گاندھی جی کا قاتل بی جے پی کا ہیرو

345

٭٭٭

معصوم مراد آباد

’’ناتھورام گوڈسے دیش بھکت تھا، دیش بھکت ہے اور دیش بھکت رہے گا‘‘۔ یہ بیان مالیگائوں بم دھماکوں کی کلیدی ملزم سادھوی پرگیاٹھاکر نے اداکار کمل ہاسن کے اُس بیان کے ردعمل میں دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ایک ہندو تھا اور اس کا نام ناتھورام گوڈسے تھا‘‘۔ یہ الگ بات ہے کہ سادھوی پرگیا ٹھاکر نے اپنے بیان پر ایسے ہی معافی مانگی ہے جیسا کہ انہوں نے آنجہانی ہیمنت کرکرے کو غدار وطن قرار دینے پر مانگی تھی۔ بی جے پی نے سادھوی پرگیا کے تازہ بیان سے بھی خود کو اسی طرح علیحدہ کرلیا ہے جس طرح ہیمنت کرکرے سے متعلق بیان سے کیا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سادھوی کی اس معافی اور بی جے پی کی تلافی میں کتنا سچ ہے اور کتنا فریب۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ سنگھ پریوار کے لیڈر اکثر و بیشتر ناتھو رام گوڈسے کی تعریف ہی کرتے ہیں اور جب کبھی ایسے بیانات پر تنازع کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس پر معافی تلافی کا بھی ڈراما رچاتے ہیں جیسا کہ اس وقت سادھوی پرگیا کے بیان پر رچایا جارہا ہے۔ ابھی تک ملک کو یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ناتھو رام گوڈسے سنگھ پریوار کا ہیرو ہے یا ولن۔ فی الحال ملک میں ایک نئی بحث شروع ہوئی ہے کہ آخر اس ملک میں غدار وطن اور محب وطن ہونے کے لیے کون سے پیمانے درکار ہیں۔ جو لوگ عام ہندوستانیوں کے نزدیک قاتل اور دہشت گرد ہیں وہ سنگھ پریوار کی آنکھوں کا تارا کیوں ہیں اور انہیں سر آنکھوں پر کیوں بٹھایا جاتا ہے۔ آخر آج تک سنگھ پریوار نے ناتھو رام گوڈسے کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی ہے اور بابائے قوم کے قاتل کو دہشت گرد قرار کیوں نہیں دیا گیا ہے۔ آخر اس ملک میں جارحانہ ہندتوا کی نمائندگی کرنے والے عناصر آج بھی ناتھورام گوڈسے کو اپنا ہیرو کیوں قرار دیتے ہیں اور انہیں گاندھی کی تصویروں پر گولیاں چلانے سے سکون کیوں ملتا ہے؟۔ آخر گاندھی کے اس ملک میں آج بھی گوڈسے کی پوجا کیوں کی جارہی ہے؟ یہ سب ایسے سوال ہیں جو ہر سچے ہندوستانی کے دل و دماغ میں کروٹیں بدلتے ہیں لیکن وہ ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ڈھونڈ پاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گوڈسے کو گاندھی کے قتل سے بری کرانے کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور 70 سال پرانے مقدمے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گوڈسے پر تازہ تنازع فلمی دنیا سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے کمل ہاسن کے بیان سے شروع ہوا ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی جلسے کے دوران پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہا ہے کہ ’’ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ایک ہندو تھا اور اس کا نام ناتھورام گوڈسے تھا‘‘۔ کمل ہاسن کے اس بیان کے بعد سنگھ پریوار کے لوگوں نے آسمان سر پر اُٹھالیا ہے اور وہ کمل ہاسن کی زبان اور سر قلم کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ تمل ناڈو کے کرور ضلع میں ایک ضمنی اسمبلی انتخاب میں اپنی پارٹی ایم این ایم کے جلسے کے دوران گزشتہ اتوار کو کمل ہاسن نے کہا تھا کہ ’’آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ایک ہندو تھا اور اس کا نام ناتھو رام گوڈسے تھا۔ وہیں سے دہشت گردی شروع ہوئی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کیوں کہ یہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ میں مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہہ رہا ہوں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اچھے ہندوستانی، مساوات اور ترنگے کے تینوں رنگوں کی ایکتا دیکھنا چاہتے ہیں‘‘۔ اس بیان پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیر بالاجی نے کمل ہاسن کی زبان کاٹ لینے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔ یہ ہندو، مسلم، عیسائی کچھ نہیں ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’تشدد کی باتیں کرنے پر الیکشن کمیشن کو ایم این ایم کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے‘‘۔ کمل ہاسن کے بیان پر سنگھ پریوار کے حلقوں میں شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے ان کی سیکورٹی سخت کردی گئی ہے اور انہوں نے اپنی انتخابی میٹنگیں منسوخ کردی ہیں۔ کمل ہاسن کے خلاف کارروائی کے لیے عدالت عالیہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا گیا ہے لیکن فی الحال عدالت نے اس معاملے کو اپنے اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کمل ہاسن نے جارحانہ ہندتوا پر حملہ کیا ہے بلکہ وہ اس سے قبل بھی ہندو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سوال پورے زور و شور سے اُٹھا چکے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 2017ء میں انہوں نے جارحانہ ہندتو اور انتہا پسندی کے خلاف تفصیلی مضمون لکھا تھا جس پر ایسا ہی تنازع کھڑا ہوا تھا جیسا کہ اب ناتھورام گوڈسے پر ان کے بیان سے کھڑا ہوا ہے۔ تمل ہفتہ وار میگزین ’’آننداولٹن‘‘ میں اپنے ایک مضمون میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’’ہندو کیمپوں میں دہشت گردی داخل ہوچکی ہے اور دائیں بازو کے شدت پسندوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ اب کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہندو دہشت گردی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے‘‘۔ انہوں نے آگے لکھا تھا کہ ’’پہلے ہندو شدت پسند دوسری جماعتوں سے تنازعات پر صرف علمی بحث کیا کرتے تھے لیکن اس طریقے کی ناکامی کے بعد انہوں نے تشدد کا راستہ اختیار کرلیا ہے‘‘۔ ظاہر ہے ہندو شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کمل ہاسن کا بیان حقیقت کے اتنا نزدیک تھا کہ کوئی بھی اس کے کسی ایک لفظ کی تردید نہیں کرسکتا۔ لیکن شدت پسندوں نے اس مضمون کے خلاف بھی کمل ہاسن کی ایسے ہی ناکہ بندی کی تھی جیسا کہ اس وقت کی جارہی ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ گاندھی جی کا قتل آزادی کے فوراً بعد ہونے والی دہشت گردی کی پہلی کارروائی تھی جس میں ایک نظریاتی انتہا پسند نے امن کے پجاری کا سینہ گولیوں سے چھلنی کردیا تھا۔ یہ بات بھی سبھی کو معلوم ہے کہ گاندھی جی کا قاتل ناتھورام گوڈسے نہ صرف یہ کہ آر ایس ایس سے متاثر تھا بلکہ وہ ایک عرصے تک اس شدت پسند تنظیم سے وابستہ بھی رہ چکا تھا۔ یہ بات الگ ہے کہ گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس نے حسب عادات گوڈسے سے اظہار لاتعلقی کیا تھا۔ لیکن اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی لگائی گئی تھی اور یہ پابندی کئی برس بعد آر ایس ایس لیڈروں کی اس یقین دہانی کے بعد اٹھائی گئی تھی کہ وہ کسی بھی قیمت پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ لیکن بعد کو یہ ثابت ہوا کہ یہ یقین دہانی محض ایک فریب تھا کیوں کہ آر ایس ایس پردے کے پیچھے سے سیاسی کارروائیاں انجام دیتا رہا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج آر ایس ایس کے ہاتھوں میں مرکزی حکومت کی پوری کمان موجود ہے۔ آر ایس ایس بظاہر خود کو ایک فلاحی تنظیم قرار دیتی ہے لیکن وہ حقیقت میں سیاسی عزائم سے لبریز ایک ایسی وسیع تنظیم ہے جس کا مقصد چور راستے سے ملک کے اقتدار پر مکمل قبضہ کرکے اسے ہندو راشٹر قرار دینا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت گاندھی جی کے قتل کی دوسری کڑی تھی اور اسی لیے بابری مسجد کے انہدام کو گاندھی جی کے قتل کے بعد دہشت گردی کی دوسری بڑی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت میں بھی وہی عناصر شامل تھے جنہوں نے گاندھی جی کے قتل میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد اس ملک میں بھگوا دہشت گردوں نے جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران یہ لوگ سیاسی سرپرستی میں دہشت گردی کی ایسی وارداتیں انجام دیتے رہے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچانا تھا۔ کبھی گئوکشی کے نام پر کبھی ’’لوجہاد‘‘ اور ’’گھر واپسی‘‘ کے نام پر مسلمانوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا گیا ہے اور انہیں مسلسل دہشت زدہ کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ آج بی جے پی نے بھوپال جیسے مہذب اور تاریخی شہر سے دہشت گردی کی ملزم سادھوی پرگیا ٹھاکر کو الیکشن لڑا کر یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو سیاسی چولا پہنا کر اپنے دامن پر لگے بھگوا دہشت گردی کے داغ کو مٹانا چاہتی ہے۔ لیکن یہ محض خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چوں کہ دنیا کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ مالیگائوں بم دھماکوں سے لے کر سمجھوتا ایکسپریس، مکہ مسجد اور اجمیر کی درگاہ کے دھماکوں تک جن بھگواا دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلے ہیں وہ سب کے سب سنگھ پریوار سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کو بھلے ہی اقتدار کا فائدہ اُٹھا کر مقدمات سے بری کرالیا گیا ہو لیکن دنیا ان کے اصل کردار سے واقف ہوچکی ہے۔ بی جے پی کے لوگ اس بات کا لاکھ دعویٰ کریں کہ بھگوا دہشت گردی کی اصطلاح ناحق استعمال کی گئی تھی اور اس کا مقصد ہندوئوں کو بدنام کرنا تھا لیکن آج جس طرح اس ملک میں گاندھی کے قاتلوں کو دیش بھکت قرار دیا جارہا ہے اور دہشت گردی کے ملزموں کو سیاسی تحفظ فراہم کیا جارہا ہے، وہ کچھ اور ہی کہانی بیان کرتا ہے۔