نیشنل ریفائنری میں ملازمین کا معاشی استحصال بند کیا جائے

95

نیشنل ریفائنری لیبر یونین کے وفد نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ریفائنری میں لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے رواج کے باعث انتظامیہ نے آئین پاکستان اور صوبائی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ صوبائی لیبر عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کے منتظر یا تو دوسری دنیا سدھار جاتے ہیں یا اپنے حقوق حاصل کرنے سے پہلے ریٹائر ہوجاتے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ ادارے کا ایک ملازم شیر خان جنوری 2014ء میں 60 برس کی عمر میں ریٹائر ہوا جب کہ ایک اور ملازم فضل احمد قریشی مارچ 2014ء میں ریٹائر ہوا۔ دونوں کی بنیادی تنخواہ مساوی تھی مگر انتظامیہ نے 15 سالہ رائج ریٹائرمنٹ کے طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے شیر خان کی بنیادی تنخواہ نہیں بڑھائی۔ اس امر پر شیر خان نے اپنے بقایا جات وصول کرکے لیبر عدالتوں میں کیس کیا کیونکہ ان کو اپنی زندگی آگے بڑھانے کے لیے بقایا جات جو بھی ملے وصول کرنے پڑے۔ شیر خان کے کیس کے جواب میں انتظامیہ نے فضل احمد قریشی کو شیر خان کی نسبت مزید 15 لاکھ اور 8 ہزار پنشن میں نقصان پہنچایا اور اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج تک قائم ہے۔ جبکہ ادارے کی انتظامیہ اس ظالمانہ امر پر کسی طور پر شرمندہ نہیں اور دھونس اور چالبازی اور قوانین کی آڑ میں بدنیتی پر مبنی جابرانہ طریقوں سے ملازمین کا معاشی استحصال کرے جارہی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ کسی ملازم کو نہیں پتا کہ اس کو کہیں آج ہی نوکری سے فارغ کردیا جائے گا۔ اس نقصان اور ذہنی اذیت کی ذمہ دار 2005ء میں موجود حکومت پاکستان تھی جس نے ایک منافع بخش سرکاری کنٹرول کے ادارے کو صرف 16.4 ارب روپے میں فروخت کیا اور اس وقت تعینات منیجنگ ڈائریکٹر قیصر جمال آج بھی 25 جولائی 2018ء کی ایک خبر کے مطابق PSO میں 63 ارب روپے کے فراڈ میں ملوث پائے گئے ہیں اور زیر حراست ہیں۔
اٹک گروپ کی خریداری کی بدولت حکومت پاکستان کو کوئی زرمبادلہ حاصل نہیں ہوا بلکہ اٹک گروپ نے اربوں روپے مقامی بینکوں سے قرض لے کر نیشنل ریفائنری کو خریدا تھا اور ان اربوں روپے قرض کی واپسی اٹک پٹرولیم کو نیشنل ریفائنری سے سستا مال خرید کر منافع بنا کر کی گئی جو پروجیکٹ نیشنل ریفائنری سرکاری دور میں ڈائریکٹ فروخت کرتی تھی اور 49 فیصد شیئرز ہولڈر کو ان کے منافع میں نقصان پہنچایا گیا۔ اٹک گروپ نے ادارے میں 2005ء انتظامیہ کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے آج تک ایک بھی ورکر کا تقرر نہیں کیا اور 356 جونیئر افسران کا عہدہ بنا کر تقرر کیے ہیں تا کہ ان کو سندھ لیبر قوانین کا تحفظ حاصل نہ ہو۔ یہ ملازمین 8 گھنٹے ڈیوٹی نہیں کرتے بلکہ 24 گھنٹے بھی کرنی پڑ جاتی ہے اور کوئی اضافی رقم نہیں دی جاتی۔ ان کو یونین کی ممبر شپ بھی نہیں دی جاتی، جس کے باعث ادارے کے ملازم 60 برس کی عمر کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں تقریباً 25 افراد کو جبراً ریٹائر کردیا ہے، جن کی عمر 51 سے 59 سال تھیں۔ جبکہ کسی بھی طرح سے ملازمین کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے خوف و ہراس میں مبتلا کردیا جاتا ہے کہ وہ قانونی مدد حاصل نہ کریں۔ حکومت پاکستان اور حکومت سندھ کے ارباب اختیار سے مداخلت کی اپیل ہے کہ انتظامیہ سے ان معاملات کی بابت استفسار کیا جائے ورنہ ادارہ حکومتی کنٹرول میں واپس لیا جائے۔
خالد خان کا شفیق غوری کو فون
NLF کے رہنما خالد خان نے SLF کے رہنما شفیق غوری کو فون کرکے مزدور مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ