قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

109

اے نبیؐ! تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو، کوئی اْس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں رد و بدل کرو گے تو) اْس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاؤ گے۔اور اپنے دل کو اْن لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اْسے پکارتے ہیں، اور اْن سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریق کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔(سورۃ الکہف:27تا 28)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ والحمدللہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباللہ پڑھا کرو کیونکہ یہ باقیات صالحات (باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں اور گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتی ہیں جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے اور یہ جنت کے خزانوں میں سے ہیں۔ (مجمع الزوائد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رزق کی طرف جلدی نہ کرو کیوںکہ بدن اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کے نصیب کا آخری رزق بھی اس تک پہنچ نہ جائے، اور حلال کی طلب کیا کرو اور حرام کو ترک کردو۔ (صحیح ابن حبان)