سی پیک پر نظر ثانی نہیں ہورہی ،روس بھارت دفاعی معاہدہ تشویشناک ہے،پاکستان 

118

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا،پاکستان اور چین اسپیشل اکنامک زونز میں تیسرے شراکت دار کی شرکت کے لیے پر امید ہیں، روس اور بھارت کے درمیان دفاعی معاہدہ تشویشناک ہے ، خطے میں طاقت کا توازن خراب ہوگا اور اسلحے کی دو ڑ شروع ہو جائے گی، مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارت کے کنٹرول میں نہیں رہے ، حریت قائدین کی نظر بندی قابل مذمت ہے، بلدیاتی انتخابات کو کشمیری عوام نے مسترد کردیا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن اجلاس کے لیے دوشنبے جائیں گے۔ ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی این جی اوز کے کام کرنے پر پابندی نہیں، پاکستان نے حال ہی میں 141 بین الاقوامی این جی اوز کے معاملات دیکھے جن میں سے 74 کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی، پاک چین اقتصادی راہداری کے معاہدوں پر نظر ثانی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کو درست رپورٹ نہیں کیا گیا، پاکستان اور چین اسپیشل اکنامک زونز میں تیسرے شراکت دار کے لیے پر امید ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سی پیک کی شراکت داری پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاملات ابھی طے پانے ہیں۔سعودی عرب میں 1500پاکستانیوں کی حراست پر بھی رابطے میں ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ کے خلاف ہے، پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کوئی خفیہ پالیسی نہیں، بھارت مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا لیکن پاکستان کسی بات سے نہیں بھاگ رہا، ہم نے سب سے بات چیت کرنی ہے، ہماری خارجہ پالیسی میں کوئی ابہام نہیں۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بلدیاتی انتخابات کے موقع پر حریت رہنماؤں کی نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالات بھارتی کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں اور بلدیاتی انتخابات کو عوام نے مسترد کردیا، بھارت اس طرح کے ڈرامے کرکے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کے خصوصی مشیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے دورے میں افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک نے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا، ان کا آنا اس بات کی عکاسی ہے کہ امریکا بھی آگے بڑھنا چاہتا ہے، اور موجودہ حکومت کے دور میں امریکا کے ساتھ رابطوں میں تیزی آئی ہے ،افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا، افغانستان اور دیگر فریقوں کی ذمے داری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ