فلسطین میں صہیونی ریاست کا وجود ناسور اور باطل ہے‘ حماس

88
غزہ: یہود کو فلسطین میں وطن دینے کے برطانوی وعدے ’اعلان بالفور‘ کو 101برس مکمل ہونے پر مظاہرین سابق برطانوی وزیر خارجہ آرتھر یمس بالفور کی تصویر نذرآتش کررہے ہیں
غزہ: یہود کو فلسطین میں وطن دینے کے برطانوی وعدے ’اعلان بالفور‘ کو 101برس مکمل ہونے پر مظاہرین سابق برطانوی وزیر خارجہ آرتھر یمس بالفور کی تصویر نذرآتش کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے کہا ہے کہ ارض فلسطین میں صہیونی ریاست کا وجود ناسور اور باطل ہے جسے اکھاڑ پھینکنے تک فلسطینی قوم کی تحریک جاری رہے گی۔ حماس نے عالمی برادری اور عالم اسلام پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت کریں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کی طرف سے بدنام زمانہ ’اعلان بالفور‘ کے 101 سال پورے ہونے کی مناسبت جاری ایک بیان میں صہیونی ریاست کے وجود کو باطل قرار دیا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کوایک قانونی ریاست کے طورپر تسلیم کرنا ناممکن ہے۔ حماس اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے تمام طریقے اختیار کرنے کی پالیسی پر قائم ہے۔ ہمارا پر زور مطالبہ ہے کہ عالمی برادری فلسطینی عوام کے حق واپسی اور غزہ کی ناکا بندی کے خاتمے کے لیے جاری تحریک کی حمایت کی جائے تاکہ صہیونی ریاست کے خلاف فلسطینیوں کی تحریک کوموثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سرزمین فلسطین میںیہودیوں کے لیے قومی وطن کے قیام کے حوالے سے بدنام زمانہ ’اعلان بالفور‘ باطل فیصلہ تھا۔ فلسطینی قوم نے آج تک اسے قبول نہیں کیا اور کبھی قبول نہیں کرے گی۔ اعلان بالفورکو ہوئے ایک سو ایک سال کے بعد آج بھی فلسطینی قوم کے خلاف عالمی استعمار کی سازشیں جاری ہیں۔ قضیہ فلسطین کا تشخص مٹانے کے لیے امریکی اور صہیونی گٹھ جوڑ آج بھی سرگرم ہے۔ صہیونی امریکی گٹھ جوڑ فلسطینی قوم کے تاریخی اور مسلمہ حقوق کی نفی کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔ فلسطینی قوم کو قابض اور غاصب طاقت کے خلاف مزاحمت کے تمام وسائل کے استعمال کا حق حاصل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ