امریکا سے تجارتی تنازع برقرار ، چین نے دفاعی بجٹ بڑھا دیا

97
بیجنگ: چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ سالانہ پیپلز کانگریس سے خطاب میں دفاعی بجٹ میں اضافے کا اعلان کررہے ہیں
بیجنگ: چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ سالانہ پیپلز کانگریس سے خطاب میں دفاعی بجٹ میں اضافے کا اعلان کررہے ہیں

 

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین اور امریکا کے درمیان درآمدی ٹیکسوں میں اضافے کے تنازع سے دونوں ممالک کی معیشتیں دباؤ میں ہیں۔ اس کے باوجود چینی حکومت نے سال رواں کے لیے ملکی دفاعی بجٹ میں ساڑھے 7 فیصد اضافے کا اعلان کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال دفاعی بجٹ کی مالیت تقریباً 12کھرب یوآن ہو گی، جو تقریباً 178 ارب امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ یہ رقوم زیادہ تر پیپلز لبریشن آرمی کو جدید تر بنانے، اسٹیلتھ جنگی طیاروں اور طیارہ بردار بحری بیڑوں کے حصول اور دیگر ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کی جائیں گی۔ 2018ء میں بیجنگ حکومت نے ملکی دفاعی بجٹ میں 8.1 فیصد اضافہ کر کے یہ رقوم 11کھرب یوآن کر دی تھیں۔ چینی فوج 20لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اس وقت امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جس کا منفی اثر معیشت پر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سالانہ اجلاس سے خطاب میں چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ ملک کو اس وقت سخت جدوجہد کا سامنا ہے۔ شرح نمو کے حوالے سے حکومت کا رواں سال ہدف 6 سے 6.5فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ترقی کا سفر برقرار رکھنے کے دوران ہمیں گمبھیر اور مزید پیچیدہ ماحول کا سامنا ہے، جب کہ کئی طرح کے خطرات اور چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ لی کی چیانگ نے پارلیمان کو بتایا کہ عصر حاضر میں عسکری حکمت عملی کو اس طرح ترتیب دیا جا رہا ہے کہ جنگی حالات میں فوجی تربیت کو زیادہ بہتر بنایا جائے اور چین کی سالمیت، سیکورٹی اور ترقیاتی مفادات کا زیادہ بہتر انداز میں دفاع کیا جا سکے۔ خیال رہے کہ چین کے تزویراتی مفادات کے تناظر میں عالمی طاقتیں بالخصوص بیجنگ حکومت کی طرف سے عسکری صلاحیتوں کے مزید جدید اور بہتر بنانے کی پالیسی کو غور سے پرکھتی ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے، جب گزشتہ برس چین کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی نوٹ کی گئی تھی۔