مسئلہ کشمیر، جہاد اور جماعت اسلامی (باب ہشتم)۔

68

مولانا مودودیؒ جن بین الاقوامی کانفرنسوں میں تشریف لے گئے ہمیشہ وہاں مسئلہ کشمیر پیش کرکے ا س کے حق میں قرار داد منظور کروا تے تھے۔ عالمی رائے عامہ کو مسئلہ کشمیر کی حقیقت سمجھانے کے لیے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ایک کتابچہ تصنیف کیا جس کو عربی‘ انگریزی‘ فرانسیسی اور بنگلہ زبان میں ترجمہ کرکے ہزاروں کی تعداد میں مختلف ممالک میں تقسیم کیا گیا۔ مولانا مودودیؒ کے بعد میاں طفیل محمد صاحب‘ قاضی حسین احمد صاحب‘ سید منور حسن صاحب اور جماعت کے دیگر رہنما بھی مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی کانفرنسوں میں اٹھا تے رہے ہیں۔

مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی طور پر اجاگر کرنے کے لئے جماعت اسلامی اور سید مودودیؒ کی گرانقدر خدمات کا برملا اعتراف آزاد کشمیر کے تین سابق وزرائے اعظم چودھری غلام عباس، سردار عبدالقیوم خان اور خورشید احمد مختلف مواقع پر کرچکے ہیں بلکہ چودھری غلام عباس مرحوم کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’’کشمیر کی آزادی کے بارے میں مولانا مودودیؒ نے میری سب سے زیادہ رہنمائی کی‘‘ (مولانا صدر الدین الرفاعی المجددی‘ جسارت سید مودودیؒ نمبر دسمبر ۱۹۷۹ء صفحہ ۱۰۱)۔

آخر ایک ایسا فرد جو مسئلہ کشمیر کے بارے میں اتنا حساس ہوکہ پاکستان آمد کے فوراً بعد بجائے اپنی بیوی بچوں کی فکر کرنے کے‘ کشمیر کو بچانے کے لیے اپنی تجویز لے کر وزیراعلیٰ کے پاس پہنچ جائے اور جس کے بارے میں تحریک آزادی کشمیر کے تین قابل احترام اکابرین کے انتہائی مثبت ریمارکس ریکارڈ پر ہوں اور جو ہر ملکی اور غیرملکی فورم پر جہاں بھی اس کو موقع ملے‘ کشمیر کا مقدمہ پوری شد و مد سے لڑتا نظر آتا ہو۔آخر جہاد کشمیر کو ’’حرام‘‘ کیسے قرار دے سکتا ہے؟ یہ ہماری ملکی تاریخ کا ایک ایسا شرمناک باب ہے جس کی تفصیلات جاننے کے لیے پاکستان کی ۶۶ سالہ تاریخ کے کچھ پرانے اوراق الٹنے ہوں گے۔ میں اپنی تحریر میں جو بات بھی لکھوں گا اس کا تاریخی حوالہ دینے کی کوشش کروں گا۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد مولانا مودودیؒ نے حکومت اور دستور ساز اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نفاذ کے نعرے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے اس لیے فوری طور پر یہاں اسلامی نظام کے نفاذ کا عمل شروع کیا جائے اور اس کی ابتدا دستور سازی کے ذریعے کی جائے۔ اس طرح کا یہ پہلا مطالبہ تھا کہ جو کسی بھی حلقے‘ شخصیت‘ جماعت یا پلیٹ فارم کی جانب سے کیا گیا تھا۔مولانا مودودیؒ کی سربراہی میں جماعت اسلامی نے جلد ہی اس مطالبے کو ایک تحریک کی صورت میں ملک کے طول وعرض میں پھیلادیا۔

حکومت نے اس بات کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ کو دعوت دی کہ وہ ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک سلسلہ تقریر شروع کریں اور قوم کو بتائیں کہ اسلامی نظام کیا ہے اور کن کن امور کا احاطہ کرتا ہے مولانا مرحوم نے اس پیش کش کو قبول کرتے ہوئے۶؍جنوری ۱۹۴۸ء سے ۱۶؍مارچ ۱۹۴۸ء تک کے عرصے کے دوران اسلام کے اخلاقی‘ سیاسی‘ معاشرتی ‘ اقتصادی اور روحانی نظام کے حوالے سے ۵ عدد تقاریر نشر کیں۔ یہ تقاریر قائداعظمؒ کی مرضی سے اور ان کی زندگی ہی میں نشر ہوئی تھیں۔

اسی دوران ڈاکٹر عمر حیات ملک جو دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے اور تحریک پاکستان کے ایک مایہ ناز کارکن بھی اور اس زمانے میں وہ یونیورسٹی لا کالج کے پرنسپل بھی تھے‘ کی دعوت پر مولانا مودودیؒ نے ۶؍جنوری اور ۱۶؍ مارچ ۱۹۴۸ء کو یونیورسٹی میں اسلامی قانون‘ اس کے نفاذ اور قانون و نظام زندگی کے مابین تعلق کے حوالے سے نہایت تفصیلی لیکچر دیے۔
بعد ازاں مولانا مودودیؒ اس مطالبے کو لے کر پورے ملک کے دورے پر نکل کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کراچی سے پشاور تک مختلف مقامات پر جلسوں سے خطاب کرکے عوام کے سامنے اس مطالبے کی اہمیت کو اجاگر کیا نتیجتاً جلد ہی یہ ایک عوامی مطالبہ بن گیا۔

مولانا مودودیؒ کی عوامی سطح پر اس پیش رفت پر شہید ملت لیاقت علی خان کی حکومت میں شامل بعض اسلام بیزار سیکولر قسم کے عناصر کو تشویش پیدا ہوئی اور انھوں نے مولانا مودودیؒ اور جماعت اسلامی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کی باتیں شروع کردیں۔ حکومتی صفوں میں ان عناصر کے سر خیل راجہ غضنفر علی خان مرحوم تھے جبکہ سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا آئندہ ہونے والے ممکنہ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان لوگوں نے وزیراعظم لیاقت علی خان پر جماعت اسلامی پر پابندی عائد کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

مرکزی کابینہ کے ایک اجلاس (منعقدہ ۱۹۴۷ء) میں تو اس مسئلے پر زور دار بحث بھی ہوئی لیکن بانی پاکستان محمد علی جناحؒ نے اس طرح کے کسی اقدام کو سختی کے ساتھ رد کردیا۔ اس بات کے گواہ سابق وزیراعظم پاکستان چودھری محمد علی مرحوم بھی ہیں۔

(جاری ہے)