حیدرآباد ،ڈپٹی کمشنر ہاؤس کاگرین بیلٹ غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل

82

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) سٹی کے مرکز میں واقع ڈپٹی کمشنر ہاؤس کاگرین بیلٹ گندگی غلاظت،کوڑا کرکٹ اور سیوریج کے پانی کے باعث جوہڑ بن گیا، حیدر چوک سے گول بلڈنگ رسالہ روڈ تک ڈینٹرز، پینٹرز کا سڑکوں پرقبضہ بھی برقرار۔ ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن، ٹریفک پولیس کی نااہلی اور اعلیٰ عدلیہ وجوڈیشل واٹر کمیشن کے احکامات ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے باعث سٹی اور لطیف آباد کے تمام علاقوں میں سڑکوں پر ڈینٹرز، پینٹرز اور ورکشاپس مافیا کے قبضوں کے باعث بدترین ٹریفک معمول ہے، جبکہ ضلعی حکومت کے سربراہ ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کے ہاؤس کے اطراف کا پورا علاقے گندگی غلاظت کا ڈھیر اور تجاوزات کی بھرمار کا جنگل بنا ہوا ہے، سٹی کے مرکز میں واقع ڈپٹی کمشنر ہاؤس کا گرین بیلٹس گندگی، غلاظت کوڑا کرکٹ اور سیوریج کے جمع پانی کے باعث جوہڑ بن چکا ہے، جس کے باعث پورے علاقے میں بدبو پھیلی ہوئی ہے، جبکہ حیدرچوک، رابعہ اسکوائر، رسالہ روڈ، ڈی سی کمپاؤنڈ، گورنمنٹ ہائی اسکول، گول بلڈنگ، لاء کالج، سوسائٹی چوک پر سڑکوں پر غیرقانونی ورکشاپس قائم ہیں، جہاں سارا دن ڈینٹرز پینٹر زگاڑیاں کھڑی کرکے ان میں مرمتی کام کرتے ہیں۔ حیدر چوک سے متصل رابعہ اسکوائر پر ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے بیریئر لگا کر غیرقانونی ٹیکسی اسٹینڈ قائم کردیا ہے، جس کے باعث کورٹ روڈ سے رسالہ روڈ آنے والے ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گول بلڈنگ سے متصل رہائشی علاقے کھوکھر محلے کی تمام گلیوں میں سڑکوں پر غیرقانونی موٹر سائیکل مارکیٹ قائم ہے، جہاں کے مکین دوپہر سے رات گئے تک اپنے گھروں میں محصور ہوجاتے ہیں۔ مذکورہ مارکیٹ کو ختم کرانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ نے ٹریفک پولیس اور میونسپل کارپوریشن سمیت تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے تھے مگر ان احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ اسی طرح عدالت عظمیٰ، جوڈیشل واٹر کمیشن، سندھ ہائی کورٹ، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے بھی تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک مسائل کے حل کے لیے دیے گئے احکامات پر ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن اور پولیس کے افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، جبکہ ڈپٹی کمشنر حیدر آباد کے دفتر سے اعلیٰ عدلیہ، واٹر کمیشن کے احکامات کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے رسالہ روڈ کی مرکزی شاہراہ پر ڈی سی کمپاؤنڈ کے ساتھ بااثر دکانداروں کو ورکشاپس قائم کرنے کے لیے تحریری اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے، جسے منسوخ کرنے کے لیے دی جانے والی کئی درخواستوں پر بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ کمشنر حیدر آباد محمد عباس بلوچ نے ڈسٹرکٹ ٹریفک مینجمنٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہر بھرسے تجاوزات، غیرقانونی پارکنگ، ورکشاپس 15 روز میں ختم کرنے کے لیے احکامات دیے تھے مگر وہ ان احکامات پر عملدرآمد نہیں کراسکے۔