ڈی جی نیب کے انٹرویو کیخلاف اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی

111

قومی اسمبلی اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر نے اپوزیشن کو ڈی جی نیب لاہور کی جانب سے میڈیا پر انٹرویوز دینے کیخلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کی اجازت نہ دی،اپوزیشن نے تحریک استحقاق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت شروع ہوا جس میں اپوزیشن نے ڈی جی نیب کی جانب سے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ارکان اسمبلی کا میڈیا ٹرائل کرنے پر تحریک استحقاق لانے کا مطالبہ کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کا ایک افسر اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کر رہا ہے ، وہ افسر وہ باتیں کر رہا ہے جو پبلک میں نہیں آسکتیں ، اگر آپ اس کا نوٹس نہیں لیں گے تو کون لے گا ، ایک افسر نے قانون کو توڑا ہے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ  جو باتیں نیب افسر کر رہا ہے وہی وزرا اور وزیر اعظم بھی کر چکے ہیں وہ ان کے علم میں کیسے آئیں ،

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ  ہم احتساب چاہتے ہیں لیکن ان لوگوں سے احتساب نہیں چاہتے جوحکومت سے تنخواہ لیتے ہیں، سپریم کورٹ کی ہدایت ہے کہ تفتیشی ادارے کسی کوبے عزت نہیں کریں گے، لہذا نیب افسر کے خلاف تحریک استحقاق لی جائے۔ایوان اسے نہیں پوچھے گا تو کون پوچھے گا ۔

پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اگر ممبران کی میڈیا ٹرائل کا اجازت دی تویہ سلسلہ جاری رہے گا، نیب افسر ایک دن میں 5 ٹاک شوز میں شریک ہوئے کیا اب نیب کی یہ پالیسی ہے کہ وہ صرف میڈیا ٹرائل کریں گے جس پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ تحریک استحقاق کی فائل آئے گی تو اس پر قانونی رائے لوں گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آپ اسپیکر کو ڈکٹیٹ نہ کریں قانون سب کے لیے برابر ہے، کسی کو ایم این اے ہونے کی وجہ سے چھوٹ نہیں دی جاسکتی، جب اپوزیشن لیڈر ایوان میں آئے تھے تو وزیر قانون نے کہا تھا کہ آپ کو نیب کا میڈیا ٹرائل نہیں کرنا چاہیئے ،لیکن اپوزیشن لیڈر نے اپنا پورا مدعا بیان کیا ،فواد چوہدری نے کہا کہ آپ تحریک استحقاق کا ہتھیار استعمال کرکے تحقیقات پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں ، یہ تحریک استحقاق لانا آئین کے خلاف ہے ۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماء رانا تنویر حسین نے کہا کہ ایوان کا استحقاق مجروع ہو اہے ، ٹی وی پر میڈیا ٹرائل کیا گیا ، کل کو شہباز شریف بری ہو جائیں گے تو پھر کیا ہوگا ، انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیئے ، ایک افسر ٹی وی پر آکر اتنی بڑی بڑی باتیں کرے یہ نہیں ہو سکتا ۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں اس پر مشاورت کر کے جواب دوں گا،اسپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔

بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک استحقاق جمع کروا دی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈی جی نیب نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی۔ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشا سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا جس میں اپوزیشن ارکان کا میڈیا ٹرائل کیا، ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں لہذا معاملے پر تحریک استحقاق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.