بلدیہ عظمیٰ کراچی نے عملے کوتجاوزات پر چالان کرنے سے روک دیا

69

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) بلدیہ عظمٰی کراچی نے محکمہ اینٹی انکروچمنٹ کو تجاوزات کی مد میں کسی قسم کا چالان کرنے سے روک دیا ہے جبکہ حکم دیا گیا ہے کہ سڑکوں پر ہر طرح کی تجاوزات بلا تاخیر ہٹادی جائے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ہدایت میئر وسیم اختر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں جاری کی گئی ہے۔ اجلاس میں میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف لرحمان اور مختلف محکموں کے ڈائریکٹرز بھی شریک تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تجاوزات کی مد میں چالان جاری کرنے سے روکنے کا فیصلہ واٹر کمیشن کے حکم کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ مسلم ہانی نے شہر میں صنعتی علاقوں سمیت شہر بھر کی سڑکوں پر تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری کارروائی کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یادرہے کہ بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی بلدیاتی ادارے تجاوزات کی موجودگی میں تجاوزات ہٹانے کے بعد اور عارضی طور پر اسے قائم رکھنے کی اجازت دینے کے لیے اسکوائر فٹ کے حساب سے جرمانہ عائد کرکے مختلف رقوم کا چالان جاری کر دیا کرتے تھے۔ جمعرات کو کے ایم سی ہیڈ آفس میں ہونے والے اجلاس میں واٹر کمیشن کے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں میٹروپولیٹن کمشنر نے محکمہ انسداد تجاوزات کو ہدایت کی کہ محکمے کو حقیقی اینٹی انکروچمنٹ کا شعبہ بنایا جائے نا کہ ” ریونیو ریکوری ” کرنے والا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے فوری طور پر کسی بھی قسم کی انکروچمنٹ کی مد میں چالان جاری کرکے رقوم حاصل کرنے کے بجائے فوری تجاوزات ہٹاکر سڑکوں اور فٹ ہاتھوں اور سروس روڈز کو ہر طرح کی انکروچمنٹ سے پاک کیا جائے۔ کے ایم سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے تحت تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ضبط اشیا کو اب نیلام کردیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی انکروچمنٹ ڈپارٹمنٹ ہر سال تجاوزات چھوڑنے اور لگائے جانے کی مدت میں چالان سے تقریبا 6 کروڑ روپے آمدنی حاصل کرتی ہے۔رواں سال کے بجٹ میں 3ماہ کے دوران اس مد میں 4کروڑ روپے وصولیابی کی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ