آئی ایم ایف کے آزمائے ہوئے ایجنٹ

107

عمرانی حکومت کے وارد ہوتے ہی آئی ایم ایف کو پاکستانی قوم کی گردن پر مسلط کردیا گیا ہے ۔ پہلے ملک میں معاشی افراتفری پھیلائی گئی پھر اس کو درست کرنے کے نام پر کشکول لے کر عمران خان پوری دنیا میں گھومتے پھرے ۔ اس کے بعد کہا گیا کہ جب تک آئی ایم ایف سے چند ٹکے قرض نہیں مل جاتا ، ملک کی معاشی حالت بہتر نہیں کی جاسکتی ۔ آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری سے قبل ہی اس کی تمام شرائط پر عمل شروع کردیا گیا جس میں اہم ترین ڈالر کے مقابلے میں مسلسل روپے کی بے قدری ہے ۔ یہ امر اب کوئی راز نہیں رہا ہے کہ کرنسی کی بے قدری کے لیے یہ جواز انتہائی بودا ہے کہ کرنسی کو قدر کو طلب اور رسد کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں کرنسی کی طلب نہیں ہوتی ہے بلکہ اشیاء کی طلب ہوتی ہے ۔ اگر پاکستان میںمعاشی استحکام ہو اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں دوبارہ سے خوشحالی واپس نہ آجائے ۔ یہ مرکزی بینک ہوتے ہیں جو کرنسی کی شرح تبادلہ کا فیصلہ کرتے ہیں ، اس سے کسی بھی ملک کی معاشی پیداوار کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نائجیریا، وینیزویلا اور ایران تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں ۔ یہ ممالک معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہیں اور صنعتی طور پر بھی مستحکم ہیں مگر ان کی کرنسی کو تباہ کردیا گیا ہے ۔ افغانستان ایک جنگ زدہ ملک ہے جہاں پر نہ تیل ہے اور نہ ہی صنعت و زراعت مگر اس کی کرنسی کو مستحکم کردیا گیا ہے ۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی روپے کی بے قدری کے پیچھے معاشی عوامل نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کو تباہ کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری سے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آگیا، جس نے صنعت، زراعت ، کاروبار غرض ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اس کے بعد عمران خان نے مزید کمال یہ دکھایا کہ پاکستان کی معیشت براہ راست آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین اور اس کے ایجنٹوں پر مشتمل ٹیم کے حوالے کردی ۔ اب بینک دولت پاکستان کے سربراہ آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم رضا باقر ہیں اور بینک دولت پاکستان کو پاکستانی کرنسی کو بے قدر کرنے کے لامحدود اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ بینک دولت پاکستان کی خودمختاری کے نام پر مزید اختیارات انہیں دسمبر میں دے دیے جائیں گے ۔ا س وقت بھی حکومت پاکستان کو مرکزی بینک کے معاملات میں دخل اندازی کی اجازت نہیں ہے ۔ رضا باقر کی بطور گورنر مرکزی بینک کارکردگی کو دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے ساتھ کیا کچھ ہونے جارہا ہے ۔ اس میں اگر کسی کو کچھ ابہام ہے تو رضا باقر کی رومانیہ اور مصر میں کارکردگی کو دیکھ سکتا ہے جہاں پر وہ پاکستان میں تعیناتی سے قبل آئی ایم ایف کے نمائندے کے طور پر تعینات رہے ہیں ۔ رضا باقر نے رومانیہ اور مصر میںوہی کچھ کیا تھا جو اب وہ پاکستان میں کررہے ہیں یعنی سب سے پہلے ملکی کرنسی کو زمیں بوس کردینا ۔ اس کے بعد ہر چیز پر بھاری ٹیکس لگادیا گیا جس نے معاشی سرگرمیوں کو منجمد کرکے رکھ دیا ۔ رضا باقر کی مصر میں تعیناتی کے دوران مصری کرنسی میں سو فیصد بے قدری کی گئی ، ایندھن کی قیمتوں میں چھ سو فیصد اضافہ کردیا گیا ۔ اسی تناسب سے ہر چیز بھاری ٹیکس کی زد میں آگئی حتیٰ کہ مصری عوام کو پینے کے لیے پانی بھی بھاری ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر میسر نہیں ہے ۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ اب غربت کے مارے مصریوں کے پاس خودکشی کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ جرمنی خبر رساں ایجنسی ڈوئچے ویلے کے مطابق رواں برس اب تک چار ہزار سے زاید مصری خود کشی کرچکے ہیں جن میں سے 80 فیصد کا تعلق قاہرہ سے ہے ۔ رضا باقر آئی ایم ایف کی ہدایت پر یہی کچھ پاکستان میں بلا مزاحمت کیے جارہے ہیں ۔ مصر میں تو فوجی آمریت ہے جس کے سبب وہاں پر جو بھی مزاحمت کرنے کی کوشش کرے، اسے باغی اور دہشت گرد قرار دے کر پھانسی چڑھا دیا جاتا ہے مگر پاکستان میں کیوں خاموشی ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ پاکستان میں بھی سلیکٹڈ حکومت ہے مگر ابھی یہاں پر جبر اس درجے تک نہیں پہنچا ہے کہ سرکاری پالیسیوں پر آواز بھی بلند نہ کی جاسکے ۔ ایک لمحے کو اس امر کو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ عمران خان ایک ایسے ٹولے میں گھر چکے ہیں جو انہیں ہانکا لگا کر آئی ایم ایف کے جال میں پھنسا چکا ہے مگر ملک میں سلامتی کے ادارے کہاں سو رہے ہیں ۔ اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ معاشی خودمختاری کے بغیر ملک کی سلامتی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور پاکستان کو معاشی طور پر ایک ایسے گرداب میں پھنسادیا گیا ہے جس سے چھٹکارا اب مشکل ہی نظر آرہا ہے ۔ سیاسی جماعتیں بھی صرف اسی محور کے گرد گھوم رہی ہیں کہ کسی طرح ان کے سربراہ کرپشن کے الزامات سے چھٹکارا پالیں اور لوٹی ہوئی رقم سے مزے کریں ۔ تقریباً تمام سیاسی رہنمائوں کو اس امر کی کوئی فکر نہیں کہ پاکستان کو ایک ایسے گڑھے کی طرف پوری منصوبہ بندی کے ساتھ دھکیل دیا گیا ہے جس کے بعد پاکستان اور کسی بنانا ریپبلک میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔ بہتر ہوگا کہ ملک میں سلامتی کے ادارے فوری طور پر آئی ایم ایف کی ٹیم سے چھٹکارے کی ترکیب کریں اور سلیکٹڈ وزیرا عظم کو باور کروائیںکہ ملک کی معیشت محب وطن اور اہل افراد کے حوالے کی جائے نہ ریلو کٹوں پر چھوڑ دی جائے۔ملک پر آئی ایم ایف کا تسلط محض عمران خان کا معاملہ نہیں ہے یہ پوری پاکستانی قوم اور ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے ۔ اس طرف اہل دانش کو بھی خود توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ آئی ایم ایف کے ایجنٹوں کی ماضی کی کارکردگی دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ’’آزمودہ را آزمودن جہل است‘‘