بلکتے لوگ اور پی ٹی ایم کے کندھے

93

پاکستانی سیاست میں بہت سے لوگ پلانٹڈ ہوتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اچانک کوئی نام سامنے آتا ہے، میڈیا پر اس کی گونج سنائی دینے لگتی ہے اور پھر وہ نام سیاست کے حوالے سے اہم بن جاتا ہے۔ اسی طرح کا ایک نام ’’گلالئی اسمعیل‘‘ ہے۔ یہ ایک ڈیڑھ سال پہلے سامنے آئیں، جب اکتوبر 2018ء میں لندن سے واپسی پر انہیں گرفتار کیا گیا اور چند ہی گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے پہلا بیان بی بی سی کو دیا اور کہا کہ ’’ایک عرصے سے ان کی آوازوں کو دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں جو انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن میری آواز اس دبائو سے نہیں ڈرے گی۔ بلکہ مزید اُونچی ہوگی‘‘۔ یہ انسانی حقوق کی علمبردار بن کر نمودار ہونے والی گلالئی اسمعیل پشتون تحفظ موومنٹ کی بھی سرگرم حمایتی کارکن بلکہ اب تو رہنما بھی ہیں۔ ڈیڑھ سال قبل جب ان کو حراست میں لیا گیا تو سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم (پشتون تحفظ موومنٹ) کی طرف سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ پی ٹی ایم کے حمایتوں اور کارکنوں نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جس کو چند گھنٹوں میں مان کر انہیں رہا کردیا گیا۔ گلالئی اسمعیل کی جدوجہد ایک این جی اوز کے تحت بھی ہے جس میں وہ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رہتی ہیں وہ اس این جی او کی چیئرپرسن ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ہونے پر انہیں انٹرنیشنل ہیومنسٹ ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دولت مشترکہ کے یوتھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ ویسے یہ ابھی ابتدا ہے توقع ہے کہ جلد ہی انہیں مزید ایوارڈ ملیں گے۔ اس کی وجہ ان کی تقریریں ہیں، وہ اکثر فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو لتاڑتی رہتی ہیں، ٹویٹ بھی کرتی رہتی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق گلالئی اسمعیل نے دس سالہ فرشتہ کے زیادتی اور قتل کے واقعے کو بھی حکومت کی طرف موڑنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اپنی تقریروں میں پشتونوں کے دل میں ملک اور فوج کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہیں، انہیں اداروں کے خلاف اُکساتی ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل ارمان لوئی کے قتل کو بھی سیاست کی نذر کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پی ٹی ایم ان کے لیڈر اور گلالئی جیسی
ان کی سرگرم کارکن کے مطالبات کیا ہیں؟ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے پشتون تحفظ موومنٹ بھی امن چاہتی ہے، حکومت اور فوج بھی یہ ہی چاہتی ہیں۔ سارے صوبے کے انتظامات اور امن وامان کے معاملات فوج سول اداروں کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ عدلیہ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا عزم بھی دونوں کا ایک سا ہے۔ دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو باقاعدہ گرفتار اور فرد جرم عائد کرکے عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی دونوں مانتے ہیں کہ آئین میں کسی ادارے کو خود ہی وکیل اور خود ہی منصب بننے کی اجازت نہیں اور نہ ہی ہونی چاہیے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ فوج کے سربراہ قمر باجوہ اپنی زبان سے کہہ چکے ہیں کہ ہم پچھلے چالیس سال سے اپنی غلطیوں کی قیمت چکا رہے ہیں۔ لیکن کیا وہ اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں کہ پھر چالیس سال بعد یہ کہنے کی نوبت نہ آئے؟؟۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جب حکومت، فوج اور پشتون تحفظ موومنٹ ایک پیج پر ہیں ایک موقف اور ایک حل اور ایک طرح کے مطالبات کا ادراک اور یقین رکھتے ہیں تو سب مل کر کیوں نہیں بیٹھتے۔ غلطیوں کا اعتراف کرلیا ہے، زیادتیوں کا بھی اعتراف کرلیں، معافی مانگنا بڑے دل گردے والے لوگوں ہی کا کام ہوتا ہے۔ بس کھلے دل سے ایک دوسرے کو معاف کریں گلے لگائیں۔ مسائل کے حل کے لیے مل کر سوچیں اور عمل کریں۔ آخر وہ ایک ہاتھ کی پانچ انگلیاں اور ایک بدن ہی کے اعضا ہیں۔ ایک دوسرے کو نقصان پہچانا ان کے لیے کبھی فائدے مند نہیں ہوگا۔ پھر رات کے اندھیرے میں گرفتاریاں… نہ اعتراف نہ پیشی، بس غائب کہ کہیں سے کوئی اتا نہ پتا۔ پھر گھر والے در در کی خاک چھانیں… مائیں خون کے آنسو روئیں، بیوی بچے رولتے رہیں اور ان کی بات نہ سنی جائے۔ انہیں اُن کے پیاروں کے بارے میں نہ بتایا جائے تو انہیں پھر کوئی پشتین کوئی گلالئی اپنے پیاروں کی رہائی کی نوید ہی لگیں گے نا!!!۔ لوگوں کے مسائل کو کارپٹ کے نیچے نہ دبائیں، لوگوں کی حقیقی قیادت کو انتخابی انجینئرنگ کی نذر نہ کریں، غلطیوں کا اعتراف کیا ہے تو اُن سے سیکھیں، آگے بڑھنا ہے قوت بننا ہے تو یہ ضروری ہے کہ اندر کی طاقت ہی اصل طاقت ہوتی ہے۔ روتے بلکتے لوگوں کو PTM، MQM اور عوامی لیگ جیسے کندھے فراہم کرنے کا سبب نہ بنیں، یہ کندھے نہیں دراڑیں ہیں جو قوم کے جسدِ واحد کو چیر ڈالتی ہیں۔