ماسکو مذاکرات طالبان نے افغانستان میں نئے آئین کا مطالبہ کردیا

162
ماسکو: سابق افغان صدر حامد کرزئی طالبان سیاسی دفتر کے اراکین کے ساتھ ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہے ہیں
ماسکو: سابق افغان صدر حامد کرزئی طالبان سیاسی دفتر کے اراکین کے ساتھ ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہے ہیں

ماسکو(خبر ایجنسیاں)روس میں جاری افغان امن مذاکرات میں طالبان نے جنگ زدہ افغانستان کے لیے ’نئے آئین‘ کا مطالبہ کردیا۔خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران طالبان نے افغانستان کے لیے ’اسلامی نظام‘ کا وعدہ بھی کیا۔طالبان رہنماؤں، سابق صدر حامد کرزئی، اپوزیشن رہنما اور قبائلی علماء مذاکراتی عمل میں شامل ہیں تاہم کابل حکومت کے حکام مذاکرات کا حصہ نہیں۔طالبان وفد کے ترجمان شیر محمد عباس نے ماسکو میں کہا کہ کابل حکومت کا آئین غیر موزوں ہے جسے مغربی ملک سے حاصل کیا گیا اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسلامی آئین چاہتے ہیں اور نیا منشور اسلامک اسکالرز تشکیل دیں گے۔واضح رہے کہ طالبان افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ کو امریکی کٹھ پتلی تصور کرتے ہیں۔شیر محمد عباس نے بتایا کہ جنہوں نے افغانستان میں 1996 سے 2001 کے دوران شریعی قانون کی پابندی کی وہ طاقت کی اجارہ داری نہیں چاہتے لیکن اسلامی نظام کے خواہاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان وعدہ کرتے ہیں افغانستان سے افیون کی کاشت کا خاتمہ کردیں گے اور جان لیوا جھگڑوں کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔امن مذاکرات میں دو خواتین نے بھی شرکت کی جنہوں نے امکان ظاہر کیا کہ طالبان شریعت کے مطابق طالبات کی تعلیم کے مواقع دیں گے۔میزبان گروپ کے سربراہ محمد غلام جلال نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ تمام فریقین سمجھوتے کے لیے آمادہ ہیں اور یہ ایک اچھی شروعات ہے۔واضح رہے کہ طالبان امن مذاکرات سے متعلق دوسرا دورہ امریکا کے ساتھ 25 فروری کو قطر میں کریں گے۔