میرپور خاص،پانی کا بحران بد ستور جاری،شہری بوند بوند کو ترس گئے

180

میرپورخاص (نمائندہ جسارت) میرپورخاص میں جاری پینے کے پانی کا بحران بدستور جاری ، شہری پینے کی تلاش میں در بدر ہو گئے، بااثر افراد نے شہریوں کے پانی پر ڈاکا ڈال کر مین لائنوں میں سے پانی چوری کر کے اپنی زرعی زمینیں سیراب کرنا شروع کر دیں ، انتظامیہ بے بس ، شہری مہنگے داموں پینے کا پانی بازار سے خریدنے پر مجبور ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے علاقوں کھار پاڑہ ، ٹورآباد اقبال نگر ، نیو ٹائون، ہیرآباد سمیت دیگر علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے پینے کا پانی بند پڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہریوں کو ایسٹ جمڑائو واٹر سپلائی اسکیم ایٹ جھڑبی جبکہ دوسری ویسٹ جمڑائو واٹر سپلائی اسکیم ٹنڈوآدم روڈ سے شہریوں کو پینے کا پانی سپلائی کرنے کے لیے 18انچ کی پائپ لائن ڈالی گئی ہے جو کہ آٹھ سے نو کلو میٹر طویل لائن ہے۔ ذرائع کے مطابق اس طویل پائپ لائن سے دو درجن سے زائد بااثر افراد نے درجنوں مقامات پر توڑ کر اپنی زرعی زمینیں سیراب کرنے میں مصروف عمل ہیں اور انتظامیہ ان بااثر افراد کے خلاف مکمل طور پر آگاہ ہونے کے باوجود بے بسی کا مظاہر ہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔مہنگے داموں بازار سے پینے کا پانی خرید کر استعمال کررہے ہیں محکمہ پبلک ہیلتھ بھی اس حوالے سے مکمل خاموش ہے کئی بار میڈیا میں خبریں شائع ہو چکی ہیں مگر انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سابق چیئرمین بلدیہ فاروق جمیل دُرانی کے وقت میں شہر بھر میں تین ٹائم پینے کا پانی فراہم کیا جارہا تھا مگر ان کے جاتے ہی شہر میں پینے کے پانی کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا گیا جس کی وجہ سے شہری شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی میرپورخاص کے قائم مقام امیر حاجی نور الٰہی مغل ،پی ٹی آئی کے رہنما ملک عبدالغفار نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کے پینے کا پانی چوری کرنے والے بااثر افراد کے خلاف فوری طور کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کمشنر ،ڈپٹی کمشنر میرپورخاص اور چیئرمین بلدیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جانب توجہ دے کر شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جائے۔
اساتذہ کو ایک گھنٹے تک اسکولوں میں مزید
روکنے کافیصلہ قابل مذمت ہے ،گسٹا
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن گسٹا حیدرآباد کے صدر محمود صوہان نے وزیر تعلیم سندھ کی جانب سے اسکولوں میں اساتذہ کو 2بجے چھٹی ہونے کے بعد مزید ایک گھنٹہ یعنی3 بجے تک اسکول میں رہنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیاہے کہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لیاجائے کیونکہ ا س کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس سے اساتذہ کرام تدریسی عمل کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اوقات کار میں اور اپنے گھروں پر اپنا ورک پلان تیار کرتے ہیں جبکہ شدید گرمی ‘ حبس اور بدترین لوڈشیڈنگ میں خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اسکولوں میں پینے کے پانی سے لے کر واش روم تک کی سہولت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور ویزر تعلیم سے فوری طور پر فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔