روپے کی قدر میں گزشتہ 24گھنٹوں میں 3.6فیصدکمی پر شدید تشویش

77

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان کی ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز نے ڈالر کے مقابلے میںروپے کی قدر میں گزشتہ 24گھنٹوں میں 3.6فیصدکمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روپے کی قدر میں گزشتہ 9ماہ سے مسلسل کمی کو معیشت کے لئے تباہ کن قرار دیا۔ مشترکہ بیان میںمحمد جاوید بلوانی،سینٹرل چیئرمین پاکستان ہوزری مینوفیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے )، محمد زبیر موتی والا،چیئرمین کونسل آف آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز ، رفیق گوڈیل، چیئرمین، پاکستان نٹ ویئراینڈ سوئیٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، فرخ مقبول، چیئرمین، پاکستان ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، عبدالصمد، چیئرمین، پاکستان کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن، خواجہ عثمان، سابق چیئرمین پاکستان کاٹن فیشن اپیرئل مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، شیخ محمد شفیق، سابق چیئرمین پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور عارف لاکھانی ، زونل چیئرمین آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ آج کی تاریخ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں یکدم3.6فیصد مزید کمی کے ملک کی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے اور عوام کیلئے مہنگائی کا سیلاب امنڈ آئے گا۔ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گزشتہ 9ماہ کے دوران 20.16فیصد کمی ہوئی اور روپیہ 123.6سے ڈی ویلیو ہو کر149.07کی سطح پر پہنچ گیا۔
انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے کاٹن بین الاقوامی قیمتوں پر دستیاب ہوتی ہے جبکہ ذیادہ تر صنعتی اِن پٹس جیسے ڈائیز، پارٹس، کیمیکل اور پیٹرولیم مصنوعات، پیکنگ میٹرئیل وغیرہ بھی انٹرنیشنل قیمتوں پر ملتی ہیں۔ ڈالر کے موازنے میں روپے کی قدر میںمزید کمی سے کاٹن یارن اور تمام انڈسٹرئیل اِن پٹس میںتشویشناک حد تک مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث پہلے ہی ایکسپورٹ مصنوعات کی تیاری پر منفی اثرات ہو رہے ہیں اور مینوفیکچرنگ کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔اگر صورتحال میں بہتر ی نہ آئی تو ایکسپورٹس تنزلی کا شکار ہو جائیں گی اور مہنگائی کا سیلاب آجائے گا جو ملک میں انارکی اور بدامنی کا سبب بنے گا۔بنگلہ دیش میں یوٹیلیٹزکے نرخ کم ہونے کی وجہ سے پاکستان کے مقابلے میں کاٹن یارن سستی ہے۔روپے کی قدر میں تواتر سے کمی کے اقدام سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گااور اجناس انتہائی مہنگے داموں پر فروخت ہوں گی۔اس تشویشناک موجودہ تناظرمیں صنعتوں کے پاس دو صورتیں ہیں ، صنعتیں بند کر دی جائیں یا پھر مینوفیکچر کردہ اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرد یا جائے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں پاکستان مسابقت نہ کرسکے گا۔ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر مشکل سے 3یا4فیصد شرح منافع پر کام کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ صرف خام مال، کاٹن اور کاٹن یارن کے ایکسپورٹرز کو روپے کی قدر میں کمی کافائدہ ہو گا جبکہ دوسری طرف ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملتا۔ مالی سال 2017-18میں ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ کا حجم 12.06بلین ڈالرز تھا جبکہ ٹیکسٹائل خام مال کی ایکسپورٹ کا حجم صرف 1.46بلین ڈالرز تھا۔روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قدرمیں کمی سے ایکسپورٹرز صرف ایک مرتبہ فائدہ حاصل کر سکے گایعنی ایکسپورٹ پروسیڈز کی نان رئیلائیزیشن یا ان ایکسپورٹ آرڈرز پر جو پائپ لائن میں ہوں کیونکہ اگلی مرتبہ غیر ملکی خریدار ایکسپورٹرز سے ڈسکائونٹ مانگ لیتا ہے اور اس طرح ایکسپورٹرز اس فائدے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ماضی میں حکومت نے 5فیصد روپے کی قدر میں کمی کی تھی جس پر غیر ملکی خریداروں نے روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے نئے ایکسپورٹ آرڈرز میں ڈسکائونٹ طلب کئے اور 50فیصد فائدہ ان غیر ملکی خریداروں کو ہوا۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور غیریقینی صورتحال کی وجہ سے غیر ملکی خریدار اور پاکستان ایکسپورٹرز دونوں نئے آرڈرز سے گریزاں ہیں کیونکہ مصنوعات کی تیاری کی لاگت غیر یقینی صورتحال کے باعث طے نہیں کی جاسکتی۔اگر روپے کی قدرمیں کمی ضروری تھی تو اسٹیک ہولڈرز کو قبل ازوقت اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا اور ایک دن میں روپے کی قدر میں 3تا4فیصد کمی کے بجائے بتدریج کمی کیوں نہ کی گئی؟اس عمل سے ایکسپورٹرز غیر ملکی خریداروں کے ساتھ مزاکرات اور پلاننگ نہیں کر سکے۔ حکومت کے حالیہ روپے کی قدر میںمزیدکمی کے تناظر میں بات کریں تو ایکسپورٹ مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہونے والی تقریباً 50فیصد ایکسپورٹ خام مال و دیگر اشیاء مہنگی ہو جائیں گئی اور اس تناسب میں2.5فیصد روپے کی قدر میں کمی کے حساب سے فرق 2.5فیصد بنے گا جس فائدہ غیر ملکی خریدار لے جائے گا ۔روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی بھی بڑھے گی جس کے وجہ سے ورکرز اجرت بڑھانے کا مطالبہ کریں گیااور ایکسپورٹرز کی مشکلات مزید بڑھیں گی کیونکہ پاکستان میں ورکرز کی اجرت، یوٹیلیٹیز کے نرخ اور مینوفیکچرنگ کی لاگت علاقائی ممالک کی نسبت پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔اب تو ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی اعلیٰ مینجمنٹ نے اپنی تنخواہ ڈالرز میں دینے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔اس تناظر میں جبکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستانی بینک ڈالرز کے ریٹ فکس کرنے سے اجتناب کر رہے ہیںبیلنسنگ، ماڈرن آئیزیشن اورریپلیس منٹ کے حوالے سے بھی ایکسپورٹرز کی مشکلات بڑھیں گی کیونکہ امپورٹ کی گئی اکثر مشینری کی ڈیلیوری 6سے8ماہ کے دوران دی جاتی ہے اور اس دوران مزکورہ مشینری کی لاگت میں 20فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔انھوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو حکومت ایکسپورٹس کو بڑھانا چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف روپے کی قدر میں کمی کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔اس وقت ایکسپورٹرزکے کھوئے ہوئے اعتماد کو بحال کرنی کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت ایکسپورٹرزکی تجاویز پر غور کرتے ہوئے عمل درآمدکرے اور ان کے معاملات اور مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تو پاکستان کی ایکسپورٹس میں تیزی سے اضافہ ممکن ہے اورپاکستان اپنی بلند ترین ایکسپورٹ کی سطح سے تجاوز کر سکتا ہے۔ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کا ملک کی مجموعی ایکسپورٹ میں نصف سے زائد حصہ ہے اور ایکسپورٹس میں اضافہ سے ہی ملکی معیشت کے استحکام اور اقتصادی ترقی کے احداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اسٹیک ہولڈرز کا ہنگامی اجلاس طلب کرے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی صورتحال سے نمٹنے اور ایکسپورٹ و مقامی صنعتوں کے تحفظ کی خاطر مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے جو ملک اور پاکستان کے شہریوں کے وسیع تر مفاد میں ہو۔