کسی کا حکم ہے

115

شاہد خاقان عباسی بھی نیب کی خشک ٹہنی پر وار دیے گئے۔ اس پر بات کرنے سے پہلے بالی وڈ کے مشہور گیت کار جاوید اختر کی ایک نظم کا ابتدائی حصہ ملا حظہ فرمائیے:
کسی کا حکم ہے، ساری ہوائیں، ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں
کہ ان کی سمت کیا ہے، کدھر جارہی ہیں۔
ہوائوں کو بتانا یہ بھی ہوگا، چلیں گی جب، تو کیا رفتار ہوگی
کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے۔
ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں، یہ کاغذکے محل جو بن رہے ہیں۔
حفاظت کرنا ان کی ہے ضروری،
اور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن، یہ سب ہی جانتے ہیں
کسی کا حکم ہے دریا کی لہریں، ذرا یہ سر کشی کم کرلیں، اپنی حد میں ٹھیریں۔
ابھرنا پھر بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرنا، غلط ہے ان کا یہ ہنگامہ کرنا۔
یہ سب ہے صرف وحشت کی علامت، بغاوت کی علامت
بغاوت تو نہیں برداشت ہوگی، یہ وحشت تو نہیں برداشت ہوگی۔
اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا، تو اُن کو ہوگا اب چپ چاپ رہنا۔
کسی کا حکم ہے اس گلستاں میں، بس اب ایک ہی رنگ کے پھول ہوں گے۔
کچھ افسر ہوں گے جو یہ طے کریں گے۔
گلستاںکس طرح بننا ہے کل کا۔
یقینا پھول یک رنگی تو ہوں گے، مگر یہ رنگ ہوگا کتنا گہرا، کتنا ہلکا
یہ افسر طے کرے گا
مجرموں سے کسی کو ہمدردی نہیں۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے پابند سلاسل ہونا چا ہیے۔ انصاف کا اولین تقاضا یہ ہے کہ عدالتوں کو آزاد ہونا چاہیے۔ عدالتوں کے فیصلے حکومت کی چشم وابروکی جنبش پر منحصر نہیں ہونے چاہییں۔ شاہد خا قان عباسی کی گرفتاری پر وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ان کی گرفتاری میں حکومت کو ملوث نہ کیا جائے۔ نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔ یہ کیسا آزاد ادارہ ہے کہ حکو مت کے وزیر فیصل واوڈا نے گزشتہ ماہ 11جون کو ہی کہہ دیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ اگر نیب حکومت کے ماتحت نہیں ہے (جب کہ وارنٹ گرفتاری کی جو غیر تصدیق شدہ فوٹو کاپی دکھا کر انہیں گرفتار کیا گیا ہے اس پر 16جولائی کی تاریخ ہے) تو فیصل واوڈا کو کیسے علم ہوا۔ یقینا فیصل واوڈا ایک بلند پایہ روحانی شخصیت ہیں اور فیصل واوڈا کیا تحریک انصاف کی پوری حکومت ہی اہل روحانیت کی حکومت ہے۔ شیخ رشید نے پچھلے دنوں ہی کہہ دیا تھا کہ آئندہ نوے دن کے اندر بڑے بڑے لوگ جیلوں کے اندر ہوں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام بڑے بڑے لوگ مسلم لیگ ن کے اندر پائے جاتے ہیں یا پھر پیپلز پارٹی میں حالانکہ جو اراکین پارلیمنٹ جرائم میں ملوث ہیں ان میں سب سے زیادہ تعداد تحریک انصاف کے اراکین کی ہے۔ لیکن صرف اپوزیشن خصوصاً مسلم لیگ ن ہی وہ ماہ رخ ہے جس کے چہرے پر چیچک نکلی ہوئی ہے۔ آبادیوں کو جس سے بچانا حکومت اور نیب کا مشترکہ فریضہ ہے۔ غلطی نواز شریف کے سابق وزیر وزراء کی بھی ہے۔ انہیں ہوا کا رخ پہچاننا چاہیے۔ مرجع روحانیات طاقتور حلقوں سے معافی تلافی کر لینی چاہیے تھی یا پھر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیتے۔ اگر ایسا کر لیتے تو رانا ثنا اللہ کی کار سے بیس کلو ہیروئن نکلتی اور نہ وہ گرفتار ہوتے۔
یہ منظر نامہ نیا نہیں ہے۔ جو فیصلہ آج مسلم لیگ ن کے باب میں کیا گیا ہے پیپلز پارٹی اور بھٹو کو برباد کرنے کے لیے بھی ایسا ہی فیصلہ اور ایسے ہی مقدمات تخلیق کیے گئے تھے۔ ججوں کو تیار کیا گیا تھا۔ بعد میں ایک ایک جج نے ٹی وی پر آکر اعتراف کیا کہ انہوں نے بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ دبائو میں کیا تھا۔ بھٹو کوئی نیک آدمی نہیں تھے۔ ہزار وجوہ ہیں جن کی بنا پر بھٹو کو ظالم، جابر اور ایک ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا جاسکتا ہے لیکن عدالتی قتل نے ان کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا کردیا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا ہے۔ وہ جج جو آج نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے وزیر وزرا کو گرفتار کرا رہے ہیں، انہیں سزائیں دے رہے ہیں، ان ججوں کے حسن کردار کے جو مظاہر سامنے آرہے ہیں اس کے بعد ان کے فیصلوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ رہے چیئرمین نیب تو ان کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ ان کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ نیب کے دفتر میں ایک خاتون کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات اور گفتگو میں مصروف تھے۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد انہیں ازخود اپنے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے تھا۔ اگر نہیں ہوئے تو ان کے خلاف تحقیق ہونا چاہیے تھی۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے ویڈیو بنانے والی خاتون کے خلاف کوئی شکایت کی اور نہ ہی اس کے خلاف کاروائی کا مطا لبہ کیا۔ ہر طرف خاموشی ہے۔ لیکن اس کے بعد اپوزیشن کے خلاف ان کی کاروائیاں تیز سے تیز تر ہوگئیں۔ ایسا لگتا ہے کچھ دن بعد پوری اپوزیشن جیل میں ہوگی۔ کیا اسی مقصد کے لیے چیئرمین نیب کے معاملے کو دبا دیا گیا۔ ہمارے جج طاقتور حلقوں کے دبائو میں آکر فیصلے کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ کیا چیئرمین نیب بھی دبائو میں ہیں؟ کیا انہیں بھی بلیک میل کیا جارہا ہے۔
جو طاقتور لوگ اور مقتدر حلقے یہ مناظر تخلیق کررہے ہیں ان کے لیے جاوید اختر کی نظم کا بقیہ حصہ:
کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے، گلستان میں کہیں بھی پھول یک رنگی نہیں ہوتے
کبھی ہوہی نہیں سکتے کہ ہر ایک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں ۔
جنہوں نے باغ یک رنگی بنانا چاہے تھے ان کو ذرا دیکھو
کہ جب ایک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں تو
وہ اب کتنے پر یشاں ہیں، وہ کتنے تنگ رہتے ہیں۔
کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے، ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں!
ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں، ہتھکڑی میں، قید خانوں میں نہیں رکتیں۔
یہ لہریں روکی جاتی ہیں۔
تو دریا کتنا بھی ہو پرسکون بے تاب ہوتا ہے۔
اور اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے۔