کمسن بہن بھائیوں اور خاتون کے قاتلوں کا جسمانی ریمانڈ

94

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت حیدرآباد کے جج غلام مصطفی میمن کی عدالت نے 8جولائی کو جی او آر کے رہائشی معصوم بہن بھائی قادر بخش اوررخسانہ عرف رقی سیال کو اغوا کے بعد سفاکی سے قطل کرنے والے درندے ملزم عثمان بنگالی کو سات روز جسمانی ریمانڈ پر جی او آر پولیس کی تحویل میں دینے کا حکم سنایا ہے ۔علاوہ ازیں56سالہ خاتون کو پانی کی ٹینکی میں ڈبو کر ہلاک کرنے والے شوہر اور بدبخت بیٹوں کو جوڈیشنل مجسٹریٹ نمبر ون شاہ نواز کی عدالت نے تین روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تفصیلات کے مطابق سول جج جوڈیشنل مجسٹریٹ نمبر ون کی عدالت نے 56سالہ گلناز خاتون کو گھر کی پانی کی ٹنکی میں ڈبو کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں مقتولہ کے شوہر شکیل اورمقتولہ کے دو سگے بیٹوں سکندر اور اسامہ کو تین روزہ تفتیشی ریمانڈ پر اے سیکشن پولیس کے حوالے کردیا ریمانڈ پر دیے جانے پر ملزمان کی حالت غیر ہوگئی ۔ مقتولہ گلناز کے بھائیوں عادل اور شان احمد نے اے سیکشن تھانے میں اپنی بہن کو پانی کی ٹینکی میں ڈبوکر ہلاک کرنے کا مقدمہ اپنے بہنوئی شکیل اور بھانجوں سکندر واسامہ کے خلاف درج کرایا تھا ۔پولیس کے مطابق وہ 12 جولائی کو جب بریلوی کالونی یونٹ نمبر11کے ایک مکان پر پہنچی تو وہاں گلناز کو تدفین کے لیے لے جانے کی تیاریاں کی جارہی تھی مقتولہ کے بھائیوں نے بتایا کہ ہمیں اطلاع دی گئی کہ آپ کی بہن نے پانی کی ٹینکی میں کود کر خود کشی کرلی ہے جب پہنچے تو وہاں تدفین کی تیاریاں کی جارہی تھیں جس پر ہم نے پولیس سے مدد طلب کی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ 56سالہ خاتون تیسری منزل کی چھت پر چڑھ کرٹینکی میں ڈوجائے اور ڈھکن بھی بند ہو۔ معلوم ہوا ہے کہ گلناز اور شکیل کے درمیان پہلے سے اختلافات تھے اورکچھ روز قبل ہی وہ اپنے والدین کے گھر سے شوہر کے گھر گئی تھی جس کے دو روز بعد یہ واقعہ ہوگیا۔ واضح رہے کہ اسامہ کا تعلق پی ٹی آئی کے میڈیا سیل سے ہے ۔دریں اثناء ایڈیشنل سیشن جج حیدرآباد کی عدالت نے ڈیڑھ سال قبل دو خواتین مسماۃ نازیہ اور صبا کے قتل کے مقدمے میںمقتو لہ کے شوہر سمیت دیگر چار افراد کی ایک ایک لاکھ روپے کی ضمانتیں منظور کرلیں۔ تفصیلات کے مطابق عدالت نے تھانہ بی سیکشن کی حدود بسم سٹی کے مکان نمبر28اے یونٹ نمبر10میں 15فروری2018ء کو مسماۃ نازیہ زوجہ کامران آرائیں اور اسکی دیورانی صبا زوجہ عاطف آرائیں کو گلا کاٹ کر بلاک کرنے کے مقدمے میں ملوث جیل میں قید ملزمان کامران آرائیں‘ عاطف آرائیں‘ محسن شہباب اور دانش کی عبوری ضمانتوں کی درخواستیں دینے والی دو خواتین سمیت تین ملزمان شہاب الدین آرائیں‘ مسماۃ فردہ زوجہ شہاب الدین اور مسماۃ عاصمہ زوجہ راشد آرائیں کی وکیل کے دلائل سننے کے بعد ایک ایک لاکھ روپے کی ضمانتیں منظور کرنے کا حکم سنایا ہے۔ مسماۃ نازیہ کے بھائی محمد ثاقب نے نازیہ کے قتل کا مقدمہ اپنے بہنوئی کامران اور اسکے ماں‘ باپ‘ بھائیوں پر شک کااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری بہن اور اس کی دیورانی کو قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد مقدمہ اے کلاس کرکے اسکی رپورٹ سول جج وجوڈیشنل مجسٹریٹ نمبر ون کی عدالت میں پیش کردی تھی جس پر فریادی نے آئی جی سندھ کو درخواست دیکر مقدمہ تفتیش کرائم برانچ حیدرآباد منتقل کرالی تھی ۔ کرائم برانچ نے9مئی2019کو چار ملزمان کامران‘ عاطف‘ دانش اور محسن کو گرفتار کرکے تفتیشی ریمانڈ حاصل کرکے تفتیش مکمل کرنے کے بعد15مئی کو گرفتار ملزمان کو عدالتی حکم پر جیل بھیج کر چالان میں مقتولین کی ساس فریدہ ‘ سسر شہاب الدین اور عاصمہ کو روپوش ظہار کیا تھا۔
عدالتی خبریں