بجٹ کیوں پیش کیا گیا، قومیں غیرت کے ساتھ زندہ رہتی ہیں ڈالر کے ساتھ نہیں، افغان مجاہدین نے پیاز توڑ کر سوکھا نا کھایا مگر اپنی آزادی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونے دیا، یہاں تک کہ سوویت افواج کو افغانستان سے انخلا کرنا پڑا، جب کہ آج بھی افغانستان کا مستقبل یہی ہے کہ غیر ملکی حملہ آور (امریکا و ناٹو) فوج منرل واٹر پینے، پیزا کھانے، ڈالر جیب میں رکھنے اور ٹینک پر سوار ہونے کے باوجود افغانستان کے غریب عوام اور طالبان سے واپسی کا محفوظ راستہ لینے کے لیے پائوں پڑ رہے ہیں۔
جنرل صاحب آپ نے کہا کہ ’’ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں‘‘۔ تو کیا بالفاظ دیگر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فرغ دے کر ترقی کرسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر کیا امن کے بغیر تجارتی تعلقات قائم ہوسکتے ہیں اور مزید یہ کہ کیا پاک بھارت کشیدگی کو ’’مسئلہ کشمیر‘‘ حل کیے بغیر دور کیا جاسکتا ہے، کیا یہ کہنا زیادہ موزوں نہ تھا کہ ’’تنازعات‘‘ کو حل کیے بغیر امن، ترقی اور ہر طرح کی خودمختاری کی حفاظت یا حصول ممکن نہیں، ویسے بھی یہ کہنا کہ ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ کیا امریکا کے پڑوس میں کیوبا، جاپان اور چین کے قریب شمالی کوریا، روس کے نزدیک پولینڈ، سعودی عرب کے ساتھ یمن اور مستحکم معاشی پوزیشن رکھنے والے ممالک کے پہلو میں افغانستان ترقی یافتہ ہیں؟۔ تاہم اگر یہاں امریکا اور مغربی یورپ کی ترقی کی مثال دی جارہی ہے تو اس کی وجوہات عالمی اقتصادی نظام اور نوآبادیاتی نظام ہیں کہ جن کے ذریعے دنیا بھر سے وسائل لوٹ کر پیرس، برلن، لندن اور واشنگٹن کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے ان کے بینکوں کے تہ خانوں کو سونے کی اینٹوں سے بھر دیا گیا۔
’’مشکل فیصلوں کو کامیاب بنانا سب کی ذمے داری ہے‘‘۔ بہت اچھی بات ہے ایسا ضرور ہونا چاہیے مگر کیا حکومت کی پالیسیاں ایسی ہیں کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے؟ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مشکل حالات میں کوئی فرد تنہا کامیاب نہیں ہوسکتا، سنگین چیلنجوں کا مقابلہ قومی اتحاد ہی سے کیا جاسکتا ہے اور آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب ایک قوم بن کر سوچیں۔ جنرل صاحب بات بالکل ٹھیک اور درست ہے مگر کیا وزیراعظم عمران خان صاحب کے اقدامات اور رویے میں ایک قوم بننے کا کوئی پیغام یا دعوت نظر آرہی ہے یا یہ کہ ہم تقسیم در تقسیم کی طرف بڑھ رہے ہیں؟۔
حقائق یہ ہیں کہ معاشی استحکام یا معاشی خود مختاری کے لیے تحریک انصاف کی حکومت جو ’’مشکل فیصلے‘‘ کررہی ہے وہ قوم کی مشکلات میں تو ضرور اضافہ کریں گے مگر اِن فیصلوں سے امریکا اور آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی اداروں کا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ انہیں خوشی ہوگی کہ پاکستانی حکمران خود ہی اپنی قوم کے ہاتھ پائوں باندھ کر اُسے عالمی سامراج کے پاس گروی رکھ رہے ہیں۔ کشکول اُٹھا کر بھیک مانگنا کوئی مشکل فیصلہ نہیں، مشکل فیصلہ تو یہ ہوتا کہ کشکول توڑ کر ایک ڈالر بھی کسی سے قرض نہ لیا جاتا۔ بیرونی قرضے اُتارنے کے لیے دوست ممالک اور اپنے ہم وطنوں سے اپیل کی جاتی، اپنے وسائل میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کی جاتی، کم از کم دو سال کے لیے تمام لگژری سازوسامان کی پاکستان میں درآمد روک دی جاتی، اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے خود انحصاری کو معاشی خودمختاری کا پہلا اصول بنالیا جاتا، کرپشن اور منی لانڈرنگ وغیرہ کا پیسہ واپس لینے کی ضرور کوشش کی جائے تاہم کم از کم گزشتہ 50 برسوں میں جن لوگوں نے بینکوں سے اربوں روپے کے قرض معاف کروائے ہیں اُن سے بھی پیسہ واپس کرانے کا ضرور کوئی قانونی انتظام ہونا چاہیے۔
بہرحال ہم دعاگو ہیں کہ ملک اور قوم مشکل فیصلوں کی زد سے بخیر و عافیت نکل جائے اور اللہ کریم تمام اہل وطن کے لیے آسانیاں فرمائے۔ آمین ثم آمین۔