بالائی علاقوں میں شدید بارش ،سیلاب ،بلوچستان میں مزید 4 افراد جاں بحق 

164
کوئٹہ: بارش کے باعث ندی میں سیلاب میں پھنسی ہوئی بس سے مسافروں کو نکالا جارہا ہے
کوئٹہ: بارش کے باعث ندی میں سیلاب میں پھنسی ہوئی بس سے مسافروں کو نکالا جارہا ہے

کچھی/ ڈیرہ مراد جمالی/ کوئٹہ/ کراچی (نمائندگان جسارت/ اسٹاف رپورٹر/ خبرایجنسیاں) بالائی علاقوں اور بلوچستان میں شدید بارش اور سیلاب کے باعث مزید 4 افراد جاں بحق ہوگئے‘ اضلاع کچھی، جعفرآباد، جھل مگسی،صحبت پور میں کاروبار زندگی معطل ہوگیا‘ سائن بورڈ اور درخت جڑوں سے اُکھڑگئے‘ قومی شاہراہ پرگاڑیاں پھنس گئیں‘ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی تیارگندم کی فصلیں تباہ ہوگئیں‘ کچھی میں پھنسے ہندو یاتریوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا‘ کراچی میںآج اور کل موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ وزیر بلدیات سندھ نے بلدیاتی ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردیں۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں طوفانی بارش کے بعد ندی نالے بپھر گئے ‘ بوستان میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 3 بچوں سمیت 4 افراد بہہ گئے جن کی لاشیں نکال لی گئیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق کوئٹہ، ژوب، موسی خیل، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، قلعہ عبداللہ، تربت سمیت دیگر علاقوں میں آندھی کے ساتھ تیز بارش ہوئی جس کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور سیلابی ریلے میں 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے جن کی لاشوں کو نکال لیا گیا ۔نصیر آباد ڈویژن کے اضلاع جھل مگسی، کچھی، جعفرآباد، صحبت پور، ودیگر علاقوں میں شدید آندھی کے ساتھ طوفانی بارش نے کاروبار زندگی کو معطل کردیا‘ لاکھوں ایکڑز پر تیار گندم کی فصلیں تباہ ہونے سے زمینداروں اور کاشتکاروں کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے جبکہ متعدد علاقوں کا زمینی راستے منقطع ہوگیا ہے جبکہ ہرنائی، سبی، لہڑی اور ڈیرہ بگٹی کے پہاڑوں سے آنے والے بارش کے پانی نے تباہی مچادی‘ ناڑی بینک میں اونچے درجہ کا سیلاب ہے۔ علاوہ ازیں نصیر آباد کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ڈیرہ مرادجمالی میں طوفانی بارشوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی سیکڑوں کچے مکانات زمین بوس ہوگئے جبکہ دکانوں کے چھپر، سائن بورڈ اور درخت جڑ سے اُکھڑ گئے‘ متعدد افراد بھی زخمی ہوئے جبکہ بارشوں کا پانی گلی محلوں میں جمع ہو کر ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگا‘ مین بازار قومی شاہراہ پر3 سے4 فٹ پانی جمع ہونے سے قومی شاہراہ پر چھوٹی بڑی گاڑیاں پھنس گئی جس سے ہزاروں مسافر سخت مشکلات کا شکار ہیں تاہم انتظامیہ نے ابھی تک پانی کو نکالنے اور قومی شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت کو بحال کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ۔ سیاسی و سماجی اور عوامی حلقوں نے اعلیٰ اُحکام سے اپیل کی ہے کہ پانی کو فوری طور پر نکالنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں ۔جے یوپی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحکیم انقلابی نے کہا ہے کہ بارشوں کے باعث نصیر آباد میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے‘ زمینداروں اور کاشتکاروں کو اربوں روپے کے نقصان ہوا ہے انہوں نے حکومت سے نصیر آباد کو آفت زدہ علاقہ قرار دینے اور کسانوں کی مالی امداد کی اپیل کی ہے ۔ ضلع ڈیرہ غازی خان کے اسپتالوں میں 3 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے‘ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں ایران سے کراچی آنے والے سسٹم سے کراچی میں موسم خوشگوار ہوگیا اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے گرمی کا روز بھی ٹوٹ گیا۔ شہر میں (آج) پیر اور (کل) منگل کو گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے چیف میٹ کراچی عبد الرشید کے مطابق پیر کو کراچی میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز جبکہ منگل کو شہر میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے جس کے بعد یہ سسٹم کراچی سے نکل جائے گا۔ ادھر کراچی میں دن بھر گرمی کی شدت برقرار رہی جبکہ دوپہر کے بعد شہر میں ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگی اور موسم خوشگوار ہوگیا ہے جس کے بعد شہریوں نے شام کے اوقات میں تفریح گاہوں کا رخ کر لیا‘ لیکن رات گئے کراچی کے مختلف علاقوں میں گردآلود ہوائیں چلیں‘ جس کے باعث حد نظر تقریباً صفر ہوگئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی رات گئے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی‘ وہاڑی، میاں چنوں، ساہیوال، پاکپتن میں بادل خوب برسے۔ آئندہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب اور خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کراچی سمیت سندھ بھر میں بارش کی پیش گوئی کے بعد تمام میونسپل کمشنر، میونسپل آفیسروں، ٹاؤن آفیسروں اور لوکل گورنمنٹ کے ڈائریکٹرز کو خصوصی احکامات جاری کردیے ہیں کہ تمام بلدیاتی ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی جائیں‘ تمام متعلقہ ادارے و محکمے بالخصوص ایم سیز، ڈی ایم سیز، واٹر بورڈ میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ تمام ضروری مشینری بشمول جنریٹرز اور نکاسی آب کی مشینری کو اسٹینڈ بائی رکھا جائے‘ کسی بھی علاقے میں پانی جمع ہوجانے کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے‘ کے الیکٹرک سمیت تمام بجلی کی فراہمی کی کمپنیوں اور اداروں سے رابطہ رکھا جائے اور کسی بھی مقام پر بجلی کے تار کے ٹوٹنے یا بجلی کے پول میں کرنٹ کی شکایات کا ازالہ کیا جائے ۔