خیرپور،شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے،خریدکر استعمال کرنے پر مجبور

60

خیرپور(نمائندہ جسارت)خیرپور کے شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ مساجد ،مدارس اور امام بارگاہان میں پانی کی قلت کے باعث نمازیوں طالب علموں کو شدید گرمی میں سخت مشکلات کا سامنا۔خرید کر پانی استعمال کرنے پر مجبور،مزدور طبقہ دور دراز علاقوں سے پانی کے حصول میں مصروف عمل،ضلع انتظامیہ،محکمہ پبلک ہیلتھ اور میونسپل کمیٹی کے افسران سب ٹھیک ہے کا راگ الاپنے لگے،شہر کے مختلف مقامات میں واٹر سپلائی کی مین پائپ لائن پھٹ جانے، سیپکو کی جانب سے ہر علاقے میں بجلی کی بندش کا وقت الگ الگ ہے اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے سبب شہریوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی نہیں بناسکتے،واٹر کمیشن والے بھی شہریوں کو خود یہاں سے آکر پانی کی فراہمی کا مسئلہ وہ حل نہیں کرسکتے،شہری عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں ۔محکمہ پبلک ہیلتھ ذرائع تفصیلات کے مطابق خیرپور شہر کے جناح کالونی،مل کالونی،اللہ آباد کالونی،غریب آباد،بھرگڑی،منشی محلہ،محلہ سید بچل شاہ،ہاشمی گھٹی،چوڑی گربازار ،اوستہ گاہی،جیلانی محلہ،خانن شاہ کالونی،وانڈ،چانڈیہ پاڑا،اسماعیل ملز کالونی سمیت دیگر علاقوں کے مکینوں صوفی اسحاق سومرو،حاجی لالا عبدالغفار شیخ، عبدالغنی سولنگی،محمد دین ابرار، شیعہ علما کونسل کے رہنمائوں رئیس محمد علی حیدری،عظمت بلوچ،خادم علی شاہ،بشیر بھٹی،محمد بخش جویو،سلیم رضا شیخ، عبدالستار لاشاری،عاشق علی لاشاری، عبدالصمد صدیقی،رحمت علی قلندری،عطا محمد سیال،جنسار علی ابڑو،میر مشتاق علی سیال،مظفر علی منگی،جان محمد مغل۔لالا پرویز ،ماماعبدالرحمٰن خان،یامین راجپوت،عنایت صوفی ،صدورو لاشاری،عابد علی کاکڑ،قدیر بروہی،ساجد لاشاری،مولابخش جتوئی کی قیادت میں الگ الگ علاقوں میں گزشتہ چار یوم سے پانی کی قلت کیخلاف جانے والے احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خیرپور کے شہری ضلع انتظامیہ ،سیاسی سماجی مذہبی اورانسانی حقوق کی فلاحی تنظیموں نے شہریوں کے درپیش بنیادی مسائل کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے جس کی وجہ سے شہری پینے کے پانی، طویل عرصہ سے بدستور جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ،کاشکار ہیں سے چھٹکارا دلانے میں ناکام ہوچکے ہیں ،شہر بھر میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے سبب کربلا کا منظر پیش ہے گرمی کی شدت سے پہلے ہی شہری لاچار ہیں مہنگائی نے عوام کے منہ سے روٹی کا لقمہ چھینا ہے اورایسے میں محکمہ پبلک ہیلتھ انتظامیہ نے شہریوں کے حلق سے پانی کے گھونٹ تک سے محروم کردیا ہے ،شہریوں کے احتجاج اور درخواستیں دینے کے باوجودشہریوں کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں صرف جھوٹی تسلیوں سے شہری پینے کے لیے پانی ،نمازیوں کو مساجد،مدارس،امام بارگاہوں میں وضو کے لیے پانی دستیاب نہیں ہے غریب محنت کش طبقہ دور دراز علاقوں سے پانی جبک کیلیے دربدرہ امیر طبقہ خرید کر پانی استعمال کررہے ہیں ،محکمہ پبلک ہیلتھ والوں نے شہریوں سے حلق سے پانی تک چھین کر کاغذی کارروائی میں مبینہ بھاری رقم خورد برد کی ہے کا بھی انکشاف ہوا ہے،انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ،وزیر بلدیات سندھ،چیف سیکرٹری سندھ،سیکرٹری بلدیات سندھ،کمشنر سکھر،ڈپٹی کمشنر خیرپور سے مطالبہ کیا ہے کہ خیرپور کے شہریوں کو درپیش مسائل کے حل اور پانی کی فراہمی کو کویقینی بنایا جائے ادہرمحکمہ پبلک ہیلتھ ذرائع کا کہنا تھاکہ شہر کے مختلف مقامات میں واٹر سپلائی کی مین پائپ لائن پھٹ جانے، سیپکو کی جانب سے ہر علاقے میں بجلی کی بندش کا وقت الگ الگ ہونے اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے سبب شہریوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی نہیں بناسکتے،واٹر کمیشن والے بھی شہریوں کو خود یہاں سے آکر پانی کی فراہمی کا مسئلہ وہ حل نہیں کرسکتے،شہری مسائل کے حل کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔