نوازشریف اور آصف زرداری کا مستقبل!

187

رواں سال 2019 میں مارچ آنے کے باوجود ملک کا موسم سرد، مگر سیاسی حالات گرم ہیں۔ سیاسی حالات کی گرمی صرف وہی محسوس کررہے ہیں جو مسلسل حکومتوں کے مزے لوٹتے رہے اور اب وفاق میں اپوزیشن کی بنچوں پر بیٹھنے کے ساتھ سخت احتساب کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ سندھ کی حکومت اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نیب کی گرفت میں آچکے ہیں اور نہ جانے آئندہ چند دنوں میں مزید کون کون لوگ نیب کے مہمان بنتے ہیں۔ سابق وزیراعظم و پاکستان مسلم لیگ کے سابق صدر میاں نواز شریف کرپشن کے مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’’میں جیل جانے سے نہیں ڈرتا، پہلے بھی قید رہ چکا ہوں‘‘۔ سیاسی حالات کی اس گرما گرمی میں گزشتہ پیر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات کرکے ان کی عیادت کی۔ جیل میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر ارکان بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات ایسے سیاسی ماحول میں ہوئی جب آصف علی زرداری کے خلاف جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ان مقدمات میں حفاظتی ضمانت قبل ازگرفتاری حاصل کرچکے ہیں۔ ماضی میں کسی مقدمے میں ضمانت حاصل کرنے سے یہ تاثر لیا جاتا تھا کہ ملزم یا ملزمان نے اپنے اوپر لگے الزامات کو تسلیم کرلیا ہے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب تو سیاسی لوگ الزامات لگنے کو اعزاز سمجھنے لگے ہیں۔ کیوں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ’’یہ مقدمات کیسے بھی ہوں سیاسی کہلائیں گے اور ہم بچ نکلیں گے‘‘۔
بلاول زرداری کی نواز شریف سے ملاقات کے حوالے سے عام تاثر ہے کہ ’’نواز شریف اور زرداری اپنے مستقبل کی فکر میں ماضی کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کے قریب آنے اور مستقبل میں مشترکہ جدوجہد کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ لیکن راقم اس بات سے متفق نہیں ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کے دونوں رہنماؤں کا فوری مسئلہ ان کی پارٹیوں کے مستقبل کا نہیں ہے بلکہ دونوں کی اپنی اپنی ذات کا ہے۔ جس طرح نواز شریف تاحیات کسی سیاسی عہدے کے لیے نااہل قرار دیے جاچکے ہیں اسی طرح آصف علی زرداری کو بھی اپنی عمر کے آخری حصے میں ’’سیاسی نااہل‘‘ ہونے کے خدشات ہیں۔ یہی ڈر آصف علی زرداری کو میاں صاحب کے قریب جانے کے لیے مجبور کرچکا ہے۔ اس مجبوری میں پہلے انہوں نے اپنے بیٹے کو میاں صاحب کی عیادت کے لیے جیل بھیج کر ’’ابتدائی معاملات‘‘ طے کرنے اور میاں صاحب کے ارادوں کو جانچنے کا ٹاسک دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق میاں نواز شریف نے بلاول سے کسی بھی قسم کی سیاسی گفتگو کرنے سے گریز کیا اور بلاول کی ہر بات پر خاموش رہے یا مسکراتے رہے۔ گو کہ میاں صاحب نے خاموشی اور مسکراہٹ کے دوران میں آصف زرداری کو یہ پیغام دیا کہ ’’تم میری عیادت کو بھی سیاست بنا رہے ہو‘‘۔
بلاول زرداری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول زرداری جیسے ہی میاں نواز شریف سے ملاقات کرکے باہر آئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ ’’میاں صاحب بلاول سے بھی اپنے ببلو کی طرح چند باتیں کی اور پھر انہیں رخصت کردیا۔ اس بات کا یقین اس لیے بھی ہورہا ہے کہ بلاول زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا اصرار ہے کہ دونوں سیاسی شخصیات کی ملاقات کی نوعیت غیر سیاسی تھی جس کا مقصد صرف نواز شریف کی بیماری کے باعث عیادت کرنا تھا۔ جبکہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول نے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تین مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہنے والے کو بہترین علاج کی سہولت مہیا کی جائے۔ میاں نواز شریف کی ممکنہ ڈیل کے متعلق ایک سوال کے جواب میں بلاول کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ ان کے خلاف سازش کر رہے ہیں، میاں صاحب خود متعدد بار نظریاتی سیاست کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں اور آج کی ملاقات میں مجھے کوئی ایسا تاثر یا اشارہ نہیں ملا کہ نواز شریف کوئی سمجھوتا یا ڈیل کریں گے۔ وہ اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور ان کی جماعت بھی ان اصولوں پر قائم رہے گی۔ ظاہر ہے کہ بلاول اس سے زیادہ اور کچھ کہہ بھی کیا سکتے ہوں گے۔ یہ تو وہی باتیں ہیں جو بلاول زرداری کو میاں نوازشریف سے ملاقات کے لیے جانے سے پہلے ان کے سیاسی مشیروں نے سمجھائی ہوں گی۔ مسلم لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں صاحب تو آصف علی زرداری کے خود عیادت کے لیے نہ آنے پر پہلے ہی ناراض تھے۔ وہ اس غرض سے بلاول سے ملاقات کرنا بھی نہیں چاہتے تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بلاول سے ملاقات کرتے ہوئے کسی گرم جوشی یا مسرت کا اظہار بھی نہیں کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آصف علی زرداری جو پارٹی کے شریک چیئرمین ہونے کے باوجود پارٹی امور پر کڑی گرفت رکھتے ہیں صرف اپنے مفاد میں مسلم لیگ کے سابق صدر سے ملاقات کرنے کے لیے بلاول کو ان کے پاس بھجوایا تھا کہ ’’آئندہ سیاسی راہیں کھل سکیں‘‘۔ خیال رہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے حزبِ اختلاف کی کسی بھی بڑی جماعت کے سربراہ کی یہ پہلی ملاقات تھی اور یہ ملاقات بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے جانب سے ایسے وقت میں کی گئی جب حال ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان نے سندھ کے علاقے چھاچھرو کے دورے کے موقع پر اپنی تقریر میں بلاول اور ان کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
آصف زرداری، نواز شریف کی عیادت کے لیے خود کیوں نہیں کوٹ لکھپت جیل پہنچے اس کی وجہ تو شاید یہی ہو کہ آصف زرداری کو نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں کوٹ لکھپت جیل میں بھی قید رکھا گیا تھا۔ جبکہ اپنے آخری دور حکومت میں میاں نواز شریف نے آصف زرداری کے دوستوں کے خلاف حساس ادارے کی گرفت بڑھتے وقت ان سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی ظاہر نہیں کی تھی۔ بلاول اور میاں نواز شریف کی ملاقات چوں کہ ایک ناکام ملاقات تھی اس کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں تھا اس لیے یہ کہنا کہ مستقبل قریب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز قریب آسکیں گے خام خیالی سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوگی۔ البتہ اپوزیشن کی دونوں پارٹیوں کی اس ملاقات کے فوری نتائج سامنے نہ آنے اور اطلاعات کے مطابق ملاقات کا مقصد فوت ہونے سے عمران خان کی حکومت کو اطمینان حاصل ہوا ہوگا۔ یقین ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کی حکومت اب کرپشن زدہ سیاسی عناصر کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں کرے گی البتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ نواز شریف کی بیماری کی وجہ سے انہیں مزید کوئی سہولت فراہم کی جائے گی ممکن ہے کہ میاں صاحب کو ان کی خواہش کے مطابق لاہور یا کراچی کے کسی بڑے اسپتال میں منتقل کردیا جائے۔ لیکن یہ سب اس وقت تیزی سے ممکن ہوگا جب سیاست کے دوسرے بڑے چمپئن عدالت کے حکم پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جائیں گے۔ آنے والے دن موسم کی تبدیلی کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے شب و روز تبدیل ہونے کی خبر لائیں گے۔ ممکن ہے کہ آصف علی زرداری کو گرفتاری کے بعد کوٹ لکھپت جیل اور نواز شریف کو کراچی سینٹرل جیل منتقل کردیا جائے۔