’حق واپسی تحریک‘ کے شہدا  کی تعداد 208 ہو گئی‘ 22 ہزار زخمی

28

غزہ(انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 30 مارچ 2018ء سے غزہ میں جاری تحریک حق واپسی کے شہدا کی تعداد 208 ہوگئی۔ ان میں سے کئی شہدا کے جسد خاکی اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے رکھے ہیں۔ وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس دوران 22ہزار زخمی ہوئے۔ احتجاج کے دوران ہزاروں زخمیوں کو موقع پرطبی امداد مہیا کی گئی، جب کہ کئی ہزار کو علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ شہدامیں 36بچے، 3 خواتین، 2 صحافی، طبی عملے کے ارکان اور 3معذور بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 4ہزار200 اور خواتین کی تعدادایک ہزار950 ہے۔ ان میں سے 417 شدید زخمی ہیں، 4ہزار 293 درمیانے درجے کے اور 13 ہزار 296 کومعمولی درجے کے زخم آئے ہیں۔ دوسری جانب شمالی شہر نابلس میں اسرائیلی فوج نے ایک کارروائی کے دوران فلسطینی شہری کو حراست میں لے لیا۔ اس پر یہودی آباد کاروں کو چاقو مارکر زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ اسرائیل کے عبرانی ریڈیو کے مطابق قابض فوج نے حوارہ چیک پوسٹ کے قریب ایک یہودی آباد کار کو چاقو گھونپنے کے الزام میں 19 سالہ عزام احمد قاسم حج علی کو نابلس کے نواحی علاقے جماعین سے حراست میں لیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اسپیشل فورس کے اہل کاروں نے جماعتین میں گھر گھر تلاشی کے دوران 2 فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ ایک کی شناخت 19 سالہ احمد قاسم حج علی اور دوسرے کی رامز ہشام حشاش کے نام سے کی گئی۔
حق واپسی تحریک

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.