سیاسی رہنماؤں کو سیکورٹی خدشات ہیں‘ نگراں وزیر داخلہ

54

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) نگران وزیر داخلہ محمد اعظم خان نے کہا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو سیکورٹی خدشات ہیں لیکن ہارون بلور کو کوئی دھمکینہیں ملی تھی‘ امن و امان کے لیے نگران وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہی ہے۔ جمعے کو ایوان بالا میں عام انتخابات 2018ء کے آزادانہ، شفاف اور پرامن انعقاد کے لیے ظاہر ہونے والے خدشات کے بارے میں حکومتی جواب دیتے ہوئے نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے صوبائی حکومت سے سیکورٹی انتظامات کے بارے میں تفصیلات مانگی ہیں‘ پشاور میں جس جلسے میں خودکش حملہ ہوا‘ اس کے لیے اے این پی کی جانب سے اجازت نہیں لی گئی تھی اور نہ ہی خود سیکورٹی کے کوئی انتظامات کیے گئے تھے‘ خفیہ اداروں کو مختلف گروپوں سے تھریٹ مل رہی ہے جس کو نیکٹا میں شیئر کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بیرسٹر سید علی ظفر نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمن کے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا قوانین کے تحت حکومت پیمرا کو کوئی ہدایات جاری نہیں کرسکتی‘ چیئرمین پیمرا اور اس کے ممبران خودمختار ہیں‘ جہاں تک چینلز پر پابندی کا معاملہ ہے‘ میں نے اس حوالے سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی کیونکہ میں اظہار رائے کی آزادی پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔ انہوں نے سینیٹ میں واضح کیا ہے کہ صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے‘ ہمارا کردار اس کی معاونت اور تمام تر وسائل کی فراہمی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ