وزیر اعظم کا وژن

210

مفتی منیب الرحمن
وزیر اعظم عمران خان نے نئے شہر آباد کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ شہری آبادیوں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور نِت نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا جو جال پھیلایا جارہا ہے، اس سے مستقبل کے لیے زرعی زمین محدود ہوتی جائے گی، لہٰذا کثیر المنزلہ عمارات (یعنی فلیٹ سسٹم) اور شہری سہولتوں کی دستیابی کے ساتھ نئی بستیاں بسائی جائیں گی۔ یہ ایک اچھا وژن ہے، ہم بھی اس کے حامی ہیں۔ زرعی زمینوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے کئی اہلِ نظر کے مضامین آئے دن اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں، ہمارے نزدیک یہ ایک قومی اور ملّی درد ہے اور وقت کی ضرورت ہے۔ دیہاتوں اور قصبات کو تو چھوڑیے، پاکستان کے بڑے شہر بھی شہری سہولتوں کی قلت کا شکار ہیں، یعنی حسبِ ضرورت پختہ سڑکیں، گیس، بجلی، سیورج لائن، پانی کی لائن، اسکول، کالج، جامعات، اسپتالیں، کھیل کے میدان اور پارک وغیرہ آبادی کے تناسب سے دستیاب نہیں ہیں۔ پہلے ایک محدود آبادی کے لیے ان خدمات کی فراہمی کی گئی، پھر پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر کثیر المنزلہ عمارات کا جنگل پھیلادیا گیا اور دستیاب سہولتیں آبادی کے لیے ناکافی ہوگئیں، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں، کہیں پانی کی لائن پھٹی ہوئی ہے، کہیں سیورج لائن دباؤ برداشت نہ کرنے کے سبب اچانک پھٹ جاتی ہے، آئے دن لائن بند ہونے کے سبب مین ہول سے گٹر کا پانی بہتا رہتا ہے۔ بجلی کا بریک ڈاؤن یا شارٹ سرکٹ تو معمول کی بات ہے، کیوں کہ رسد کم ہے اور طلب زیادہ، اس کے سبب ٹرانسفارمر اور بجلی کی تاریں بوجھ برداشت نہیں کرسکتیں اور آئے دن ٹرانسفارمر ٹرپ ہوجاتے ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں پہلے گیس کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ نہیں تھا، مگر اب موجود ہے۔
اسلامی تاریخ میں دوسرے خلیفۂ راشد امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ ایک مُدَبِّر اور صاحبِ بصیرت حکمران گزرے ہیں۔ ان کے عہدِ خلافت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جب اُس عہد کی سپر پاور کا منصب عطا کیا، سلطنتِ اسلامی پھیلتی چلی گئی اور بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بڑھنے لگا، توآپ نے نئے شہر آباد کیے، عربی میں انہیں ’’مُسْتَعْمَرَات‘‘ (Colonies) کہتے ہیں۔ بصرہ، کوفہ، فسطاط، موصل اور جیزہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ لیکن جب تک ان نئی آبادیوں میں روزگار کے وسائل نہ پیدا کیے جائیں، کاٹیج انڈسٹریز یعنی چھوٹے چھوٹے صنعتی یونٹ نہ بنائے جائیں، معیاری تعلیمی ادارے اور اسپتال نہ بنائے جائیں، بڑے شہروں کی طرف مصنوعی طریقوں سے آبادی کے بہاؤ کو روکا نہیں جاسکے گا۔ اصل مسئلہ روزگار کا ہے، یہ قانونِ فطرت ہے کہ جہاں روزگار کے مواقع ہوں گے، کسی کو پسند ہو یا ناپسند، لوگ وہاں کھنچے چلے آئیں گے اور آپ ملک کے اندر شہروں میں داخلے کے لیے پرمٹ سسٹم نافذ نہیں کرسکتے، کیوں کہ یہ شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی ہے اور آئین کے خلاف ہے۔ اس کے نتیجے میں ناپسندیدہ اور سماج دشمن عناصر بھی آبادیوں میں نفوذ کر جاتے ہیں، پھر وہ ریاست وحکومت اور پرامن شہریوں کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔
پس ہم وزیر اعظم کے اس عزم کی تحسین کرتے ہیں، خوش آمدید کہتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ وہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہناکر آنے والی حکومتوں کے لیے ایک مثال قائم کریں۔ اسی طرح سیدنا عمر فاروقؓ ہی نے تاریخ میں پہلی بار انسانیت کے لیے جدید فلاحی ریاست کا ماڈل پیش کیا۔ نئے تصورات، اختراعات اور ادارہ جاتی نظم بھی انسانی تاریخ میں پہلی بار انہوں نے ہی قائم کیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں: ریاستِ مدینہ کا دعویٰ کرنا تو بڑی پرکشش بات ہے، لیکن ایسا دعویٰ کرنے سے پہلے ہمیں ہزار بار سوچنا چاہیے کہ آیا ہم اُن کا پاسنگ بھی ہیں۔
عمران خان نے آتش بدہن فیاض الحسن چوہان کی جگہ صمصام بخاری کا بطورِ وزیر اطلاعات تقرر کیا، یہ ایک اچھی علامت ہے، وہ شریف النفس انسان ہیں، اُن کا خاندانی پس منظر قابلِ احترام ہے، ٹھیراؤ کے ساتھ اور دلیل سے بات کرتے ہیں، زبان سے زہر آلود شعلے نہیں اگلتے، کاش کہ ہمارے سیاست دان اسی طرح وضع دار ہوں۔
مَحفِلِ میر: سجاد میر پاکستان کے سینیر صحافی ہیں، کالم نگار ہیں، تجزیہ کار ہیں۔ 29مارچ کو ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے مجھے لاہور جانا تھا۔ میرے اور سجاد میر کے ایک مشترکہ دوست علامہ ضیاء الحق نقشبندی ہیں، اُن کی پبلک ریلشننگ بہت عمدہ ہے، مختلف المزاج اور متنوّع سیاسی وابستگیوں کے حامل اہلِ فکر ونظر سے ان کا تعلق رہتا ہے۔ انہوں نے سجاد میر سے میری آمد کا تذکرہ کیا تو میر صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ ہفتے کی صبح میں اپنے گھر پر چند احباب کو دعوت دے دیتا ہوں، ناشتہ بھی ہوگا اور تبادلہ خیال کا بہتر موقع میسر آئے گا۔ چنانچہ انہوں نے پرتکلف ناشتے کے ساتھ ساتھ کئی اصحابِ فکر ونظر کی ملاقات کا اہتمام بھی فرمادیا، یہ میرے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ تھی۔ اس محفل میں الطاف حسین قریشی، عامر خاکوانی، اوریا مقبول جان، رؤف طاہر، حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ، سلیم منصور خالد، ڈاکٹر عبدالقادر، سلمان عابد، طاہر بٹ، فرخ شہباز وڑائچ، علامہ ضیاء الحق نقشبندی اور دیگر احباب موجود تھے۔ جب بڑے کالم نگار اور تجزیہ کار جمع ہوں تو حالاتِ حاضرہ پر بحث ناگزیر ہوجاتی ہے، کیوں کہ ان حضرات کی ذہنی بالیدگی اور دانش کے موتی لٹانے کے لیے یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر باشعور انسان کا کسی نہ کسی طرف سیاسی جھکاؤ بھی ہوتا ہے، اگرچہ ہمیں آئیڈیل قیادت دستیاب نہیں ہے، لیکن قیادت کے دستیاب اثاثے میں سے کوئی نہ کوئی ترجیح قرار پاتا ہے، ماضی میں اس کے لیے Lesser Evil، کم تر برائی اور اَھْوَنُ الْبَلایَا کی سیاسی اصطلاحات استعمال ہوتی رہی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ اوریا مقبول جان کی تلوار چارسو چلتی ہے، سو اُس کی کاٹ ہر سو یکساں رہتی ہے۔
میں نے اس مجلس سے استفادہ کیا اور یہ بھی عرض کیا کہ شخصیات کو ایک طرف رکھ کر مسائل پر بات کریں تاکہ ہم وابستگیوں سے بالاتر ہوکر معروضی تجزیہ کرسکیں۔ سجاد میر نے جسمانی خوراک کا اہتمام تو خوب کیا مگر روحانی فیضان کے لیے شمع دوسروں کے آگے رکھ دی اور خود معزز سامع بن کر بیٹھے رہے، کسی شہبازِ خطابت یا ماہر تجزیہ کار یا صاحبِ فکر ونظر کے لیے خاموش بیٹھ کر سننا ہی اُن کا سب سے بڑا ایثار ہے۔ سو الطاف حسین قریشی اور سجاد میر نے انتہائی ایثار کا مظاہرہ کیا، اس کے نتیجے میں دوسرے حضرات کو اظہارِ خیال کاخوب موقع ملا۔ کچھ لوگ تاریخ پڑھ کر جانتے ہیں اور ہماری تاریخ اکثر متفق علیہ نہیں بلکہ متنازع رہتی ہے، آج بھی قیامِ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کی اسلامی اساس کے منکرین موجود ہیں اور انہیں اپنی رائے کی اصابت پر سو فی صد یقین ہے۔ لیکن بزرگ اہلِ صحافت نے تاریخ کو برتا ہے، اتار وچڑھاؤ کوکھلی آنکھوں اور چشمِ بصیرت سے دیکھا ہے، جبکہ آج بعض نئے لوگ خود کو اتھارٹی سمجھ کر ہمارے ماضی اور حال کے فیصلے صادر کرتے رہتے ہیں، یہ ایک المیہ ہے، سانحہ ہے۔ گفتگو کے دوران جماعتِ اسلامی کے امیر کے انتخاب پر بھی اظہارِ خیال ہوا، سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن کا بھی ذکر ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہم قحط الرجال کے دور سے گزر رہے ہیں اور تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ لوگ مذہبی قائدین کو رول ماڈل کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، یہ توقع بجا ہے، لیکن مافوق الفطرت ہونے کی توقع عبث ہے، کیوں کہ مذہبی لوگ بھی کسی اور سیارے سے پیراشوٹ کے ذریعے نہیں اترتے، وہ بھی اسی معاشرے میں جنم لیتے ہیں، نشو ونما پاتے ہیں، ایسے میں ہمیں اگر کہیں غیر معمولی فکری استعداد، ذہنی بلوغت اوراعلیٰ کردار کی حامل چند عبقری اور نابغہ شخصیات مل جائیں تو اسے نظام اور ماحول کی پیداوار نہیں بلکہ اللہ کا خصوصی فضل وانعام سمجھنا چاہیے، لیکن اگر اٹھارہ بیس یا پندرہ بیس کا فرق بھی نظر آجائے تو بسا غنیمت ہے۔ جب معاشرہ اَقدار کے اعتبار سے تنزُّل کا شکار ہوتا ہے، تو اکثر لوگ اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اس کا عملی نمونہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا کی صورت میں موجود ہے کہ بعض اوقات گناہ کو بھی وسیلۂ ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے، العیاذ باللہ تعالیٰ۔ سیاسی رہنماؤں میں انتہائی درجے کی اخلاقی پستی موجودہ عشرے کی پیداوار ہے، وضع داری اور رکھ رکھاؤ کی قدریں ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ برطانوی سیاست میں پالیسی کے اعتبار سے وزیر اعظم ٹرسامے اور لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربن دو انتہاؤں پر ہیں، لیکن قوم کو بند گلی سے نکالنے کے لیے آپس میں ملاقات پر آمادہ ہیں۔
دو تین سال پہلے انیق احمد کے ساتھ ایک پروگرام میں شرکت کے لیے لاہور جانا ہوا تھا، اُس موقع پربزرگ صحافی مجیب الرحمن شامی نے بھی ایسی ہی ایک مجلسِ فکر ونظر اور لذتِ کام ودہن کا عالی شان اہتمام کیا تھا، تب بھی ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا تھا۔ ہمارے اکثر قابلِ قدر لکھاری لاہور اور اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں، اہلِ کراچی کا علم وادب اور قلم سے رشتہ کمزور پڑ گیا ہے، شاید فکرِ معاش یا سہل پسندی نے فکری مشقت برداشت کرنے کے قابل نہیں چھوڑایا شاید یہ سوچ رہے ہوں کہ کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہورہا تو دردِ سر پالنے سے کیا فائدہ، اس کا سبب یہ بھی ہے کہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے کراچی تلخ تجربات سے گزرا ہے، ڈاکٹر قاسم پیرزادہ نے اسی درد کو اپنے ان اشعار میں بیان کیا تھا:
شہر طلب کرے اگر، تم سے علاجِ تیرگی
صاحبِ اختیار ہو، آگ لگا دیا کرو
ایک علاجِ دائمی ہے تو، برائے تشنگی
پہلے ہی گھونٹ میں اگر، زہر ملا دیا کرو
پیاسی زمین کو تو، ایک جُرعۂ خون ہے بہت
میرا لہو نچوڑ کر، پیاس بجھا دیا کرو
ڈھائی عشرے پہلے ہمارے شہر میں ایک نعرہ گونجا تھا:
وفا کرو گے وفا کریں گے، جفا کرو گے جفا کریں گے
ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے، جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے