چہلقدمی اچھی صحت

196

ام عبداللہ

ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہے کہ مختلف مشینوں کے ذریعے سخت ورزشوں کے بغیر جسمانی ساخت کو متناسب بنانا ممکن نہیں جبکہ بعض لوگ طویل فاصلے کی دوڑ کو موٹاپے سے چھٹکارے کی واحد صورت تصور کرتے ہیں تاہم حالیہ تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ صرف بیس منٹ تک چہل قدمی بھی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے اتنی ہی مفید ہے جتنا کہ پر مشقت ورزش اور بھاگ دوڑ۔ چہل قدمی بڑھا ہوا وزن گھٹانے اور اسے کنٹرول میں رکھنے میں بھی بے حد مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین صحت کا دعویٰ ہے کہ روزانہ چہل قدمی سے عارضہ قلب کا خطرہ پچاس فیصد کم ہو جاتا ہے ماہرین نے چالیس ہزار خواتین کا سروے کیا اور نتیجے پر پہنچے کہ وہ وقت جو یہ خواتین چہل قدمی میں صرف کرتی ہیں، ان کی صحت کے لیے اس سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے جو وہ تیز رفتاری سے دوڑنے یا سخت ورزش میں صرف کرتی ہیں بلکہ چہل قدمی کے مثبت اثرات زیادہ وسیع اور دوررس ہیں۔
بیماریوں کے خلاف مدافعت میں مدد دینے کے ساتھ چہل قدمی آپ کے مزاج پر بھی خوش گوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ آپ کی یاد داشت میں بہتری اور کمر کی پیمائش میں کمی واقعی ہوتی ہے۔ اچھی صحت اور فٹنس کا معیار بلند رکھنے کے لیے برطانیہ کے معالجین روزانہ تیس منٹ اوسط رفتار سے چہل قدمی کا مشورہ دیتے ہیں روزانہ چہل قدمی کا معمول اپنائیے، اس طرح آپ دراصل اچھی صحت کی جانب پیش قدمی کررہے ہوں گے۔
چہل قدمی کیسے کی جائے؟
چہل قدمی کے بہترین فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ چلنے کا درست انداز اختیار کیا جائے۔ اپنی کمر سیدھی رکھیں اور یہ تصور کریں کہ آپ کے کان سے نکلنے والی ایک لائن کاندھے اور کولہے سے گزر کر آپ کے ٹخنے تک پہنچ رہی ہے۔ آپ کے پائوں کی ایڑھی پہلے زمین پر رکھی جائے اور پھر تلوا اور پنجہ زمین کو چھوئے، آپ کا وزن قدرے آگے کی طرف رہے تاکہ آپ اپنے پنجوں کو زور ڈال کر پیچھے دھکیل سکیں۔ اپنے بازو موڑلیں اور کہنیاں جسم کے قریب رکھیں۔
بازوئوں کو کاندھے سے حرکت دیں اور انہیں چھاتی کی طرف اس طرح اٹھائیں کہ وہ آپ کے کولہوں کی لائن میں رہیں۔ تمام وقت عام انداز میں سانس لیتے رہیں۔ جیسے جیسے آپ کی جسمانی حالت بہتر ہوتی جائے، اپنی رفتار بڑھائیں اور بازوئوں کو ٹانگوں کی حرکت کے ساتھ گردش میں لانے کی کوشش کریں۔ چھوٹے قدم اٹھائیں اور ہموار انداز میں سانس لینا کبھی نہ بھولیں۔
چہل قدمی کے ذریعے ذہنی قوت میں اضافہ:
تازہ ترین تحقیقات کے نتائج سے ثابت ہوا ہے کہ روزانہ چہل قدمی فالتو چربی سے ہی نہیں بچاتی بلکہ یہ ذہنی انحطاط اور یادداشت کی محرومی سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ تحقیق نے جسمانی ورزش کے عادی اور چہل قدمی پر عمل پیرا عمر رسیدہ افراد کے گروپس کا باہم موازنہ کیا۔
تحقیقات کی روشنی میں ظاہر ہوا کہ چہل قدمی کے عادی معمر افراد کی ذہنی کارکردگی اور استعداد ورزش کرنے والوں سے نمایاں طور پر بہتر ہے۔ اس کی وجہ ماہرین کے مطابق یہ ہے چہل قدمی جیسی ایروبک ورزش سے خون کے بہائوں میں اور دماغ کو آکسیجن کی سپلائی میں اضافہ ہوتا ہے جو اس کو زیادہ مستعد اور چاق و چوبند بناتا ہے۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، دماغ کو خون کی سپلائی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے اور دماغ کا سائز کم ہو جاتا ہے تاہم ورزش یہ انحطاط روکنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ چہل قدمی بلاشبہ دماغ کے ان حصوں پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جو منصوبہ سازی اور یادداشت جیسے اہم امور انجام دینے کے ذمہ دار ہیں۔