قوم منی لانڈرنگ والوں سے مجرم جیسا سلوک کرے، وزیر اعظم

59
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر اور میر پور خاص کے ارکان اسمبلی ملاقات کررہے ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر اور میر پور خاص کے ارکان اسمبلی ملاقات کررہے ہیں

 

اسلام آباد( نمائندہ جسارت ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم منی لانڈرنگ کرنے والوں سے مجرموں جیسا سلوک کرے۔بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ قوم منی لانڈرنگ کرنے والوں کی تعریف کرنا بند کرے، منی لانڈرنگ کرنے والوں نے ہماری قوم کو نقصان پہنچایا، ہمارے لوگوں کو غربت میں دھکیلا اور اب جمہورت کی آڑ میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ ان لوگوں کو کوئی پروٹوکول نہیں دیا جائے گا، عوام کے پیسے لوٹنے والوں کے ساتھ خصوصی برتاؤ کہا ں کیا جا تا ہے ؟علاوہ ازیں وزیراعظم سے حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھراور میرپور خاص ڈویژنز کے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات سے ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق ان اراکین نے اس موقع پر کہا کہ جنہوں نے بھی سرکاری
وسائل لوٹے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ ملاقات کرنے والوں میں محمد میاں سومرو، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، غوث بخش مہر، نزہت پٹھان، لعل چند، جے پرکاش، صابر حسین قائم خوانی، صلاح الدین اور سائرہ بانو شامل تھیں۔اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق، ارشد داد، سیف اﷲ نیازی بھی موجود تھے۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ سندھ کے عوام کو درپیش مسائل سے مکمل آگاہ ہوں اور جلد اس صوبہ کا دورہ کروں گا۔علاوہ ازیں وزیراعظم کی زیر صدارت کمیشن آف انکوائری سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں کمیشن کے لیے ضابطہ کار(ٹی او آرز)کے مسودے پر غور کیا گیا۔وزیراعظم ہائوس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کمیشن آف انکوائری، پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017کے تحت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)کے سینئر افسران شامل ہوں گے۔اعلامیے کے مطابق کمیشن آف انکوائری میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، آڈیٹرجنرل آفس اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)کے سینئر افسر بھی شامل ہوں گے۔اعلامیے کے مطابق انکوائری کمیشن تحقیقات کرے گا کہ2008ء سے2018ء تک قرضے 24ہزار ارب تک کیسے بڑھے، کمیشن رقم خرچ کرنے والے متعلقہ وزرا سمیت تمام وزارتوں اور ڈویژنز کا بھی جائزہ لے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن خوردبرد پائے جانے پر رقم خزانے میں واپس لانے کے لیے کام کرے گا، کمیشن ذاتی استعمال اور فائدے کے لیے سرکاری خزانے کے غلط استعمال کی بھی تحقیقات کرے گا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری خزانے سے ذاتی بیرونی دوروں، بیرون ملک علاج کے اخراجات، اعلیٰ حکام کے نجی گھروں کو کیمپ آفسز ڈکلیئر کرکے سڑکوں اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کی بھی تحقیقات ہوں گی۔اعلامیے کے مطابق کمیشن کو عالمی شہرت کے فارنزک آڈیٹر، ماہرین کو معاونت کے لیے کمیشن میں شامل کرنے کا اختیار ہوگا جب کہ حتمی ٹی او آرز اور کمیشن کے سربراہ کا اعلان رواں ہفتے کردیا جائے گا۔دوسری جانب نجی ٹی وی دنیا نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ماضی میں آئی جی سمیت مختلف عہدوں پر تعینات رہنے والے شعیب سڈل کو انکوائری کمیشن کا سربراہ بنانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔شعیب سڈل اس سے قبل مختلف عہدوں پر رہ تعینات چکے ہیں اور وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کے بھی ماہر مانے جاتے ہیں۔
عمران خان