پہلے کس نے شرائط سے آگاہ کیا؟؟

129

وزیراعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے اطلاع دی ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ابھی قوم کے سامنے نہیں لا سکتے، مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، بجٹ میں سول اور فوجی اخراجات کم کریں گے۔ انہوں نے آئی ایم ایف عالمی بینک اور ایشیائی بینک کے قرضوں کی خوش خبریاں سنائیں اور قوم کو بتایا کہ کچھ دن صبر کریں… مشیر خزانہ کی ساری گفتگو میں کہیں بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ صرف نام بدلتے جائیں، اسحق ڈار، سلیم مانڈوی والا، عبدالحفیظ شیخ اور اب پھر عبدالحفیظ شیخ یہ سب لوگ پہلے بھی قرضوں کو خوش خبری قرار دیتے رہے ہیں ملک کے حالات جلد ٹھیک ہونے کا اعلان کرتے رہے ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ آج تک پہلے بھی کسی نے آئی ایم ایف سے معاہدہ قوم کے سامنے پیش نہیں کیا، یا کم از کم اس طرح پیش نہیں کیا جس طرح پیش کیا جانا چاہیے یا جس طرح معاہدے کی شرائط سامنے آتی ہیں۔ حکومت تو نہیں بتائے گی کہ آئی ایم نے کون کون سے ٹیکس لگانے کی شرط عاید کی ہے۔ کیا کیا چیزیں آئی ایم ایف کی وجہ سے مہنگی ہو رہی ہیں۔ ڈالر کی اڑان کس کی وجہ سے ہوئی ہے، وہ تو لوگ اب رفتہ رفتہ سمجھیں گے کہ آئی ایم ایف کے مطالبات کیا تھے… حفیظ شیخ صاحب ذرا یہ بتائیںکہ پہلے کس نے ایسے معاہدے قوم کے سامنے پیش کیے ہیں۔ ہاں یہ بات بھی متنازع ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے قرض دینے کے لیے مطالبہ کیا تھا کہ پہلے سی پیک کی شرائط سے آگاہ کیا جائے۔ کیا پاکستانی معاشی ٹیم نے جو تیزی سے بدلتی رہی ہے آئی ایم ایف کو سی پیک کی شرائط بتا دی تھیں؟ اگر ایسا کیا تھا تو یہ پاکستانی قوم سے بددیانتی کے مترادف ہوگا قوم کو تو نہیں بتایا گیا کہ 56 ارب ڈالر کے عوض کیا کیا گروی رکھا گیا ہے۔ کیا ملے گا اور کیا دینا ہوگا… کہیں گوادر ہی ہاتھ سے نہ چلا جائے۔ جو کچھ ڈالروں کی خاطر کیا جاتا ہے اس کا اصل سبب یہ ہے کہ کبھی کسی حکمراں کا محاسبہ نہیں ہوا کہ تم تو کہا کرتے تھے کہ ملک تمہاری پالیسیوں کے نتیجے میں ترقی کرے گا۔ یہی حفیظ شیخ 2010ء سے 2013ء تک وزیر خزانہ رہے تین سال میں ملک ترقی کیوں نہ کرسکا… اب بھی اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی شقیں قوم کے سامنے لائی جاسکیں گی۔ کیونکہ انہیں اس کا بھی اختیار نہیں ہے۔